امریکا نے ایران کی مشروط مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی اس پیشکش کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ وہ پابندیاں اٹھائے جانے کی شرط کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ کا یہ موقف ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی حالیہ تجویز کے جواب میں سامنے آیا ہے۔


ٹرمپ نے کل رات گئے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ "ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے تاہم وہ پابندیاں اٹھا لیے جانے کا خواہاں ہے .. نہیں ،،، آپ کا شکریہ”۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ امریکی صدر نے یہ ہی ٹویٹ فارسی زبان میں بھی کی۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اتوار کے روز ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ مذکرات کےلیے تیار ہے۔
جواد ظریف کا کہنا تھا کہ "ہمارے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ وائٹ ہاؤس میں کون بیٹھا ہے لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ کیا کردار اختیار کرتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ بھی اپنے ماضی کو درست کرسکتی ہے، وہ ایران پر عائد کردہ پابندیاں ختم کردے اور مذاکرات کی میز پر لوٹ آئے۔ ہم بدستور مذاکرات کی میز ہی پر بیٹھے ہیں ،،، یہ امریکی ہی ہیں جو اس (میز) کو چھوڑ کر گئے تھے”۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات کی تردید کی کہ ان کے ملک نے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ ظریف کا کہنا تھا کہ "ہم جوہری معاہدے کے مطابق عمل پیرا ہیں۔ میں یورپی ممالک کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ اپنی پاسداریوں پر عمل درامد کے خواہش مند ہیں تو ہم فوری طور پر سمجھوتے کے مکمل نفاذ کی جانب لوٹ آئیں گے”۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے مابین عشروں سے جاری کشیدگی اسی مہینے تین جنوری کو اس وقت ایک بار پھر اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی، جب عراقی دارالحکومت میں کیے گئے ایک ڈرون حملے میں امریکا نے ایران کے پاسداران انقلاب کی سپاہ قدس کے جنرل قاسم سلیمانی کو مار دیا تھا۔
اس امریکی کارروائی کے چند روز بعد، جس کی وجہ سے ایران امریکا کشیدگی گزشتہ چند دہائیوں کے دوران اپنی نئی انتہا پر پہنچ گئی تھی، ایران نے عراق میں تعینات امریکی فوجی دستوں کے ایک اڈے پر میزائلوں سے حملے بھی کیے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button