آمریت اور بگولوں کی نقصان آور فصل

 

 

 

 

تحریر: وجاہت مسعود

بشکریہ: روزنامہ جنگ

 

اپریل 1957ءمیں پاکستان کا پہلا دستور نافذ ہوئے ایک برس گزرا تھا۔ حسین شہید سہروردی ستمبر 1956 ءسے وزیراعظم تھے تاہم صدر اسکندر مرزا فوج کے سربراہ ایوب خاں کے ساتھ نادیدہ گٹھ جوڑ کے ذریعے 1951ءسے ملک کے سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ علامہ اقبال کے فرزند جاوید اقبال اپنی خودنوشت سوانح ’اپنا گریبان چاک‘ میں لکھتے ہیں کہ وہ برطانیہ میں قانون کی تعلیم پانے کے بعد پاکستان لوٹے تو اپریل 57ء میں یوم اقبال کی تقریب کیلئے کراچی گئے جہاں انہیں صدر اسکندر مرزا نے ملاقات کیلئے مدعو کیا۔ا سکندر مرزا نے انہیں معاہدہ بغداد کے سیکرٹریٹ سے منسلک ہو کر بغداد جانے کی پیشکش کی۔

 

جاوید اقبال نے کہا کہ وہ فی الحال پاکستان سے باہر جانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اسکندر مرزا نے پوچھا کہ تو پھر تم کیا کرنا پسند کرو گے۔ جاوید اقبال کے بقول انہوں نے کہا کہ ’1956 ءکے آئین میں آپ نے اسلامی قوانین کے نفاذ کی سفارشات کیلئے ایک کمیشن کا اعلان کیا ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے اس کمیشن سے منسلک کر دیجئے۔ ممکن ہے میں کوئی کارآمد خدمت انجام دے سکوں‘۔ یہ سن کر اسکندر مرزا ہنس کر بولے ’مگر وہ کمیشن تو آئینی تقاضے پورے کرنےکیلئے قائم کیا ہے، اسے نہ تو کوئی کام کرنا ہے، نہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ کوئی کام کرے۔‘ جاوید اقبال 1956 ءکے دستور کی شق 198 کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ یہ پاکستان کے دستوری ڈھانچے میں پیشوائیت کی باقاعدہ مداخلت کا نقطہ آغاز تھا۔ تاہم اس کمیشن کے بارے میں دستور کے خالق اسکندر مرزا کی رائے آپ نے پڑھ لی۔ ٹھیک پانچ برس بعد مارچ 1962 میں ایوب خاں نے ملک کو ایک نیا دستور عطا کیا جسکے آرٹیکل 199 کے مطابق اسلامی نظریے کی ایک مشاورتی کونسل قائم ہونا تھی جو مسلمانان پاکستان کو اپنی زندگیاں اسلامی اصولوں و تصورات میں ڈھالنےکیلئے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو سفارشات پیش کرے۔ اس دستور میں بھی مجوزہ نظریاتی کونسل کا اختیار صدر، گورنر یا اسمبلیوں کی طرف سے بھیجے گئے سوالات تک محدود تھا۔ اس کونسل کی سفارشات پر عمل کرنا بھی سوال کنندہ اتھارٹی کیلئے لازم نہیں تھا۔ 1973 کا قانون منظور ہوا تو اس کی شق 228 سے 231 تک اسلامی احکامات سے متعلقہ معاملات شامل ہیں۔ دستور کے آرٹیکل 230 کی ذیلی شق 4 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اسلامی کونسل اپنے تقرر سے سات برس کے اندر اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی۔ 1973 کے آئین میں اسلامی نظریاتی کونسل کے بارے میں کہیں پر ’مستقل‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ ایک قابل غور آئینی نکتہ یہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل سے مشاورت کا اختیار صدر، گورنر اور تمام اسمبلیوں کو حاصل ہے۔ تاہم اگر سپریم کورٹ سے کسی آئینی معاملے پر رائے لینا ہو تو اس کیلئے ریفرنس بھیجنے کا اختیار صرف صدر مملکت کو حاصل ہے۔ ہماری تاریخ پیچ دار ہے۔

 

1973 کا دستور منظور کرنے والی پارلیمان کو کیا معلوم تھا کہ صرف چار برس بعد جولائی 1977 میں ملک پر مارشل لا کی رات دوبارہ مسلط ہو جائیگی۔ تب نہ کوئی اسمبلی ہو گی اور نہ منتخب صدر یا گورنر کا کوئی وجود ہو گا۔ 1977 کا مارشل لا آٹھ برس طویل تھا اور سپریم کورٹ نے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو دستور میں ترمیم کا اختیار بخش دیا تھا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کیلئے طے شدہ سات برس گزر گئے اور خود ساختہ صدر پاکستان جنرل ضیا الحق اسلامی نظریاتی کونسل کی میعاد میں اضافہ کرتے رہے۔ 1989 میں اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل نو ہوئی تو سید افضل حیدر بھی اس کے رکن مقرر ہوئے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے ارتقائی سفر اور کارکردگی پر سید افضل حیدر کی گراں قدر تصنیف سند کا درجہ رکھتی ہے۔ اس زمانے میں نظریاتی کونسل کی میعاد کے بارے میں وزارت قانون اور وزارت مذہبی امور سے اسلامی نظریاتی کونسل کا بحث مباحثہ جاری تھا۔ سوال یہ تھا کہ کونسل کی حتمی رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد اس کا آئینی جواز قائم رہے گا یا نہیں۔ اس سوال کا جواب مدون کرنے کی ذمہ داری سید افضل حیدر کو سونپی گئی جنہوں نے جنوری 1991 میں ایک مفصل تحریر کونسل کے سامنے پیش کی جسے جملہ فریقین نے منظور کر لیا۔ سید افضل حیدر کا مؤقف تھا کہ ملک میں قانون سازی ایک مستقل عمل ہے چنانچہ موجودہ اور آئندہ قوانین پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائزہ لینا بھی ایک مستقل عمل ہے۔ کئی برس بعد 1996 میں اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی حتمی رپورٹ پیش کر دی لیکن اسلامی نظریاتی کونسل بدستور موجود ہے۔ اگست 2025 میں جہلم کے ایک شہری محمد علی مرزا کے کچھ بیانات پر سائبر کرائم کی قومی تحقیقاتی ایجنسی نے اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کیا اور ستمبر 2025 میں نظریاتی کونسل نے محمد علی مرزا کو توہین مذہب کا مرتکب قرار دے دیا۔

 

اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی جسکے جواب میں جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ دیا کہ نظریاتی کونسل کو کسی شہری کے مجرمانہ مواخذے کا اختیار حاصل نہیں ہے اور نہ ہی دستور میں بیان کردہ صاحبان اختیار کے سوا کوئی تحقیقاتی ادارہ کونسل سے رجوع کر سکتا ہے۔ گزشتہ باون برس میں اسلامی نظریاتی کونسل کی جملہ سفارشات کی مکمل تفصیل دستاویزی فہرست کی صورت میں موجود ہے اور اس پر ایک نظر ڈالنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کونسل کی سفارشات مضحکہ خیز حد تک قدامت پسند اور عصری تقاضوں سے غیر متعلق رہی ہیں۔

 

سوال یہ ہے کہ یہ کونسل کبھی مستقل آئینی درجہ ہی نہیں رکھتی تھی اور نہ اس کی مدد سے منتخب پارلیمنٹ پر مذہبی پیشواؤں کی بالادستی قائم کرنا مقصود تھا۔ حتیٰ کہ اس کے ارکان کیلئےمسلم ہونے کی شرط بھی موجود نہیں۔ کیا جسٹس کیانی کے فیصلے کے بعد یہ سوال جائز قرار نہیں پائے گا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی حتمی رپورٹ پیش ہونے کے بعد اس کے وجود کا آئینی جواز کیا ہے؟ خاص طور پر اس صورت میں کہ مذہبی حلقوں نے اس ادارے کو سیاسی بلیک میلنگ کا ہتھیار بنا رکھا ہے۔ ہم نے سات عشرے قبل دستور میں کم نظری کی آندھیاں بوئی تھیں اور اب ہم بگولوں کی نقصان آور فصل کاٹ رہے ہیں۔

 

 

Back to top button