بھارت میں اچانک پاکستان سے مذاکرات کیلئے آوازیں کیوں اٹھنے لگیں؟

بھارت میں حالیہ دنوں پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے حق میں سامنے آنے والی آوازوں نے خطے کی سیاست اور سفارتکاری میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری دتاترے ہوسابلے، سابق بھارتی آرمی چیف جنرل منوج نروانے، بھارتی خفیہ ادارے را کے سابق سربراہ اے ایس دلت سمیت کئی اہم شخصیات نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کی ضرورت پر زور دیا ہے، جسے بھارت کی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ 13 مئی کو آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری دتاترے ہوسابلے نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہییں۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کیلئے سفارتی رابطے ضروری ہیں۔ بعد ازاں جب سابق بھارتی آرمی چیف جنرل منوج نروانے سے اس بیان پر سوال کیا گیا تو انہوں نے بھی دتاترے ہوسابلے کے مؤقف کی حمایت کی۔اسی دوران بھارتی خفیہ ادارے “را” کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ بھارت نے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کی، تاہم اس حکمت عملی کے نتیجے میں خود بھارت کو تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں مکمل محاذ آرائی مستقل حل نہیں ہو سکتی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی سے جب بھارت میں مذاکرات کے حق میں سامنے آنے والی آوازوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ بیانات مثبت پیشرفت کی علامت ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان ان آوازوں پر بھارتی حکومت کے ردعمل کا منتظر ہے، تاہم اس وقت کسی ٹریک ٹو یا بیک ڈور ڈپلومیسی کے حوالے سے کوئی معلومات موجود نہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بیانات سرکاری پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں؟ مبصرین کے مطابق اگرچہ ان بیانات کو براہ راست بھارتی حکومت کا سرکاری مؤقف قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ باضابطہ پالیسی کا اعلان بھارتی وزارت خارجہ ہی کرتی ہے، تاہم آر ایس ایس چونکہ حکمران جماعت بی جے پی کی نظریاتی اور سیاسی سرپرست تنظیم سمجھی جاتی ہے، اس لیے اس کے سیکریٹری جنرل کے بیان کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔مزید اہم بات یہ ہے کہ سابق بھارتی آرمی چیف نے بھی اس مؤقف کی حمایت کی جبکہ یہ تمام بیانات بھارت کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے ذریعے نشر کیے گئے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھارت اپنی حالیہ حکمت عملی اور اس کے نتائج پر نظرثانی کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے انتہائی سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔ اس وقت بھارتی حکومت کی جانب سے مسلسل یہ کہا جا رہا تھا کہ دہشتگردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے دوران بھارتی قیادت نے یہاں تک کہا کہ “خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے”۔بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر عالمی سطح پر پاکستان کو دہشتگردی کا مرکز ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ مختلف عالمی فورمز پر پاکستان کے خلاف سفارتی مہم چلائی گئی تاکہ عالمی برادری پاکستان کی مذمت کرے۔تاہم عالمی ردعمل بھارت کی توقعات کے مطابق نہ رہا۔ دنیا کے مختلف ممالک نے دہشتگردی کی مذمت تو کی لیکن پاکستان کا نام لینے سے گریز کیا۔ اس صورتحال نے بھارت کو سفارتی سطح پر مایوسی سے دوچار کیا جبکہ پاکستان کو عالمی سطح پر مکمل تنہائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آپریشن سندور کے بعد بھارت میں کئی اہم سیاسی، سفارتی، صحافتی اور عسکری شخصیات نے پاکستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔معروف سیاستدان ششی تھرور نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف سخت مؤقف اپنی جگہ لیکن جنوبی ایشیا میں مستقل امن اور استحکام کیلئے بات چیت کے دروازے بند نہیں ہونے چاہییں۔راجیہ سبھا کے رکن اور ممتاز قانون دان کپل سبل نے کہا کہ مسلسل عسکری کشیدگی دونوں ممالک کیلئے نقصان دہ ہے اور سفارتی ذرائع ہی مسائل کا پائیدار حل فراہم کر سکتے ہیں۔
سینئر صحافی برکھا دت نے اپنے تبصروں میں کہا کہ جنگی بیانیے کے بجائے بیک چینل ڈپلومیسی اور سیاسی مذاکرات کو فروغ دینا خطے کے مفاد میں ہے۔صحافی راجدیپ سرڈیسائی نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد ڈی ایسکلیشن کو باضابطہ اور ادارہ جاتی مذاکرات میں تبدیل کیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں غلط فہمیوں اور کشیدگی سے بچا جا سکے۔بھارت کے سابق سفارتکار شیو شنکر مینن اور نرپما راؤ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مکمل رابطہ منقطع کرنا طویل المدتی حل نہیں۔ ان کے مطابق محدود سطح پر ہی سہی لیکن رابطے اور کرائسس مینجمنٹ کا مؤثر نظام موجود ہونا چاہیے۔دفاعی تجزیہ کار اور سابق فوجی افسر پراوین ساھنی نے کہا کہ عسکری کارروائیاں سیاسی تنازعات کا مستقل حل فراہم نہیں کرتیں، اس لیے بالآخر مذاکرات کی طرف جانا ناگزیر ہوتا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی امور کے ماہر اور سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے ایک ٹی وی پروگرام میں آر ایس ایس کے بیان کو “خوشگوار یوٹرن” قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان کے بارے میں بھارت کی موجودہ پالیسی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام اور سفارتی طور پر تنہا کرنے کی جو کوششیں کیں وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ ان کے مطابق امریکہ سمیت کئی اہم عالمی طاقتوں نے جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی حمایت کی۔مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ امریکی قیادت بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان مستقل سرد جنگ نہیں چاہتی، اسی لیے بھارت نے بدلتے ہوئے عالمی ماحول کو دیکھتے ہوئے نسبتاً نرم مؤقف اختیار کرنا شروع کیا ہے۔
تاہم بھارت میں پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے آر ایس ایس جنرل سیکریٹری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ پاکستان کو اس بار محتاط رہنا چاہیے۔انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ مذاکرات کا محور صرف جموں و کشمیر اور دہشتگردی سے متعلق مسائل ہونے چاہییں۔ ان کے مطابق محض اعتماد سازی کے اقدامات یا رسمی مذاکرات بھارت کو کشمیر میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کا موقع دے سکتے ہیں، اس لیے “بات چیت برائے بات چیت” سے گریز کیا جانا چاہیے۔
مبصرین کے مطابق بھارت میں مختلف حلقوں کی جانب سے مذاکرات کی حمایت اس بات کا اشارہ ہے کہ مسلسل کشیدگی، سفارتی دباؤ، عالمی ردعمل اور خطے کی بدلتی صورتحال نے نئی سوچ کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک بھارتی حکومت کی جانب سے باضابطہ پالیسی تبدیلی سامنے نہیں آئی، تاہم اہم شخصیات کے مسلسل بیانات نے مستقبل میں ممکنہ سفارتی پیشرفت کے امکانات ضرور بڑھا دیے ہیں۔
