امریکہ اور ایران کے مابین ڈیل کہاں پر پھنسی ہوئی ہے؟

ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کے باوجود ابھی تک امن معاہدہ اس لیے نہیں ہو پایا کہ امریکی صدر اور ایرانی سپریم لیڈر پاکستانی ثالثی کے باوجود ایسی ڈیل پر متفق نہیں ہو پائے جسے وہ اپنے اپنے ملکوں میں جیت کے طور پر پیش کر سکیں۔ ایک طرف صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے عوام کو ایرانی نیوکلیئر پروگرام ٹھپ کرانے کی خوشخبری سنائیں، جبکہ دوسری طرف ایران اپنا نیوکلیئر پروگرام برقرار رکھتے ہوئے امریکی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ ایرانی عوام کی ناراضی سے بچا جا سکے۔
ایران اور امریکہ کی اس کشمکش میں فاتح بن کر نکلنے کی خواہش پاکستان کے لیے سب سے بڑی سفارتی مشکل بنتی جا رہی ہے۔ پاکستان کے امریکہ اور ایران کے درمیان بطور ثالث کردار کے حوالے سے حالیہ دنوں میں جہاں امریکہ کے بعض حلقوں کی جانب سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا، وہیں واشنگٹن اور تہران دونوں نے پاکستان پر اپنے اعتماد کا اعادہ بھی کیا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ثالثی کا عمل اس وقت تعطل کا شکار ہے اور پاکستان کا کردار فی الحال زیادہ تر پیغام رسانی تک محدود دکھائی دیتا ہے۔
چند روز قبل ایران نے جنگ بندی اور ممکنہ مذاکرات سے متعلق اپنی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچائیں، مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تجاویز کو “ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد سے اب تک کسی بڑی پیش رفت کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔
اسی تعطل کے ماحول میں چین نے بھی میدان میں محتاط انداز میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ پہنچنے سے ایک روز قبل چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے ذریعے ایک اہم پیغام جاری کیا گیا، جس میں پاکستان پر زور دیا گیا کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے عمل کو مزید تیز کرے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں بیجنگ نے اسلام آباد سے یہ بھی کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوانے سے متعلق معاملات کو مناسب انداز میں حل کرنے میں کردار ادا کرے۔
یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک طرف چین اور امریکہ کی اعلیٰ سطحی سفارت کاری جاری ہے اور ایران جنگ ان کے ایجنڈے کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ کے اندر بھی پاکستان کے بطور ثالث کردار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اہم سوال یہ ہے کہ وہ ثالثی عمل جو ڈیڈ لاک کا شکار ہو چکا ہے اور جس میں پاکستان کا کردار پیغام رسانی سے آگے بڑھتا نظر نہیں آ رہا، اسے پاکستان آخر کس طرح تیز کر سکتا ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا اسلام آباد واقعی اتنا اثر و رسوخ رکھتا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کو کسی درمیانی راستے پر لانے میں کامیاب ہو سکے؟ بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق چین کا ایران پر خاطر خواہ اثر و رسوخ موجود ہے، اس لیے یہ سوال بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ بیجنگ خود براہ راست ثالثی کا کردار ادا کرنے کے بجائے پاکستان کے ذریعے کیوں آگے بڑھ رہا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی کشیدگی اب “نو وار، نو پیس” جیسی صورتحال میں داخل ہو رہی ہے، جہاں نہ مکمل جنگ ہے اور نہ مکمل امن۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر یہی تعطل برقرار رہا، آبنائے ہرمز بند رہی اور امریکہ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو اس کے اثرات چین پر بھی مرتب ہوں گے، کیونکہ چین کی بڑی توانائی ضروریات مشرق وسطیٰ سے پوری ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ چاہتا ہے کہ پاکستان ثالثی کی کوششوں کو تیز کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین یہ پیغام بھی دینا چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کے سفارتی کردار کی حمایت کر رہا ہے۔ تاہم اصل سوال اب بھی یہی ہے کہ پاکستان اس عمل میں عملی طور پر کس حد تک آگے جا سکتا ہے۔
سینیئر تجزیہ کار اور سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی کے مطابق موجودہ ڈیڈ لاک کے بعد پاکستان کے لیے پیغام رسانی سے بڑھ کر کوئی بڑا کردار ادا کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ان کے بقول پاکستان نے دانستہ طور پر خود کو محتاط رکھا ہے اور کسی فریق کو کھلے مشورے دینے یا دباؤ ڈالنے سے گریز کیا ہے تاکہ اگر مذاکرات ناکام ہوں تو اس کی ذمہ داری پاکستان پر نہ آئے۔
ملیحہ لودھی کے مطابق پاکستان بطور ثالث زیادہ سے زیادہ یہی کردار ادا کر سکتا ہے کہ وہ دونوں فریقین پر زور دے کہ پہلے مکمل جنگ بندی پر توجہ دی جائے، جبکہ پیچیدہ اور دیرینہ تنازعات پر مذاکرات بعد میں جاری رہ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی استطاعت کے مطابق تقریباً وہ سب کچھ کر رہا ہے جو ایک ثالث کر سکتا ہے۔ ثالث کا بنیادی کردار یہی ہوتا ہے کہ وہ دونوں فریقین کے درمیان شٹل ڈپلومیسی کرے، پیغامات پہنچائے اور انہیں مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ رکھے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی چار دہائیوں پر محیط ہے، اس لیے یہ توقع کرنا حقیقت پسندانہ نہیں کہ ایک ہی معاہدہ یا ایک ہی دستاویز ان تمام مسائل کا حل نکال دے گی۔
مسلم ممالک کو آپس میں لڑانے کی سازش کون کر رہا ہے؟
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کے پاس امریکہ تک براہ راست سفارتی رسائی، ایران کے ساتھ قریبی روابط اور چین کی حمایت جیسی اہم سفارتی سہولتیں موجود ہیں۔ یہی عوامل پاکستان کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ کم از کم دونوں فریقین کو مکمل جنگ بندی کی جانب بڑھنے پر آمادہ کرنے کی کوشش جاری رکھ سکے، تاکہ خطے میں فوری طور پر امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔
