مسلم ممالک کو آپس میں لڑانے کی سازش کون کر رہا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے نازک ترین موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے، جہاں سفارتی بیانات، خفیہ ملاقاتوں کی خبریں اور میڈیا رپورٹس مسلم دنیا کے اتحاد پر سوالیہ نشان بناتی نظر آ رہی ہیں۔ اسرائیلی اور مغربی میڈیا میں گردش کرنے والی حالیہ خبروں نے نہ صرف خلیجی ممالک کے درمیان بے چینی پیدا  کر رکھی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ محض سفارتی اختلافات ہیں یا پھر مسلم ممالک کو ایک دوسرے کے مقابل لانے کی کوئی منظم کوشش کی جا رہی ہے؟ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر اور ایران سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے خطے کی سیاست کو مزید حساس بنا دیا ہے، جبکہ بعض حلقے اسے ایک سوچی سمجھی معلوماتی جنگ قرار دے رہے ہیں جس کا مقصد مسلم دنیا میں بداعتمادی کو ہوا دینا ہے۔

دنیا بھر میں سیاسی اور سفارتی محاذ پر جاری کشمکش کے دوران مسلم ممالک ایک مرتبہ پھر عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ حالیہ دنوں اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس نے خلیجی ممالک کے تعلقات سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ خاص طور پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مبینہ خفیہ دورے اور ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی سے متعلق خبروں نے خطے میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا کہ امارات نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تجویز دی، تاہم سعودی عرب، قطر اور دیگر خلیجی ممالک نے اس کی حمایت سے انکار کر دیا۔ ان رپورٹس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور مختلف حلقوں نے اسے مسلم ممالک کو ایک دوسرے سے بدظن کرنے کی سازش قرار دیا۔

سابق سفارتی عہدیداروں اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بعض عالمی میڈیا ادارے خطے کے حساس معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی خبریں نہ صرف غلط فہمیاں پیدا کرتی ہیں بلکہ مسلم دنیا کے اتحاد کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ خاص طور پر اسرائیلی میڈیا میں آنے والی رپورٹس نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ خلیجی ممالک آپس میں شدید اختلافات کا شکار ہیں۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے بھی بعض خبروں پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اماراتی حکام نے اسرائیل کو سفارتی سطح پر احتجاج ریکارڈ کروایا اور اسے حساس سفارتی معاملات کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اماراتی سفیر محمد الخجہ نے یہ پیغام اسرائیلی قومی سلامتی کونسل کے حکام تک پہنچایا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کے مفادات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ایسے میں اگر میڈیا رپورٹس بغیر تصدیق کے پھیلائی جائیں تو وہ خطے میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان اعتماد، محتاط سفارت کاری اور مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

بعض حلقوں کے نزدیک یہ صورتحال صرف سفارتی تنازع نہیں بلکہ ایک “اطلاعاتی جنگ” ہے، جہاں میڈیا بیانیے کے ذریعے ریاستوں کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی سطح پر بھی یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ آیا مسلم دنیا واقعی تقسیم کا شکار ہو رہی ہے یا پھر اسے تقسیم دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔حقیقت کچھ بھی ہو، ایک بات واضح ہے کہ موجودہ حالات میں مسلم ممالک کے لیے اتحاد، دانشمندانہ سفارت کاری اور میڈیا بیانیوں کا محتاط جائزہ ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ غلط معلومات اور سیاسی پروپیگنڈا کسی بھی خطے کے امن و استحکام کو متاثر کر سکتا ہے۔

Back to top button