سول بیوروکریسی کیلئے اثاثوں کا افشا لازمی قرار،سوشل میڈیا سرگرمیوں پر نئی پابندیاں عائد

حکومت نے سرکاری افسران کیلئے 62 سالہ پرانے ضابطوں کی جگہ نئے سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت اثاثوں کی تفصیلات ظاہر کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے جبکہ احتساب، مالی شفافیت اور سوشل میڈیا استعمال سے متعلق سخت قواعد بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، 1964 کے پرانے قواعد کے مقابلے میں نئے ضابطے زیادہ سخت اور جدید طرز حکمرانی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں۔ نئے قوانین میں سیاسی سرگرمیوں، سرکاری معلومات کے غیر مجاز افشا، اقربا پروری اور اختیارات کے غلط استعمال پر پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں، تاہم احتساب اور شفافیت کیلئے کئی نئی شقیں شامل کی گئی ہیں۔اہم تبدیلی کے تحت گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے سالانہ اثاثہ جات، ذاتی حساس معلومات حذف کرنے کے بعد، عوامی سطح پر جاری کیے جائیں گے۔ اس سے قبل یہ گوشوارے صرف ادارہ جاتی ریکارڈ تک محدود رہتے تھے۔
نئے قواعد کے مطابق سینئر افسران کو ہر سال 30 اکتوبر تک اپنے اثاثوں کی ڈیجیٹل تفصیلات جمع کرانا ہوں گی، جن کی جانچ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کرے گا۔ کسی بھی غلط بیانی، کمی یا غیر واضح مالی اضافے کی صورت میں متعلقہ افسر سے وضاحت طلب کی جا سکے گی۔پہلی مرتبہ افسران کو کرپٹو کرنسی سمیت بینک اکاؤنٹس، شیئرز، سیکیورٹیز، انشورنس پالیسیوں اور 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے زیورات بھی ظاہر کرنا ہوں گے۔
نئے ضابطوں میں مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق جامع نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت افسران کو اپنے ذاتی یا خاندانی مفادات ظاہر کرنا ہوں گے تاکہ سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے والے معاملات سے بچا جا سکے۔سوشل میڈیا اور آن لائن سرگرمیوں سے متعلق بھی نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ سرکاری افسران پیشگی اجازت کے بغیر ویب سائٹس، یوٹیوب چینلز، بلاگز یا پوڈکاسٹس نہیں چلا سکیں گے جبکہ سرکاری مراعات یا کام کو ذاتی تشہیر کیلئے استعمال کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔
حکومت نے تحائف اور مہمان نوازی سے متعلق قواعد بھی مزید سخت کر دیے ہیں۔ افسران اور ان کے اہل خانہ کو غیر ملکی حکومتوں، کمپنیوں یا افراد سے تحائف لینے کی اجازت نہیں ہوگی، سوائے ان صورتوں کے جو توشہ خانہ قوانین کے تحت مجاز ہوں۔نئے قواعد میں افسران کو اپنی ظاہر کردہ آمدن سے بڑھ کر طرز زندگی اختیار نہ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ غیر معمولی اخراجات کی صورت میں وضاحت طلب کی جا سکے گی۔
حکام کے مطابق، سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 گزشتہ کئی دہائیوں میں سول سروس کے احتسابی اور اخلاقی نظام میں سب سے بڑی اصلاحات تصور کیے جا رہے ہیں، جن میں مالی شفافیت، ڈیجیٹل نگرانی اور جدید احتسابی تقاضوں پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔
