کیا واقعی پاکستان میں قسطوں پر سستی گاڑیاں ملنے والی ہیں؟

پاکستان میں مہنگائی، بلند شرح سود اور گاڑیوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے متوسط طبقے کیلئے نئی گاڑی خریدنا تقریباً ناممکن بنا دیا تھا لیکن اب وفاقی حکومت کی مجوزہ آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2026–31 ایک نئی امید بن کر سامنے آ رہی ہے۔ حکومت نہ صرف عوام کو آسان اقساط اور کم ڈاؤن پیمنٹ پر گاڑیاں فراہم کرنے کی تیاری کر رہی ہے بلکہ آٹو کمپنیوں کی من مانی روکنے، گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لانے اور الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کیلئے بھی بڑے اقدامات زیر غور ہیں۔ اگر یہ پالیسی مکمل طور پر نافذ ہو گئی تو پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں ایک نئی تبدیلی آ سکتی ہے، جہاں عام شہری بھی باآسانی اپنی گاڑی خریدنے کا خواب پورا کر سکے گا۔

وفاقی حکومت نے ملک میں آٹو انڈسٹری کی ترقی اور عوام کیلئے گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کیلئے نئی آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2026–31 پر کام تیز کر دیا ہے۔ مجوزہ پالیسی میں ایسی متعدد اصلاحات شامل ہیں جن کا مقصد نہ صرف گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لانا ہے بلکہ متوسط طبقے کو بینک فنانسنگ کے ذریعے آسان اقساط پر گاڑیاں فراہم کرنا بھی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت اسٹیٹ بینک، کمرشل بینکوں اور آٹو سیکٹر کے ساتھ مسلسل مشاورت کر رہی ہے تاکہ کار فنانسنگ کو زیادہ مؤثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت گاڑیوں کی فنانسنگ مدت کو بڑھا کر 7 سال تک کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جس سے ماہانہ اقساط کم ہو جائیں گی اور عام شہریوں کیلئے نئی گاڑی خریدنا نسبتاً آسان ہو جائے گا۔اسی طرح گاڑی خریدنے کیلئے ابتدائی ادائیگی یعنی ڈاؤن پیمنٹ کو کم کر کے صرف 15 فیصد تک لانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان افراد کو سہولت فراہم کرنا ہے جو محدود بچت کی وجہ سے نئی گاڑی خریدنے سے محروم رہتے ہیں۔

حکومت مقامی سطح پر تیار کی جانے والی گاڑیوں کیلئے قرض کی حد ایک کروڑ روپے تک بڑھانے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ شہری مہنگی گاڑیوں کیلئے بھی آسانی سے بینک فنانسنگ حاصل کر سکیں۔ ماہرین کے مطابق اس سے نہ صرف گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوگا بلکہ آٹو انڈسٹری کی پیداوار بھی بڑھے گی۔مجوزہ پالیسی میں صارفین کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ حکومت نے آٹو کمپنیوں کی اضافی قیمت وصول کرنے اور تاخیر سے گاڑی فراہم کرنے کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے نئی شرائط تجویز کی ہیں۔ ان کے مطابق بکنگ کے وقت گاڑی کی قیمت فکس کر دی جائے گی تاکہ بعد میں قیمت بڑھانے کا جواز نہ رہے۔ اس کے علاوہ اگر کمپنی 30 دن کے اندر گاڑی فراہم نہ کر سکی تو اسے خریدار کو KIBOR + 3 فیصد کے حساب سے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔اسی طرح کمپنیوں کو بکنگ کے وقت گاڑی کی کل قیمت کا صرف 20 فیصد وصول کرنے کی اجازت دینے کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ صارفین پر اضافی مالی دباؤ نہ پڑے۔

حکومت درآمدی گاڑیوں اور آٹو پارٹس کے نظام میں بھی بڑی تبدیلیاں لانے پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق 2030 تک ٹیرف پریمیم کو مرحلہ وار ختم کرنے جبکہ CKD پرزہ جات پر ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد تک لانے کی تجویز زیر غور ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درآمدی ڈیوٹی اور ٹیکس کم ہوتے ہیں تو مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی لاگت میں واضح کمی آ سکتی ہے، جس کا براہ راست فائدہ صارفین کو ملے گا۔نئی آٹو پالیسی میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ حکومت نے ہدف مقرر کیا ہے کہ 2031 تک پاکستان کی سڑکوں پر چلنے والی 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک یا نیو انرجی وہیکلز پر مشتمل ہوں۔ اس مقصد کیلئے ملک بھر میں 3 ہزار الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے جبکہ موٹرویز اور شاہراہوں پر ٹول ٹیکس میں رعایت دینے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں تاکہ شہری زیادہ سے زیادہ الیکٹرک گاڑیوں کی طرف راغب ہوں۔حکومت نے نئی پالیسی کے ذریعے سالانہ گاڑیوں کی پیداوار 5 لاکھ یونٹس تک بڑھانے، آٹو ایکسپورٹس کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے اور مقامی آٹو پارٹس انڈسٹری کو مضبوط بنانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ پالیسی مؤثر انداز میں نافذ ہو جاتی ہے تو پاکستان میں نہ صرف گاڑیاں نسبتاً سستی ہو سکیں گی بلکہ آٹو انڈسٹری، روزگار اور برآمدات کے شعبے میں بھی نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اور صنعت دونوں اس نئی پالیسی کو امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔

Back to top button