عوام پر پٹرول بم گرانے کے بعد نئے ٹیکسوں کا بم گرانے کی تیاری

وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنے کے بعد عوام پر مہنگائی کا نیا بم گرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ وفاقی حکومت نے انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ سے مزید قرض لینے کی خاطر اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں جس کے نتیجے میں مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام پر 11 نئے ٹیکس اور سخت معاشی شرائط عائد ہونے جا رہی ہیں۔ ان شرائط پر عملدرآمد کی صورت میں پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا شکار عوام کیلئے زندہ رہنا مزید دشوار ہو جائے گا، جبکہ گیس، بجلی اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں ایک نئی لہر آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
آئی ایم ایف کی تازہ جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کیلئے قرض پروگرام برقرار رکھنے کیلئے حکومت کو توانائی، ٹیکس اور احتسابی نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کرنا ہوں گی۔ ان نئی شرائط کے بعد آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مجموعی شرائط کی تعداد 55 تک پہنچ گئی ہے، جسے مبصرین پاکستان کی معاشی خودمختاری پر مزید دباؤ قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کو جولائی 2026 اور فروری 2027 میں گیس ٹیرف میں اضافہ کرنا ہوگا جبکہ جنوری 2027 میں بجلی کی قیمتوں میں بھی ردوبدل کیا جائے گا۔ بظاہر ان فیصلوں کا مقصد گردشی قرضے پر قابو پانا اور توانائی کے شعبے کے خسارے کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس کا سارا بوجھ براہِ راست عام آدمی پر منتقل ہوگا۔ پہلے ہی بجلی اور گیس کے بلوں سے پریشان عوام کیلئے یہ اضافہ ناقابلِ برداشت ثابت ہو سکتا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نئے ٹیکسوں کے ذریعے عوام کی جیبوں سے مزید اربوں روپے نکالنے کی تیاری کر رہی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے بجٹ میں سیلز ٹیکس، پٹرولیم لیوی، بجلی سرچارجز اور دیگر بالواسطہ ٹیکسوں میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی کی نئی لہر پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ آٹا، چینی، گھی، ادویات اور ٹرانسپورٹ سمیت ہر چیز مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ دوسری جانب حکومت پہلے ہی خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کو جواز بناتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کر چکی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ کو بنیاد بنا کر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تقریباً دوگنی سطح تک پہنچا دی گئی ہیں، جبکہ شہریوں سے فی لیٹر تقریباً 145 روپے مختلف ٹیکسوں، لیوی اور ڈیوٹیوں کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔
ناقدین کے مطابق حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کو عوام کیلئے ریلیف دینے کے بجائے ٹیکس وصولی کا سب سے بڑا ذریعہ بنا دیا ہے، جس کے اثرات براہِ راست ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش اور روزمرہ زندگی کی تمام بنیادی ضروریات پر پڑ رہے ہیں۔
اگرچہ آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے مہنگائی میں کمی، زرمبادلہ ذخائر میں بہتری اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو محدود رکھنے میں کچھ پیش رفت کی ہے، تاہم اس کے باوجود عالمی ادارے نے پاکستانی معیشت کو اب بھی شدید خطرات سے دوچار قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں خاص طور پر ایران اور خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کو پاکستان کیلئے بڑا معاشی خطرہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے پاکستان پر درآمدی بل اور مہنگائی کا دباؤ کئی گنا بڑھ جائے گا۔
آئی ایم ایف کی جائزہ رپورٹ میں نیب کو مزید خودمختار اور شفاف بنانے کی شرط بھی شامل کی گئی ہے تاکہ احتسابی عمل کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کیا جاسکے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ عوامی ریلیف کا ہے، جس پر حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے دونوں کی توجہ کم دکھائی دیتی ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومت اس وقت ایک مشکل دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے تاکہ بیرونی قرضوں اور معیشت کا نظام چلتا رہے، جبکہ دوسری طرف مسلسل بڑھتے ٹیکس، مہنگی بجلی، گیس اور پٹرول نے عام شہری کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ متوسط اور غریب طبقہ پہلے ہی اپنی آمدنی کا بڑا حصہ یوٹیلیٹی بلوں اور اشیائے خوردونوش پر خرچ کرنے پر مجبور ہے، ایسے میں نئے ٹیکس عوام کا “معاشی کباڑا” نکال سکتے ہیں۔
آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈکپ اور آئرلینڈ میں تین ملکی سیریز کےلیے پاکستان ویمن ٹیم کا اعلان
ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر نئے آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ مہنگائی، ٹیکسوں اور یوٹیلیٹی نرخوں میں اضافے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جبکہ عوام کو ریلیف دینے کے دعوے صرف بیانات تک محدود رہ جاتے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ممکن نہیں، اس لئے سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔
مبصرین کے مطابق آنے والا وفاقی بجٹ پاکستان کی معیشت اور عوام دونوں کیلئے فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ یہ بجٹ نہ صرف حکومت کی معاشی پالیسیوں کا امتحان ہوگا بلکہ اس سے یہ بھی طے ہوگا کہ ملک معاشی استحکام کی طرف بڑھتا ہے یا مہنگائی، بے چینی اور مالی بحران کی دلدل مزید گہری ہو جاتی ہے۔
