کرونا وائرس سانپوں سے انسانوں میں منتقل ہوا

چین میں کرونا وائرس کے پھیلنے کے بعد کیے جانے والے جنیاتی ٹیسٹوں کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ وائرس پھیلنے کا بنیادی سبب چمگادڑ، بلی یا چوہے کا گوشت نہیں تھا بلکہ سانپوں سے یہ وائرس کسی دوسرے جانور میں گیا اور پھر اس سے انسانوں میں منتقل ہوا۔
کرونا وائرس کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ چینی سانپ، چمگادڑ اور اسی طرح کے دیگر جانور شوق سے کھاتے ہیں اسی لیے وہاں یہ وائرس پھیلا جبکہ سوشل میڈیا ٹرولرز اس سے کچھ ہاتھ آگے جاتے ہوئے اسے اللہ تعالیٰ کا عذاب اور ناجانے کیا کچھ قرار دے چکے ہیں۔ تاہم اب جنیاتی ٹیسٹوں کے بعد یہ بات سامنے آگئی ہے کہ یہ وائرس سانپوں سے انسان میں منتقل ہوا ہے کیونکہ اس کے ابتدائی کیسز ان لوگوں میں سامنے آئے تھے جو ووہان کی مشہور گوشت مارکیٹ میں کام کرتے تھے جہاں سے جانوروں کا گوشت ہوٹلوں کو سپلائی کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ابھی تک حقیقت کی پوری تصویر سامنے نہیں آئی مگر جس طرح بین الاقوامی میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا پر چینیوں کی خوراک کے حوالے منفی رویے کا مظاہرہ کیا گیا وہ شاید کسی امریکی سازش کا حصہ ہو تا کہ چینی معیشت کو تباہ کیا جا سکے۔
اگر اس وقت عالمی میڈیا پر نظر ڈالی جائے تو گنے چنے مستند سائنس چینلز کے علاوہ سب کی خبروں اور پروگراموں سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ’کرونا وائرس‘ کے نتیجے میں اس قدر ہلاکتیں ہوچکی ہیں جتنی عالمی جنگوں میں ہوئیں۔ ویسے تو کسی بھی وبائی مرض کا کسی دوسرے مرض سے موازنہ نہیں کرنا چاہیے، لیکن چونکہ کرونا وائرس سے متعلق غلط افواہیں پھیلائی جارہی ہیں، اس لیے صرف معلومات کے لیے یہاں ماضی قریب اور بعید میں دنیا کے مختلف خطوں میں پھیلنے والی وبائی امراض اور وائرس جیسے ایبولا، سار، کانگو وغیرہ کا ذکر ضروری ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں اموات واقع ہوئیں۔ اگر زیادہ دُور نہیں جانا چاہتے تو امریکا سمیت پوری دنیا میں انفلوئنزا وائرس کی وبا کا ذکر کرتے ہیں، جس سے متعلق امریکا کے سینٹر فار ڈیسز کنٹرول اینڈ پری ونشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک کروڑ سے زائد افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ اموات کی شرح بھی 8 ہزار سے زائد ہے۔
لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اتنی زیادہ ہلاکتوں کے باوجود امریکہ کی صورتحال پر عالمی میڈیا خاموش ہے۔ اب چونکہ پاکستان میں سائنس، تعلیم اور صحت کی اہمیت سب سے کم ہے، اس لیے ہم اس پر اپنی عقل لڑانے کے بجائے وہی سب کچھ کہنا شروع کردیتے ہیں جو عالمی میڈیا میں کہا جارہا ہوتا ہے۔ اگر غیر جانبداری سے چین کے ووہان اور امریکا کے انفلوئنزا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایسا گمان ہوتا ہے جیسے چین کے خلاف سوچے سمجھے منصوبے کے تحت افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button