انڈیا، امریکہ دفاعی معاہدہ: پاکستانی حساس علاقے کتنے محفوظ ہیں؟

گزشتہ ہفتے انڈیا اور امریکہ نے حال ہی میں ’بیسک ایکس چینج اینڈ کوآپریشن ایگریمنٹ‘ (بیکا) نامی ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت دونوں مملک کے درمیان سیٹلائٹ اور نقشوں سے حاصل کیے گئے حساس ڈیٹا کا تبادلہ ممکن ہو سکے گا۔
اس معاہدے پر پاکستان اور چین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے انڈیا کو جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کی فراہمی خطے میں طاقت کے عدم توازن کا باعث بنے گی۔ یہ حالیہ معاہدہ امریکہ اور انڈیا کے درمیان دفاعی تعاون کو بڑھانے کےلیے کیے گئے معاہدوں کا تیسرا اور آخری مرحلہ ہے جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ ’جیو اسپیشل‘ یعنی زمین کی فضا سے لی گئی اعلیٰ کوالٹی کی تصاویر، نقشے اور سمندری حدود سے متعلق ڈیٹا کا تبادلہ کر پائیں گے۔
اس سے قبل اگست 2016 میں دونوں ممالک نے ’لاجسٹک ایکس چینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ‘ (ایل ای ایم او اے) پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ایک ملک کی فوج کو دوسرے کی سہولیات، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں سے فراہمی اور دیگر خدمات کےلیے ایک دوسرے کے دفاعی ٹھکانوں کو استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح سنہ 2018 میں دہلی میں’ٹو پلس ٹو مکالمے‘ کے دوران کمیونی کیشن اینڈ انفارمیشن سکیورٹی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے جس کے تحت انڈین اور امریکی فوجی کمانڈروں، اُن کے طیاروں اور دیگر ساز و سامان کےلیے خفیہ اور محفوظ مواصلاتی نیٹ ورکس پر معلومات کا تبادلہ کرنا آسان ہو گیا ہے۔ انڈین میڈیا اور دفاعی تجزیہ کاروں کی جانب سے اس معاہدے کو انڈیا کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ ’دی اکنامک ٹائمز‘ کی جانب سے اس معاہدے کو ’انڈین میزائلوں کو کئی گنا زیادہ تباہ کن بنا دینے والا‘ معاہدہ قرار دیا گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں حاصل ہونے والے حساس ڈیٹا کی مدد سے انڈیا اس قابل ہو جائے گا کہ وہ میزائلوں، ڈرونز اور دیگر اہداف کو درست اور بالکل ٹھیک ٹھیک انداز سے نشانہ بنے سکے۔ اس کے علاوہ امریکی ٹیکنالوجی کی فراہمی سے انڈیا کو خطے کے کسی بھی ملک کے طیاروں کی نقل و حرکت اور ان کی پرواز کے راستوں کے بارے میں بھی صحیح معلومات حاصل ہوں گی۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ انڈیا کے ساتھ طیاروں اور ٹینکوں کے راستوں اور سرگرمیوں کا سراغ لگانے کی صحیح معلومات کا بھی تبادلہ کر سکے گا۔ یہ معاہدہ دس سال تک زیر بحث رہنے کے بعد ایک ایسے وقت میں طے پایا جب انڈیا اور امریکہ دونوں ہی ممالک کے چین کے ساتھ تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی تنازع کے باعث فوجی کشیدگی جاری ہے اور رواں برس 15 جون کو دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان لداخ کے علاقے وادی گلوان میں ہونے والی دست بدست لڑائی میں انڈیا کی فوج کے ایک کرنل سمیت 20 فوجی ہلاک جبکہ 50 کے قریب شدید زخمی ہوگئے تھے۔ دوسری جانب امریکہ اور چین کے درمیان بھی تجارتی جنگ عروج پر ہے جسے بہت سے مبصرین دوسری سرد جنگ بھی قرار دے رہے ہیں۔
اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد چین کے علاقے میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنا ہے لیکن ایئر یونیورسٹی میں ایرو اسپیس اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ڈین ڈاکٹر عادل سلطان کا کہنا ہے کہ انڈیا اس معاہدے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ٹیکنالوجی اور حساس معلومات کا استعمال صرف پاکستان ہی کے خلاف کرے گا کیوں کہ وہ اس وقت چین کے ساتھ کشیدگی بڑھانے یا کسی بڑے فوجی معرکے کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم انڈیا اور چین کے گزشتہ چند سرحدی تنازعوں کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انڈیا نے کبھی بھی جارحانہ حکمت عملی نہیں اپنائی یہاں تک کہ جب جون میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران انڈیا نے اپنے کچھ علاقوں کا کنٹرول کھو دیا تب بھی اس نے ایسا کوئی فوجی اقدام نہیں اٹھایا گیا جس سے دونوں مملک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھے۔ لیکن پاکستان کے ساتھ انڈیا کا حالیہ رویہ جارحانہ اور سرجیکل اسٹرائکس جیسی دھمکیوں پر مبنی ہے اور یہ ڈیٹا مستقبل کی سرجیکل اسٹرائیکس کو مزید مؤثر بنانے کےلیے استعمال ہوگا۔ ڈاکٹر عادل سلطان کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہیں کہ امریکہ انڈیا ساتھ چین کے سرحدی علاقوں کے نقشے اور تصاویر کا تبادلہ کرے اور اس میں پاکستان سے متعلق معلومات نہ دے کیوں کہ فضا یا سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر میں تو سرحدی حدبندی واضح نہیں ہوتی، لہٰذا نہ چاہتے ہوئے بھی انڈیا کو پاکستان کے حساس علاقوں کے نقشوں کی تفصیلات حاصل ہو جائیں گی۔
لیکن واشنگٹن کے سینٹر فار گلوبل پالیسی میں اینالیٹکل ڈیویلپمنٹ کے ڈائریکٹر کامران بخاری کا کہنا ہے کہ امریکہ انڈیا کے ساتھ پاکستان سے متعلق حساس معلومات کا تبادلہ کرنے کی حماقت نہیں کرے گا۔ امریکہ اس وقت جنوبی ایشیا میں دو بڑے تنازعوں کا حصہ ہے۔ ایک چین کے ساتھ اور دوسرا افغانستان میں جہاں پاکستان اس کا اہم اتحادی ہے۔ امریکہ ہرگز نہیں چاہے گا کہ وہ پاکستان سے متعلق حساس معلومات انڈیا کو دے جو اس علاقے میں ایک نئے تنازع کا باعث بنے اور وہ بھی اس وقت میں جب افغانستان کے تنازع کے حل کےلیے امریکہ کو پاکستان کے تعاون کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عادل سلطان اور کامران بخاری دونوں ہی کے خیال میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اس وقت اس سطح کے نہیں ہیں جہاں پاکستان امریکہ سے اس قسم کے کسی معاہدے کا مطالبہ کرے البتہ پاکستان امریکہ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر سکتا ہے۔ کامران بخاری کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کا جھکاؤ مکمل طور پر چین کی طرف ہے اور یہ ایک اہم موقع ہو سکتا ہے کہ پاکستان چین اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن لائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان سفارت کاری کے ذریعے امریکہ کو نہ صرف اپنے تحفظات سے آگاہ کرسکتا ہے بلکہ امریکہ کو انڈیا کے ساتھ اس سے متعلق حساس معلومات کا تبادلہ نہ کرنے پر آمادہ بھی کر سکتا ہے لیکن اس کےلیے پاکستان کو اپنا چین کی طرف جھکاؤ کم کرنا ہوگا۔ امریکہ انڈیا کی چین کے مقابلے میں وسائل کی کمی سے باخوبی آگاہ ہے لہٰذا پاکستان کی چین کے طرف جھکاؤ میں کمی اسے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر عادل سلطان کا ماننا ہے کہ اگر انڈیا کو پاکستان کے علاقوں، فوجی اور حساس تنصیبات سے متعلق معلومات تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے تو اس کی پاکستان کے خلاف جارحانہ حکمت عملی میں مزید شدت آئے گی۔ انڈیا ان معلومات کے حصول کے بعد اپنی سرجیکل اسٹرائیکس کی کامیابی اور پاکستان میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے سے متعلق زیادہ پر اعتماد ہو جائے گا اور اس کی یہ خود اعتمادی مستقبل میں کسی فوجی کارروائی کی وجہ بن سکتی ہے۔ دوسری جانب تجزیہ کار کامران بخاری کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کا جھکاؤ چین کی طرف مزید بڑھائے گا اور ایک ایسے وقت میں جب انڈیا، چین سرحدی کشیدگی جاری ہے اور بحر ہند میں چین کا اثر و رسوخ انڈیا سے کہیں زیادہ ہے، یہ معاہدہ خطے میں مزید تناؤ کا باعث بنے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button