ملکہ وکٹوریہ سے کراچی کی ‘پنکی’ تک، بڑی خواتین ڈرگ ڈانز کون؟

کراچی میں “کوکین کوئن” انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے بعد عالمی میڈیا اور تحقیقاتی حلقوں میں خواتین کے منشیات نیٹ ورکس میں کردار پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق منشیات کی غیر قانونی تجارت میں خواتین کی شمولیت کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس کی جڑیں صدیوں پرانی تاریخ میں ملتی ہیں۔تاریخی حوالوں کے مطابق برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کو تاریخ کی سب سے بڑی “ریاستی سرپرستی یافتہ ڈرگ ڈان” قرار دیا جاتا ہے، جس نے برطانوی سلطنت کے معاشی مفادات کیلئے افیون کی عالمی تجارت کو فروغ دیا۔

انیسویں صدی میں ملکہ وکٹوریہ کے دور حکومت میں ہندوستان سے چین تک افیون کی منظم تجارت برطانوی معیشت کا اہم ستون بن گئی تھی۔ برطانیہ نے تجارتی خسارہ پورا کرنے کیلئے برصغیر میں زبردستی افیون کی کاشت کروائی اور اسے چین میں اسمگل کیا۔جب چین نے اس تجارت کی مخالفت کی تو برطانیہ نے “افیون کی جنگیں” مسلط کر دیں۔ مبصرین کے مطابق اس دور میں منشیات کی تجارت صرف جرائم پیشہ سرگرمی نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کا حصہ تھی۔تاریخی ریکارڈ کے مطابق ملکہ وکٹوریہ خود بھی لاڈانم یعنی افیون اور الکحل کے آمیزے، کوکین اور بھنگ استعمال کرتی تھیں، جو اُس زمانے میں طبی مقاصد کے نام پر مقبول تھے۔

خواتین ڈرگ ڈانز میں سب سے زیادہ خوفناک نام کولمبیا کی گریزیلڈا بلانکو کا سمجھا جاتا ہے، جسے “کوکین گاڈ مدر” کہا جاتا تھا۔1970 اور 1980 کی دہائیوں میں وہ میامی کی خونی منشیات جنگوں کی مرکزی شخصیت رہی۔ گریزیلڈا بلانکو نے کوکین اسمگلنگ کے ذریعے اربوں ڈالر کی سلطنت قائم کی۔اس پر تقریباً 400 افراد کے قتل کے الزامات لگے جبکہ اس نے اپنے تین شوہروں کو بھی قتل کروایا، جس کے باعث وہ “بلیک وڈو” کے نام سے مشہور ہوئی۔رپورٹس کے مطابق گریزیلڈا سالانہ تین ٹن سے زائد کوکین امریکہ اسمگل کرتی تھی، جس سے ماہانہ تقریباً 80 ملین ڈالر کمائے جاتے تھے۔اگرچہ وہ کئی مرتبہ گرفتار ہوئی، لیکن اثر و رسوخ اور مضبوط نیٹ ورک کی وجہ سے اکثر بچ نکلتی رہی۔ بالآخر 2012 میں اسے اس کے اپنے ہی کارندوں نے قتل کر دیا۔

برطانیہ میں 65 سالہ ڈیبورا میسن، جسے “کوئین بی” کہا جاتا تھا، نے اپنے خاندان پر مشتمل ایک منظم منشیات نیٹ ورک قائم کیا۔برطانوی عدالت کے مطابق اس گروہ نے صرف سات ماہ کے دوران لندن سمیت مختلف شہروں میں تقریباً ایک ٹن کوکین اسمگل کی، جس کی مالیت 80 ملین پاؤنڈ سے زائد تھی۔اس گروہ کی خاص بات یہ تھی کہ خواتین گرفتاری سے بچنے کیلئے منشیات کی ترسیل کے دوران اپنے بچوں کو بھی ساتھ رکھتی تھیں تاکہ شک کم ہو۔عدالت نے ڈیبورا میسن کو 20 سال قید جبکہ دیگر ارکان کو بھی طویل سزائیں سنائیں۔

صحافی ڈیبورا بونیلو کی کتاب Narcas کے مطابق جدید لاطینی امریکی ڈرگ کارٹلز میں خواتین اب صرف معاون کردار ادا نہیں کرتیں بلکہ وہ خود مالیاتی اور لاجسٹک نظام چلا رہی ہیں۔رپورٹس کے مطابق ان خواتین میں سے کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور بزنس و قانون کی ڈگریاں رکھتی ہیں۔ وہ منی لانڈرنگ، کرپٹو کرنسی، لاجسٹکس اور عالمی سپلائی چینز کو مؤثر انداز میں چلاتی ہیں۔ماہرین کے مطابق خواتین اکثر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچ جاتی ہیں کیونکہ ان پر مردوں کے مقابلے میں کم شک کیا جاتا ہے۔

“کرشما” ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق 2026 میں خواتین کی منشیات نیٹ ورکس میں شمولیت گزشتہ پانچ برسوں کے مقابلے میں 25 فیصد بڑھ چکی ہے۔رواں سال نائجیریا، میکسیکو اور برطانیہ میں متعدد خواتین کو گرفتار کیا گیا جو عالمی منشیات نیٹ ورکس چلا رہی تھیں۔اپریل 2026 میں نائجیریا کی NDLEA اور امریکی DEA کی مشترکہ کارروائی میں جیسنٹا امارا ایکیچی اور بلیسنگ نگوزی عمادی کو گرفتار کیا گیا، جن پر یورپ اور افریقہ کے درمیان اربوں ڈالر کی کوکین اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کا الزام تھا۔

ماہرین کے مطابق اس وقت خواتین ڈرگ نیٹ ورکس کے بڑے مراکز لاطینی امریکہ، مغربی افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا ہیں۔میکسیکو کے خالیسکو نیو جنریشن کارٹل (CJNG) کی روزالینڈا گونزلیز ویلنسیا اور سینالوا کارٹل کی گواڈالوپے فرنانڈیز ویلنسیا کو کارٹلز کے مالیاتی نظام کی اہم معمار سمجھا جاتا ہے۔رپورٹس کے مطابق لاطینی امریکہ کی بعض خواتین سالانہ 500 ملین سے 1.2 بلین ڈالر تک کے فنڈز مینیج کرتی ہیں اور اپنی دولت ریئل اسٹیٹ، فرضی کمپنیوں اور کرپٹو والٹس میں منتقل کرتی ہیں۔

بھارت میں بھی خواتین کا کردار انڈرورلڈ اور منشیات کی غیر قانونی تجارت میں نمایاں رہا ہے۔ممبئی کی “بیبی پتَنکر” نے میفیڈرون جیسی خطرناک منشیات کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا جبکہ حسینہ پارکر نے اپنے خاندانی اثر و رسوخ کے ذریعے انڈرورلڈ سرگرمیوں کی نگرانی کی۔حالیہ برسوں میں نوجوان خواتین بھی اس کاروبار میں شامل پائی جا رہی ہیں۔ 2026 میں کشمیر کی تمانا اشرف کو ممبئی میں چرس اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا جبکہ دہلی میں 19 سالہ لڑکی ہیروئن سمیت پکڑی گئی۔ماہرین کے مطابق بھارت میں خواتین کو “سافٹ ٹارگٹ” کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ ان پر شک نسبتاً کم کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں بھی خواتین کی منشیات سمگلنگ میں شمولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔حالیہ مثال انمول عرف پنکی کی ہے، جسے مئی 2026 میں کراچی سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق پنکی کراچی میں کوکین سپلائی کرنے والے ایک بڑے نیٹ ورک کی سربراہ تھی۔تحقیقات کے مطابق اس کا نیٹ ورک ڈی ایچ اے، کلفٹن اور دیگر پوش علاقوں میں آن لائن آرڈرز اور خواتین رائیڈرز کے ذریعے منشیات فروخت کرتا تھا جبکہ اس کے روابط پنجاب تک موجود تھے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق پنکی کے خلاف 14 سے زائد مقدمات درج ہیں۔اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) اور صوبائی پولیس رپورٹس کے مطابق تعلیمی اداروں اور شہری علاقوں میں منشیات کی ترسیل کیلئے خواتین کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ ان پر کم شک کیا جاتا ہے۔حال ہی میں پنجاب میں ہونے والے کریک ڈاؤن کے دوران کئی خواتین کو ہیروئن اور آئس (Crystal Meth) کی بین الصوبائی اسمگلنگ میں گرفتار کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق جدید منشیات نیٹ ورکس میں خواتین کی بڑھتی شمولیت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کارٹلز اب صرف طاقت اور تشدد پر انحصار نہیں کرتے بلکہ مالیاتی، ڈیجیٹل اور لاجسٹک مہارت کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔اسی وجہ سے تعلیم یافتہ اور منظم خواتین اب منشیات کی عالمی سپلائی چین کا حصہ بنتی جا رہی ہیں، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے۔

 

Back to top button