اسرائیل – لبنان جنگ بندی میں مزید 45 دن کی توسیع

امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہےکہ اسرائیل اور لبنان کے مابین واشنگٹن میں ہونےوالے دو روزہ مذاکرات کے بعد جنگ بندی میں مزید 45 دن کی توسیع پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کےمطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پگوٹ نے بتایاکہ مذاکرات انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز رہے۔فریقین جنگ بندی برقرار رکھنے پر آمادہ ہوگئے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پگوٹ نے بتایا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا اگلا مرحلہ 2 اور 3 جون کو ہوگا جب کہ 29 مئی کو پینٹاگون میں دونوں ممالک کے فوجی وفود کے درمیان سکیورٹی مذاکرات شروع کیےجائیں گے۔
ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہاکہ جنگ بندی میں توسیع خطے میں استحکام کےلیے اہم قدم ہے۔
واشنگٹن میں مذاکرات کےبعد لبنانی وفد نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ جنگ بندی سے پیدا ہونے والی پیش رفت کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ جنگ بندی میں توسیع اور امریکا کی سہولت کاری سے قائم ہونےوالا سکیورٹی فریم ورک ہمارے شہریوں کےلیے اہم مہلت فراہم کرےگا،ریاستی اداروں کو مضبوط بنائے گا اور دیرپا استحکام کی جانب سیاسی راستہ ہموار کرےگا۔
خون کے آخری قطرے تک ایران کی سالمیت کا دفاع کریں گے: ایرانی آرمی چیف
واضح رہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی پہلی بار 16 اپریل 2026 کو امریکی ثالثی میں ہی عمل میں آئی تھی۔یہ 10 روزہ سیز فائر تھا جس کے اختتام پر تین ہفتوں کی توسیع کی گئی تھی۔جس کےبعد سے امریکا میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے دور ہوئے جس میں امریکی وزارت خارجہ نے کلیدی کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کو مزید 45 دن کی توسیع پر راضی کرلیا۔
خیال رہےکہ اسرائیل اور لبنان کےدرمیان جنگ بندی معاہدے میں حزب اللہ نے اب تک براہ راست مذاکرات میں شرکت نہیں کی ہے اور ہتھیار ڈالنےسے بھی انکار کیا ہےحالانکہ وہ لبنانی پارلیمان کا حصہ بھی ہیں۔
