انضمام الحق ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تنازعات میں کیوں ہیں؟

دنیائے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تنازعات کا انضمام الحق سے چولی دامن کا ساتھ ہے، سابق بلے باز نے پاکستانی ٹیم کے چیف سلیکٹر کے عہدے سے رضاکارانہ استعفیٰ دیا تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کیخلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ورلڈ کپ میں ٹیم کی خراب کارکردگی پر انضام کے رضاکارانہ استعفے کو پی سی بی نے سراہا جبکہ اس کے ساتھ ان کے خلاف تحقیقات کا بھی آغاز کر دیا ہے، ایک طرف انہیں بالواسطہ ٹیم کی ناقص کارکردگی کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری جانب ان پر مفادات کے ٹکراؤ کے بھی الزامات ہیں۔انضمام الحق پر لگنے والے الزامات کافی سنگین ہیں جن کی تحقیقات ہونا ابھی باقی ہے لیکن ان کا استعفیٰ ایک ایسے موقع پر آیا ہے جب پاکستان کرکٹ ٹیم کو ورلڈ کپ میں مسلسل چار شکستیں ہو چکی ہیں اور ٹیم کو سیمی فائنل میں پہنچنے کا سخت چیلنج درپیش ہے۔ایک سو بیس ٹیسٹ اور 378 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے انضمام کی ایک پلیئرز ایجنٹ کمپنی کے ساتھ مبینہ طور پر شراکت داری سامنے آئی ہے جس کی انہوں نے ایک بیان میں تردید کی ہے، یہ پہلا موقع نہیں جب انضمام الحق تنازعات میں گھرے ہوں، ان کا کیریئر ایسے متعدد واقعات سے بھرا پڑا ہے۔2008میں انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل)کے پہلے ایڈیشن سے قبل ایک تنازع اس وقت سامنے آیا جب سابق بھارتی کپتان کپل دیو کی سرپرستی میں انڈین کرکٹ لیگ کو ‘باغی کرکٹ لیگ’ کا نام دیا گیا، اس لیگ میں پاکستانی کرکٹرز پر مشتمل ایک کرکٹ ٹیم لاہور بادشاہ کو شامل کیا گیا تھا جس کے کپتان انضمام الحق تھے۔پاکستان اور انگلینڈ کی سیریز کے دوران تنازعات کا سامنے آنا کوئی نئی بات نہیں لیکن 2006 کی سیریز کے دوران انضمام الحق ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے پہلے کپتان بن گئے تھے جنہوں نے میچ کا نتیجہ فارفیٹ کیا۔جب امپائرز نے پاکستانی بائولرز کی جانب سے گیند سے چھیڑ چھاڑ کے شبے میں انگلینڈ کو پانچ رنز اضافی دیئے تو انضمام پویلین سے باہر نہ آ کر احتجاج ریکارڈ کرایا جس پر امپائرز نے انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا۔90 کی دہائی میں پاکستان اور بھارت نے، کینیڈا میں کرکٹ کے فروغ کے لیے صحارا کپ کے نام سے ایک سیریز کھیلی، اس سیریز میں انضمام کا نشانہ ایک بھارتی نژاد مقامی شیو کمار ٹھنڈ تھے جو میچ کے دوران انہیں میگا فون کے ذریعے’آلو آلو’ کہہ کر مخاطب کر رہے تھے۔جب انضمام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو مداح کی بیٹ سے ٹھکائی شروع کر دی جب پولیس انضمام کو اسٹینڈ سے باہر لا رہی تھی تب بھی وہ تماشائی کو مارنے کے لیے آگے بڑھ رہے تھے۔جب بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کی تاریخ لکھی جائے گی، 2007 میں ویسٹ انڈیز میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کا ذکر ضرور آئے گا جس میں پاکستان کا سفر پہلے ہی راؤنڈ میں ختم ہو گیا تھا، اس ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کی قیادت انضمام الحق ہی کر رہے تھے جسے پہلے میچ میں میزبان ٹیم سے شکست ہوئی اور دوسرے میچ میں آئرلینڈ جیسی کمزور ٹیم نے اپ سیٹ شکست دی۔2020 میں انضمام الحق کو اس وقت سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے پاکستانی اور بھارتی کھلاڑیوں کا موازنہ کرتے ہوئے ایک غیر سنجیدہ کمنٹ پاس کیا۔انضمام نے یہ بیان کیوں دیا اس کا تو علم نہیں لیکن ان کے اس بیان سے سابق کرکٹر دانش کنیریا کے اُس الزام کو تقویت ملتی ہے جس میں انہوں نے پاکستانی کرکٹرز پر الزام لگایا تھا کہ وہ غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Back to top button