امریکی امن منصوبہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق نہیں

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے مشرق وسطیٰ میں امریکی امن منصوبہ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی منصوبہ "بین الاقوامی سطح پر متفقہ معیارات اور اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا”۔
جوزف بوریل نے مزید کہا کہ یورپی یونین سنہ 1967ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیل کے زیر قبضہ جانے والے عرب علاقوں پر تل ابیب کی خودمختاری تسلیم نہیں کرتا۔ یورپی یونین کا موقف ہے کہ اس جنگ کے بعد قبضے میں لیے گئے علاقے متنازع ہیں اور ان کے مستقبل کا فیصلہ فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حتمی حیثیت کے امور کا فیصلہ دونوں فریقوں کے مابین براہ راست گفت وشنید کے ذریعے کیا جانا چاہیئے۔
یاد رہے رواں ہفتہ اسلامی تعاون تنظیم "او آئی سی” نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کےلیے پیش کردہ نام نہاد امن منصوبے ڈیل آف دی سنچری کو مسترد کردیا تھا۔ سعودی عرب کے شہر جدہ میں منعقدہ 57 مسلمان ممالک کی نمائندہ تنظیم کے وزراء خارجہ اجلاس میں متفقہ طور پر امریکی منصوبے کو فلسطینی قوم اور کاز کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے ناقابل عمل قرار دیا تھا۔ اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں تمام رکن ممالک پر زور دیا گیا تھا کہ وہ امریکی منصوبے کو آگے بڑھانے میں امریکا کی کسی قسم کی مدد نہ کریں۔
اس سے قبل عرب لیگ نے بھی ‘صدی کی ڈیل’ کو مسترد کرتے ہوئے بین الاقوامی معاہدوں اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل پیرا ہونے پر زور دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button