لاہور میں پنکی کس کے گھر میں مقیم تھی؟ حقائق سامنے آ گئے

منشیات فروشی کے مقدمے میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے حوالے سے تحقیقات میں مزید اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق انمول پنکی لاہور میں کرائے کے ایک گھر میں رہائش پذیر تھی، جبکہ اس کے مبینہ نیٹ ورک، مالی معاملات اور سہولت کاروں سے متعلق بھی نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پنکی نے لاہور میں 5 مرلے کا ایک گھر کرائے پر حاصل کیا تھا۔ گھر کا کرایہ نامہ 300 روپے کے اسٹامپ پیپر پر 11 ماہ کیلئے تیار کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ پنکی نے اپنے نام کے بجائے طاہر نامی شخص کے نام پر کروایا۔ انمول پنکی یکم اگست 2025 سے مذکورہ گھر میں مقیم تھی۔ اس نے ایڈوانس کی مد میں 90 ہزار روپے ادا کیے جبکہ ماہانہ کرایہ 45 ہزار روپے طے پایا تھا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ چھاپے کے وقت گھر میں پنکی کے والدین اور دو بچے بھی موجود تھے۔ گرفتاری کے بعد سے گھر کو تالے لگے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب منشیات کیس میں گرفتار انمول عرف پنکی کے موبائل فون کی فرانزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد اس کے مبینہ نیٹ ورک کے حوالے سے مزید اہم انکشافات ہوئے ہیں۔ملزمہ کے موبائل فون سے مجموعی طور پر 869 رابطہ نمبرز حاصل کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق نیٹ ورک صرف کراچی تک محدود نہیں بلکہ اس کے روابط افریقی ممالک تک پھیلے ہوئے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق اس مبینہ نیٹ ورک میں تقریباً 300 افراد مختلف منشیات سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ حاصل شدہ نمبرز میں سے 132 کا تعلق کراچی سے ہے جبکہ دیگر نمبرز مختلف شہروں اور بیرون ملک سے منسلک پائے گئے۔ بعض افریقی باشندے بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں جو لاہور میں مقیم ہیں۔ اب تک 240 نمبرز کی لوکیشن ٹریس کی جا چکی ہے جبکہ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نیٹ ورک میں 20 خواتین بھی شامل ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ دوران تفتیش بعض افراد کے نام ظاہر کر رہی ہے جبکہ کچھ معلومات اب بھی چھپائی جا رہی ہیں۔ تمام شواہد کی تصدیق کے بعد مزید نام سامنے لائے جائیں گے۔حکام کے مطابق اگر کسی سرکاری افسر یا بااثر شخصیت کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں نیٹ ورک سے وابستہ 4 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پنکی نے منشیات کی ترسیل کیلئے 9 رائیڈرز رکھے ہوئے تھے، جن میں سے 8 کا تعلق پنجاب سے تھا۔ مزید تحقیقات کیلئے پنجاب پولیس سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔ ملزمہ کی مالی سرگرمیوں کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔ ایک بینک اکاؤنٹ میں 500 صفحات پر مشتمل ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں، جن میں سب سے زیادہ لین دین ایک شخص “لاہور اینہ” کے نام سے منسلک پایا گیا۔

ادھر تفتیشی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر اور اے این ایف اہلکار بھی مبینہ طور پر ملزمہ کے سہولت کار رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے ایک سینئر پولیس افسر نے ماضی میں درج مقدمات میں مبینہ طور پر پنکی کی مدد کی جبکہ کمزور تفتیش اور ناقص کیسز کی وجہ سے ملزمہ کو 9 مقدمات میں عدالت سے بریت ملی۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ جب پنکی کے منشیات سپلائی کرنے والے رائیڈرز گرفتار ہوئے تو پولیس نے مبینہ طور پر کیسز کمزور بنائے، جس کے نتیجے میں ملزمہ اور اس کے ساتھی رہا ہو گئے۔تفتیشی ذرائع کے مطابق پنکی نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وفاقی انسدادِ منشیات فورس (اے این ایف) کے انسپکٹر احسان نے اس کے بھائی ناصر کو کئی بار حراست میں لیا لیکن مبینہ طور پر بھاری رشوت لے کر چھوڑ دیا۔ملزمہ کے مطابق اے این ایف اہلکاروں کو اب تک تقریباً ایک کروڑ 5 لاکھ روپے رشوت دی جا چکی ہے۔

انمول پنکی نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کے سابق شوہر رانا ناصر کے بھائی رانا منصور ایڈووکیٹ اور رانا شہزور عرف سلطان کراچی میں منشیات کے کاروبار سے وابستہ ہیں جبکہ رانا ناصر منشیات مختلف وکلا کے دفاتر اور چیمبرز میں رکھتا تھا۔ملزمہ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ درخشاں، گذری اور بوٹ بیسن تھانوں کو مبینہ طور پر لاکھوں روپے رشوت دی جاتی رہی ہے۔

Back to top button