ایران یواےای اختلافات: برکس اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہوسکا

برکس گروپ کے رکن ممالک ایران اور متحدہ عرب امارات (یواےای )کے باہمی اختلافات کے باعث برکس وزرائے خارجہ اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوگیا، جس کے باعث مشترکہ اعلامیہ بھی جاری نہیں کیا جاسکا۔
نئی دہلی بھارت میں ہونے والا برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ختم ہوگیا تاہم اس اہم اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ اختلافات کی نذر ہوگیا۔اجلاس میں میزبان بھارت کے علاوہ متحدہ عرب امارات، ایران،روس،چین، جنوبی افریقا اور برازیل کے وزرائے خارجہ شریک تھے۔
عالمی خبر رساں ادارے کےمطابق نئی دہلی میں ہونےوالے اجلاس کے اختتام پر میزبان ملک بھارت نے مشترکہ بیان کے بجائے ایک صدارتی اعلامیہ جاری کیا،جس میں اختلافات کی نشاندہی کی گئی۔
ایران نے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اتحاد برکس سے مطالبہ کیاکہ وہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کی مذمت کرے،جب کہ امریکا کے اتحادی یواےای پر ایران نے اپنے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔
بھارت کی جانب سے جاری بیان اور اجلاس کی دستاویز میں کہاگیا کہ مغربی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال پر بعض رکن ممالک کے درمیان مؤقف میں اختلاف پایاگیا،ان آرا میں جلد از جلد بحران کےحل،مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت اور خود مختاری و علاقائی سالمیت کے احترام جیسے نکات شامل تھے۔
اعلامیے میں یہ بھی کہاگیا کہ مذاکرات کے دوران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، عالمی آبی راستوں میں سمندری آمدورفت کی آزادی اور شہری انفراسٹرکچر و انسانی جانوں کے تحفظ پر زور دیاگیا۔
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے پریس کانفرنس کےدوران، کسی ملک کا نام لیے بغیر کہاکہ برکس کے ایک رکن نے بیان کےبعض حصوں کو روکا،ہمارا اس ملک سے کوئی اختلاف نہیں،وہ موجودہ جنگ میں ہمارا ہدف نہیں تھا،ہم نے صرف ان امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایاجو بدقسمتی سے اس کی سر زمین پر موجود ہیں۔
یواےای نے بعد ازاں وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں کہاکہ وہ اپنی خود مختاری، قومی سلامتی یا آزادانہ فیصلوں کو متاثر کرنےوالے کسی بھی الزام یا دھمکی کو قطعی طور پر مسترد کرتاہے۔امارات ’کسی بھی دھمکی، دعوے یا جارحانہ اقدام کےخلاف اپنے تمام خود مختار،قانونی،سفارتی اور فوجی حقوق محفوظ رکھتا ہے۔
اسرائیل – لبنان جنگ بندی میں مزید 45 دن کی توسیع
یواےای کے نائب وزیرخارجہ اور برکس اجلاس میں نمائندہ خلیفہ بن شاہین المرر نے کہاکہ 28 فروری 2026 سے امارات کو ایران کی جانب سے بار بار غیرضروری اور دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا،جن میں براہِ راست شہری تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایاگیا۔
اماراتی نائب وزیر خارجہ نے ایران پر بین الاقوامی سمندری راستوں میں رکاوٹ ڈالنے کا بھی الزام لگایا،جن میں آبنائے ہرمز کی عملی بندش بھی شامل ہے، یواےای کسی سے تحفظ کا انتظار نہیں کرتا اور نہ ہی اس معاملے میں کسی کی معاونت کا منتظر ہے بلکہ خود ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
