ان ہاؤس تبدیلی اور سانپ سیڑھی کا کھیل

تحریر : عمار مسعود
پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ اس بات سے منکر وہی لوگ ہو سکتے جو پاکستان میں نہیں رہتے۔
آٹے کے تھیلے کےلیے لگی قطاریں، بجلی کے خوفناک بل، گیس کی روز بڑھتی قیمتیں، بین الاقوامی مارکیٹ میں روپے کی ناقدری، ڈالر کی بڑھتی قیمت اور اشیاء صرف کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہمارے خوفناک مستقبل کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ اگلے سال کی ترقی کی شرح کا تخمینہ ’دو اعشاریہ ایک‘ تک گر گیا ہے۔
بہت سے لوگوں کو اس بات کا ادراک نہیں کہ ’دو اعشاریہ ایک‘ کی شرح ترقی کے معنیٰ کیا ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگلے سال تک لاکھوں لوگ بے روزگار ہوں گے، ہزاروں کاروبار ختم ہوں گے، اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اور اضافہ ہوگا، ترقیاتی منصوبے ختم ہوں گے۔
صحت اور تعلیم پر کوئی اخراجات نہیں ہوں گے، بے روزگاری میں اضافہ ہوگا، لاکھوں لوگ خط ناداری سے نیچے چلے جائیں گے، ملک میں جرائم بڑھیں گے اور حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کےلیے مزید ٹیکس لگائے گی۔
یہ معاشی بحران صرف معاشی بحران نہیں ہے، یہ حکومت کی گورننس کا بحران ہے۔ نا اہلی کا بحران ہے۔ بلند و بانگ اور کھوکھلے دعوؤں کا نتیجہ ہے۔
یہ صوبوں کی نااہلی کا بحران نہیں ہے، یہ اس سیاسی نظام کا بحران ہے جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت معرض وجود میں آئی ہے۔ یہ بحران ایک نا اہل حکومت کی کارکردگی پر مثبت رپورٹنگ کرنے کا بحران ہے۔ یہ بحران ہر ناکامی کو گزشتہ حکومتوں پر ڈالنے کا بحران ہے۔ یہ بحران اس سارے سماج کا بحران ہے۔
حکومت نے اس ملک کے عوام کو جس مشکل میں ڈال دیا ہے، اب کوئی بھی اس حکومت کے کارناموں کا الزام اپنے سر لینا نہیں چاہ رہا۔ دوست، دشمن، اتحادی اور حمایتی سب کنارہ کش ہو رہے ہیں۔
ایم کیو ایم کے عزائم واضح نظر آرہے ہیں۔ مسلم لیگ ق آنکھیں دکھا رہی ہے۔ حکومت کی مسلسل پشت پناہی کرنے والے اب اس سے نگاہیں چرا رہے ہیں۔ عوام شدید غصے کے عالم میں اپنے فیصلے کو کوس رہی ہے۔ تبدیلی کی آوازیں سنائی دی جارہی ہیں۔
حکومت اتنی کم نشستوں سے قائم ہے کہ کسی وقت بھی کایا پلٹ سکتی ہے۔ کبھی بھی تخت گرائے جاسکتے ہیں۔
اس موقع پر مسلم لیگ ن جو اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہے وہ کیا سوچ رہی ہے۔ اس سلسلے میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ایک مختصر سی ملاقات ہوئی، اس کا احوال آپ تک پہنچانا قرض ہے۔ اس ملاقات کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔
شاہد خاقان عباسی نے بڑی خوشدلی سے اس بات کو تسلیم کیا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے پارٹی میں اختلافات ہیں اور یہ اختلافات جمہوریت کی علامت ہیں۔ لیکن ان اختلافات کے باوجود پارٹی کے تمام ارکان قیادت کے فیصلے کی تعمیل کرتے ہیں اور نواز شریف کی قیادت پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔
آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے انہوں بڑے وثوق سے یہ بات کی کہ جو ترمیم پارلیمنٹ سے منظور کروائی گئی ہے یہ مستقل نہیں ہے اور جلد یا بدیر پارلیمنٹ کے ذریعے ہی اس ترمیم کو ختم کیا جائے گا۔
موجودہ معاشی، سیاسی بحران کے بارے میں انکا کہنا تھا کہ اس کا حل ان ہاؤس تبدیلی بالکل نہیں ہے۔
’یہ حکومت باکل ناکام ہوچکی ہے۔ اپنے لانے والوں تک کو رسوا کرچکی ہے۔ اس ابتر صورت حال میں اگر ان ہاؤس تبدیلی کی کوشش کی گئی، کسی حیلے سے چند لوٹے کسی کی بالٹی میں ڈال دیے گئے، یا چند ایم این اے کسی جماعت کی جھولی میں ڈال دیے گئے تو وہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس سے صرف سیاسی جماعتیں اپنے منہ پر کیچڑ ملیں گی۔ نہ معشیت ٹھیک ہو گی نہ سیاست۔ اس بحران کا حل ایک ہی ہے کہ ملک بھر میں منصفانہ اور آزادانہ الیکشن کروائے جائیں۔ اس ملک کے عوام کو آزادنہ طور پر اپنے فیصلے کرنے دیے جائیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو کوئی بھی تبدیلی بے معنی ہوگی۔‘
میڈیا کے کردار کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جب تک میڈیا اپنے لیے خود آواز بلند نہیں کرے گا، تب تک میڈیا اپنے حقوق کی خود حفاظت نہیں کرے گا۔
موجودہ سیاسی اور معاشی بحران کو دیکھنے کے بعد کچھ نتائج بہت واضح ہوگئے ہیں۔ ایک تو ان حالات میں اگر ان ہاؤس تبدیلی کی کوشش کی گئی تو اس سے نہ تاجروں کا اعتماد بحال ہوگا نہ صنعت کار سرمایہ کاری کریں گے۔ نہ اشیائے صرف کی قیمتیں گھٹیں گی نہ اسٹاک مارکیٹ مستحکم ہوگی۔
دوسرا یہ کہ ایسی کوشش کے نتیجے میں صرف سیاسی جماعتیں ہی اپنے منہ پر کالک ملیں گی اور سانپ سیڑھی کا یہ کھیل جاری رہے گا۔
بشکریہ: اردو نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button