28ویں آئینی ترمیم سے کیا کچھ بدلنے والا ہے؟

ملکی سیاست ایک بار پھر آئینی تبدیلیوں کے گرد گھومتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم نے سیاسی، آئینی اور ادارہ جاتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت، اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جاری بیک ڈور رابطوں نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملکی سیاسی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اگرچہ حکومت کی اتحادی جماعتوں اور صوبوں کی جانب سے شدید تحفظات سامنے آ رہے ہیں، تاہم اسلام آباد میں جاری غیر اعلانیہ مشاورتیں اس بات کا اشارہ دے رہی ہیں کہ معاملہ صرف نمبرز گیم کا نہیں بلکہ سیاسی مفاہمت، ادارہ جاتی اعتماد اور قومی اتفاقِ رائے کا بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا 28ویں ترمیم واقعی قومی ضرورت ہے یا پھریہ ترمیم وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی نئی کشمکش کو جنم دے گی؟
مبصرین کے مطابق پاکستان میں آئینی ترامیم ہمیشہ سے سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث رہی ہیں، مگر مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم اس لحاظ سے زیادہ اہم قرار دی جا رہی ہے کہ اس کے اثرات براہِ راست وفاق، صوبوں اور مالیاتی اختیارات کی تقسیم پر پڑ سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حکومت نے بجٹ اجلاس سے قبل ترمیم پر پیش رفت تیز کر دی ہے تاکہ این ایف سی ایوارڈ اور مالیاتی تقسیم کے معاملات میں وفاق کو اضافی وسائل فراہم کیے جا سکیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس ترمیم کا اصل مقصد وفاق کو درپیش مالیاتی اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے زیادہ وسائل مہیا کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض صوبے “قومی مفاد” کے نام پر قربانی دینے پر آمادہ دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم اس معاملے میں سب سے بڑا سوال صوبائی خودمختاری کا ہے، کیونکہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو حاصل اختیارات میں کسی ممکنہ کمی کو سیاسی طور پر حساس تصور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہاؤس میں متعدد غیر اعلانیہ اجلاس ہو چکے ہیں، جہاں حکومت، اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں کے درمیان بیک ڈور مشاورت جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ 28ویں ترمیم بھی ماضی کی 26ویں اور 27ویں ترامیم کی طرح اچانک پیشرفت کے ذریعے سامنے آسکتی ہے۔
مشاورتی عمل میں شامل حلقوں کا کہنا ہے کہ ترمیم کا حتمی مسودہ ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوا، لیکن اس میں نیشنل فنانس کمیشن، وسائل کی تقسیم اور بعض انتظامی اختیارات سے متعلق اہم تبدیلیاں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ دوسری جانب ایم کیو ایم کی جانب سے بلدیاتی نظام اور صوبائی تقسیم سے متعلق مطالبات پر فوری پیشرفت کا امکان کم دکھائی دیتا ہے، البتہ ان تجاویز کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا جا رہا۔اگر حکومت اپنے اتحادیوں کی مدد سے مطلوبہ پارلیمانی نمبرز حاصل بھی کر لے تو اپوزیشن، خصوصاً پاکستان تحریک انصاف، کی مزاحمت ایک بڑا سیاسی چیلنج رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پہلے ہی سیاسی درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے اور ممکنہ ردعمل کا مقابلہ کرنے کیلئے حکمتِ عملی تیار کر رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز پارٹی اس پورے معاملے میں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ پارٹی کو مکمل اعتماد میں نہیں لیا گیا، تاہم سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس معاملے میں اصل کردار صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان رابطوں کا ہے۔ پیپلز پارٹی کیلئے سب سے اہم مسئلہ صوبائی خودمختاری ہے، کیونکہ اگر مجوزہ ترمیم کے نتیجے میں وفاق کو زیادہ اختیارات منتقل ہوتے ہیں تو پارٹی کیلئے اس کی حمایت سیاسی طور پر مشکل ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آئینی ترامیم صرف پارلیمانی اکثریت سے کامیاب نہیں ہوتیں بلکہ ان کیلئے سیاسی قبولیت اور قومی اتفاقِ رائے بھی ضروری ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ترمیم کو محض طاقت کے زور پر نہیں بلکہ مفاہمت کے ذریعے آگے بڑھایا جائے تاکہ مستقبل میں اس کی سیاسی ساکھ متاثر نہ ہو۔موجودہ صورتحال میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ 28ویں آئینی ترمیم محض قانونی تبدیلی نہیں بلکہ پاکستان کے سیاسی و ادارہ جاتی طاقت کے توازن کا ایک اہم امتحان بن چکی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ سیاسی قوتیں قومی مفاد کے نام پر ایک صفحے پر آتی ہیں یا یہ ترمیم بھی ماضی کی طرح نئے سیاسی تنازعات کو جنم دے گی۔
