کوکین کوئین انمول پنکی کو اسکے باپ نے عاق کیوں کیا ؟

ماڈلنگ کی دنیا سے جرائم کی دنیا تک پہنچنے والی 31 سالہ منشیات فروش انمول پنکی کی گرفتاری کے بعد سامنے آنے والے حقائق نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی حیران کر دیا ہے۔ برسوں تک پولیس اور حساس اداروں کی نگرانی میں رہنے کے باوجود پنکی لاہور اور کراچی سے نہ صرف اپنا منظم منشیات کا نیٹ ورک چلاتی رہی بلکہ سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ملک بھر میں اپنے کاروبار کو وسعت دیتی رہی۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق انمول پنکی اپنے بھائیوں اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا خفیہ نیٹ ورک چلا رہی تھی جو واٹس ایپ، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے خفیہ انداز میں کوکین اور دیگر منشیات کی سپلائی کرتا تھا۔ اس کے گاہکوں میں پوش علاقوں کے نوجوان، طلبہ، بااثر شخصیات اور امیر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انمول پنکی کے خلاف پہلے ہی کئی مقدمات درج تھے جس وجہ سے اسکا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ بھی بلاک کیا جا چکا تھا، لیکن اس کے باوجود اس نے دوسروں کے نام پر رجسٹرڈ موبائل سمز اور بے نامی بینک اکاؤنٹس استعمال کرتے ہوئے اپنے نیٹ ورک سے رابطے برقرار رکھے۔
تفتیشی حکام کے مطابق پنکی انتہائی محتاط انداز میں کام کرتی تھی اور اپنے قریبی ساتھیوں تک محدود رابطہ رکھتی تھی تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے اصل آپریشن تک نہ پہنچ سکیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وائس نوٹس میں انمول پنکی کو نہایت بے خوف انداز میں پولیس اور دیگر اداروں کو چیلنج کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ ایک آڈیو میں وہ مبینہ طور پر کہتی ہے کہ اگر اسے گرفتار بھی کر لیا گیا یا وہ مار دی گئی تب بھی اس کا نیٹ ورک بند نہیں ہوگا اور اس کے لوگ کاروبار جاری رکھیں گے۔ ان آڈیوز نے اس کی مبینہ طاقت اور اعتماد کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انمول پنکی لاہور کی خیابانِ ظفر سوسائٹی میں اپنی والدہ اور بھابھی کے ساتھ رہتی تھی جبکہ کراچی میں گلشنِ اقبال میں اس کی رہائش گاہ اور جہانگیر روڈ کے بلوچ پارہ میں خاندانی گھر موجود تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کا تعلق ایک غریب اور متوسط گھرانے سے تھا۔ اس کے والد مراد بخش، جو کولچی بلوچ برادری سے تعلق رکھتے تھے، ٹیکسی چلا کر گھر کا خرچ پورا کرتے تھے جبکہ والدہ کا تعلق پنجاب سے تھا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ انمول پنکی نے آٹھویں جماعت کے بعد تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی اور کم عمری میں لاہور منتقل ہوگئی تھی جہاں وہ ماڈلنگ اور اداکاری کے شعبے میں قسمت آزمانا چاہتی تھی۔
اس دوران وہ فلم اور ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ افراد کے دفاتر کے چکر لگاتی رہی تاکہ اسے کسی پراجیکٹ میں کام مل سکے۔ اسی جدوجہد کے دوران اس کا جنسی استحصال بھی ہوا۔ پھر اس کی ملاقات ایک وکیل سے ہوئی جس سے بعد میں اس نے شادی کر لی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ انمول پنکی کو جرائم کی دنیا میں لانے میں اس کے پہلے شوہر اور اس کے بھائیوں نے اہم کردار ادا کیا۔ ابتدا میں وہ لاہور سے کراچی تک کوکین کی ترسیل میں اپنے شوہر کے لیے کام کرتی تھی، لیکن بعد میں شوہر سے علیحدگی کے بعد اس نے اپنا الگ نیٹ ورک قائم کر لیا۔ بعدازاں اس نے ایک ریٹائرڈ پولیس افسر سے دوسری شادی کی، جس کے بعد اس کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ ہوا۔
تفتیشی حکام کے مطابق اس کے خاندان نے بھی بعد میں لاہور منتقل ہو کر مختلف کاروبار شروع کیے۔ اس کے بڑے بھائی نے ریسٹورنٹ اور دیگر کاروبار قائم کیے جو وقت کے ساتھ تیزی سے ترقی کرتے گئے۔ تاہم پولیس کو شبہ ہے کہ ان کاروباروں میں منشیات سے حاصل ہونے والی رقم بھی استعمال کی جاتی رہی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انمول پنکی صرف کوکین کے کاروبار پر توجہ دیتی تھی اور اس نے منشیات کی دنیا میں اپنا الگ ’’برانڈ‘‘ بنا رکھا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسمگلنگ کے ذریعے ملک میں آنے والی کوکین میں مختلف کیمیکل ملا کر اس کی مقدار بڑھائی جاتی تھی تاکہ زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے، تاہم وہ اپنے گاہکوں میں معیار برقرار رکھنے کے لیے خاص احتیاط کرتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے نیٹ ورک کو امیر طبقے میں خاص شہرت حاصل ہو گئی تھی۔
تحقیقات کے مطابق وہ روزانہ لاکھوں بلکہ ممکنہ طور پر کروڑوں روپے مالیت کی منشیات فروخت کرتی تھی۔ حکام نے اعتراف کیا ہے کہ اس کی کمائی کا کچھ حصہ مبینہ طور پر بعض قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو بطور تحفظ دیا جاتا تھا تاکہ کارروائیوں سے بچا جا سکے۔
انمول پنکی کے والد کے ساتھ اس کے تعلقات اس حد تک خراب ہو چکے تھے کہ 2022 میں اس کے والد نے دو اردو اخبارات میں اشتہار شائع کروا کر اپنی بیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا۔ اشتہار میں کہا گیا تھا کہ وہ مسلسل نافرمانی، خودسری اور والد کی بے توقیری کرتی رہی ہے، جبکہ پانچ سال تک گھر سے غائب رہنے سمیت دیگر وجوہات کی بنا پر خاندان اس سے لاتعلق ہو رہا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق انمول پنکی کے خلاف ایک درجن سے زائد مقدمات درج ہیں جن میں انسدادِ منشیات فورس (ANF) کے دو مقدمات بھی شامل ہیں۔ بعض مقدمات میں اس کے بھائیوں اور ایک خاتون منظور فاطمہ کو شریک ملزم نامزد کیا گیا۔ ایک مقدمے میں اس کے بڑے بھائی کو 2025 میں عدالت نے بری کر دیا تھا جبکہ دیگر کیسز میں بعض ملزمان بری اور انمول پنکی اشتہاری قرار دی گئی تھی۔
انمول پنکی کی نشاندہی پر 45 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد
2019 میں اے این ایف کلفٹن کی جانب سے درج مقدمے میں اس کے ایک بھائی محمد ناصر کو عدالت نے بری کر دیا تھا جبکہ انمول پنکی کو مفرور قرار دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کئی برسوں تک مختلف شہروں میں اپنی شناخت اور رہائش تبدیل کر کے قانون کی گرفت سے بچتی رہی۔ منشیات فروشی کے علاوہ انمول پنکی کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق 9 مئی 2026 کو بغدادی کے علاقے میں ایک سکول کے قریب فٹ پاتھ سے ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی تھی جسے مبینہ طور پر منشیات کا عادی قرار دیا گیا۔ پولیس کے مطابق متوفی کی جیب سے منشیات کا ایک پیکٹ برآمد ہوا جس پر درج تھا: “Queen Madam Pinky, Don, Naam Hi Kafi Hai, Enjoy”۔
ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ منشیات کے استعمال کے باعث اس شخص کی موت واقع ہوئی۔ پولیس نے انمول پنکی کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جہاں سے اسے تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے مزید اہم انکشافات متوقع ہیں اور اس کے نیٹ ورک سے جڑے مزید افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
