امریکا نے اسرائیل، لبنان کشیدگی کے مکمل جنگ میں تبدیلی کا خدشہ ظاہر کر دیا

لبنان اور اسرائیل کےدرمیان جاری کشیدگی کو امریکا نےمکمل جنگ کی طرف جانےکا خدشہ ظاہر کردیا ہے۔
امریکی نیشنل سکیورٹی کےترجمان جان کربی نےکہا کہ اسرائیل پر واضح کر چکے ہیں کہ ہم نہیں سمجھتےکہ خطے میں فوجی کشیدگی میں اضافہ کسی بھی طرح اسرائیل کےحق میں بہتر ثابت ہوسکتا ہے۔
جان کربی نےکہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کہتےہیں کہ شمالی اسرائیلی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کی واپسی تک آپریشن جاری رہےگا تاہم انہیں بتاناچاہتے ہیں کہ نیتن یاہو جن لوگوں کو واپس ان علاقوں میں لاناچاہتے ہیں کشیدگی میں اضافہ ان کےحق میں بھی بہتر نہیں ہوسکتا۔
کربی نےکہا لبنان اور اسرائیل کےدرمیان کشیدگی کی صورت حال چند روز قبل کےمقابلے میں اس وقت بہت ہی خراب ہوچکی ہے،لیکن ہمیں اب بھی یقین ہے کہ اس صورتحال کے باوجود بھی مسائل کےسفارتی حل کےلیے وقت اور مواقع ضرور موجود ہوں گے اور ہم اسی پر کام کر رہے ہیں۔
امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل سمیت خطے میں تنازعےاور کشیدگی میں اضافے کےلیے کوشاں ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کےدوران اسرائیل اور لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے، جمعے کےروز بیروت پر اسرائیلی حملے کےنتیجے میں 45 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جب کہ اس سے قبل کمیونیکیشن ڈیوائسز میں دھماکوں کےنتیجے میں لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کےاراکین سمیت 39 سویلینز جاں بحق جب کہ 4 ہزار سےزائد زخمی ہوگئے تھے۔
