کرونا وائرس سے پاکستانی تاجروں کا کاروبار متاثر، کروڑوں کا نقصان

چین میں کرونا وائرس پھیلانے کے باعث چین سے درآمدات کا بزنس کرنے والے پاکستانیوں کے کاروبار متاثر ہونا شروع ہو گے ہیں جس کی بنیادی وجہ وہاں سے کنٹینرز کی آمد کا رک جانا ہے۔ چین میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد سے ویسے بھی پاکستان سے تاجر حضرات نے بارڈر پار سنکیانگ جانا بند کر دیا ہے۔ جو پاکستانی تاجر حضرات چین میں موجود تھے وہ یا تو واپس آچکے ہیں یا واپس آنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ویسے بھی وائرس پھیلنے کے بعد چین کے پاکستانی بارڈر سے ملحقہ مسلمان اکثریت کی صوبے سنکیانگ میں زیادہ تر دفاتر بند پڑے ہیں اور کوئی تجارت نہیں ہو پا رہی۔
ایسے ہی ایک متائثرہ پاکستانی تاجر مسعود خان ہیں جن کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ پہلے ان کا موٹریں بنانے کا کارخانہ چین کے شہر تھائسو میں قائم تھا جسے انہوں نے پاکستان منتقل کیا۔ اب چین سے خام مال منگواتے ہیں اور چینی انجینئرز ان کے پاکستان میں موجود کارخانے میں آکر خدمات انجام دیتے ہیں۔ چین میں ان کا دفتر پورا سال کھلا رہتا ہے اور وہ ہر دوسرے مہینے کچھ عرصے کے لیے وہاں جاتے ہیں۔ مسعود خان نے بتایا کہ ’چین میں نئے سال کی چھٹیاں ہونا تھیں اس لیے پندرہ بیس دن پہلے ہی واپس پاکستان آگیا۔ اگر وہاں رک جاتا تو اب تک وہیں پھنسا ہوتا۔ انہون نے بتایا کہ چین کے بیشتر شہروں میں اس وقت کرفیو کا ویسے ہی سماں ہے جیسے کبھی فاٹا میں ہوا کرتا تھا۔‘
مسعود خان نے کہا کہ ’گذشتہ روز چینی حکام کی جانب سے فون آیا تھا، انہوں نے وہاں پر دفتر بند رکھنے اور ملازمین کو چھٹیاں دینے کی ہدایت کی ہے۔ میرے کارخانے میں کام کرنے والے کچھ انجینئرز نے واپس جانا تھا اور کچھ نے وہاں سے آنا تھا اب دونوں اپنی اپنی جگہ پھنس گئے ہیں۔ جو یہاں ہیں ان کا کام ختم ہو چکا ہے اور جن سے کام لینا ہے ان کو وہاں سے سفر کرنے کی اجازت نہیں۔‘ ان کے مطابق ’چینی انجینئرز کو بحریہ ٹاون میں ایک فلیٹ میں رہائش دی ہوئی ہے۔ وہاں کی انتظامیہ نے انہیں تنگ کرنا شروع کردیا کہ ٹیسٹ کرائیں اور سکریننگ کرائیں۔ میں نے ان سے سرکاری احکامات دکھانے کو کہا تو کہنے لگے کہ ایسا احتیاطاً کہا ہے۔ اب وہ چینی واپس جانا چاہ رہے ہیں لیکن ان کے خاندان نے ان کو منع کر دیا ہے کیونکہ موجودہ صورتحال میں تو وہاں غذائی قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔‘
آصف محمود بھی ایک پاکستانی تاجر ہیں اور پنجاب کے شہر راولپنڈی سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ چین سے کھلونے اور کراکری کا سامان درآمد کرتے ہیں۔ ان کے بقول وہ سال میں چار بار چین جاتے ہیں او ہر دفعہ ایک مہینہ قیام کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں چین کی سالانہ چھٹیوں کا پتہ تھا اس لیے دو ماہ کی خریداری کر لی تھی۔ اب اگر صورت حال مزید خراب ہوئی اور وائرس پر قابو نہ پایا جا سکا تو درآمدات پر پابندی لگ سکتی ہے۔ مارکیٹ میں اشیا کم ہوں گی جس کے نتیجے میں کاروبار کا نقصان ہوگا اور مہنگائی بڑھے گی۔‘ آصف محمود نے بتایا کہ شیڈول کے مطابق انہیں بھی 21 فروری کو اگلی خریداری کے لیے چین جانا تھا۔ لیکن اب پروگرام صورت حال کی بہتری تک ملتوی کیا ہے۔ امید ہے کہ مارچ میں چین کورونا وائرس پر قابو پا لے گا جس کے بعد ہی جا سکیں گے۔
ایک اور پاکستانی تاجر شوکت سیالوی فینسی لائٹس اور فانوس کا کاروبار کرتے ہیں۔ وہ بھی سال میں دو دفعہ چین جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’ابھی میرا مارچ میں چین جانے کا پروگرام تھا کہ یہ وبا پھوٹ پڑی۔ اب بندہ جان کا رسک تو نہیں لے سکتا۔ فی الحال پہلے سے آئے مال سے ہی کام چلائیں گے۔ اگلے چکر کے لیے ویزہ وائرس کے بعد ہی لگوائیں گے۔‘
