آئندہ بجٹ میں نان فائلرز کیلئے سخت اقدامات متعارف کروانے کا امکان

حکومت نے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی ریٹرنز کے نان فائلرز کے لیے ٹیکس کی اعلیٰ شرح اور ٹیکس کی ادائی بہتر بنانے کےلیے سخت طریقہ کار متعارف کروانے کا فیصلہ کرلیا۔
باخبر ذرائع کےمطابق گزشتہ حکومت نے نان فائلرز کے لیے زائد ود ہولڈنگ ٹیکس متعارف کروایا تھا جس کے نتیجے میں ریونیو حاصل ہوا اور سالوں سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لیے دستاویز تیار ہوئیں۔ حکومت کی جانب سے غیر رجسٹرڈ افراد کے لیے 17 فیصد سیلز ٹیکس کی شرح سے معمولی سا زیادہ ٹیکس ریٹ متعارف کروانے کا امکان ہے۔
مزید یہ کہ غیر رجسٹرڈ افراد اِن پُٹ ٹیکس کریڈٹ حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے۔ حکومت کے اندر سے ایف بی آر پر دوسرے ٹیکس شیڈول کے تحت انکم ٹیکس میں استثنٰی برقرار رکھنے کے لیے سخت دباؤ اور مزاحمت پائی جارہی ہے۔
ان استثنٰی سے کم آمدن کے مضمرات کے باوجود اس کی دستاویزات کے لحاظ سے سیاسی اہمیت زیادہ ہے۔
محکمہ خزانہ کے ذرائع کے مطابق اس استثنیٰ کے حوالے سے آج (جمعرات کو) ہونے والے اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا اور اجلاس میں کچھ ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح پر نظر ثانی کی تجویز پر بھی غور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حکام بجٹ میں کم از کم 10 وِد ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے پر کام کررہے ہیں جس سے بہت کم آمدن ہوتی ہے اور دستاویز میں ان کا کوئی کردار نہیں۔ اسی طرح فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے حکومت غیر ملکی کرنسی کی خریداری پر وِد ہولڈنگ ٹیکس لگائے گی جو ایک فیصد یا اس سے کم ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب ای سگریٹس پر فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی کے نفاذ کی تجویز بھی زیر غور ہے تاہم سگریٹرس کی قیمتوں میں اضافے کا حتمی فیصلہ کابینہ کرے گی۔ اس کے علاوہ کابینہ مشروبات پر عائد فیڈرل ایکسائیذ ڈیوٹی کی شرح میں تبدیلی پر بھی غور کرے گی۔ ایک تجویز کے مطابق غیر مقیم افراد کی آمدن پر ٹیکس حتمی نہیں ہو گا بلکہ ردو بدل کے قابل ہوگا جس کے ذریعے محکمہ ریونیو آمدن میں اضافہ کرسکے گا۔
اسی طرح تمباکو کے شعبے میں ٹیکس کے حوالے سے عملدرآمد بہتر بنانے کے لیے اِن لینڈ افسران کو ڈیوٹی کی ادائیگی نہ کی جانے والی سیگریٹس کو قبضے میں لے کر نذر آتش کا اختیار دیا جائے گا ابھی یہ اختیار صرف کسٹم انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ کے پاس ہے۔ علاوہ ازیں انِ لینڈ ریونیو کو ڈیوٹی کی ادائی نہ کی جانے والی اشیا بشمول گاڑیوں کو قبضے میں لے کر وصولی کروانے کا اختیار دینے کی بھی تجویز ہے جس کا مقصد عملدرآمد بہتر بنانا اور معیشت کو دستاویزی شکل دینا ہے۔
بجٹ تیار کرنے والے ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے کسی قسم کے ریلیف اقدامات کی مخالفت کی ہے۔
