آخر پاکستانی ڈرامے شادیوں، طلاقوں سے کیوں نہیں نکل رہے؟

پاکستانی ڈراموں میں کوئی نئی کہانی دیکھنے کو نہیں مل رہی، کہانیاں صرف روایتی موضوع شادیوں، طلاقوں میں پھنس کر رہ گئی ہیں، ڈرامہ ناظرین میں سے ہر 10 میں سے 2 افراد یہی شکایت کرتے دکھائی دیتے تھے۔کسی بھی پاکستانی ڈرامے کی نئی قسط جیسے ہی یوٹیوب پر اپ لوڈ ہوتی ہے اس پر فوراً عوامی ردعمل آنا شروع ہو جاتا ہے یہ کچھ حد تک درست بھی ہے کہ بیشتر ڈراموں میں طلاق اور شادیاں ہی اہم موضوع ہوتے ہیں لیکن اگر ڈرامہ ساز یہ نہ دکھائیں تو پھر کیا دکھائیں؟یہ بات بھی حقیقت سے دور نہیں جب بھی کسی چینل پر کوئی منفرد اور حساس نوعیت کی کہانی پیش کی جاتی ہے تو اس کے خلاف بھی محاذ کھلتے بھی دیر نہیں لگتی، ایک ٹویٹ میں اداکارہ اشنا شاہ نے لکھا کہ میں ایسی کہانی کا حصہ بننا چاہتی ہوں جس میں یہ بتایا جائے کہ طلاق لینا غلط نہیں، طلاق یافتہ ہونے کے بعد بھی خوشیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ ڈرامے میں ایسی خاتون کا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں جو طلاق کے بعد خودمختار اور خوشحال ہو، اپنے گھر کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے والدین کی بھی علیحدگی ہو چکی وہیں اداکارہ منشا پاشا نے بھی اپنی ذاتی زندگی سے بھی پردہ اٹھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی نجی زندگی کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں ہے لیکن اس بارے میں سب کو پتا ہے کہ ان کی پہلی شادی طلاق پر ختم ہوئی اور اس کی تکلیف سے نکلنے میں تقریباً 5 سال کا عرصہ لگا، اب حال ہی میں پیمرا کی جانب سے پابندی کا سامنا کرنے والے ڈرامہ ’حادثہ‘ کو ہی لے لیجیے جس کی کہانی موٹروے ریپ واقعے سے مماثلت رکھتی ہے، اسے عدالت نے دوبارہ نشر کرنے کی مشروط اجازت دیدی، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہمارے ڈرامہ شائقین دیکھنا کیا چاہتے ہیں، کیونکہ جب جب کچھ الگ یا تھوڑا حساس موضوع چھیڑا گیا تو ہمارے عوام سے یا تو برادشت نہ ہوا یا تو پھر ڈرامہ ہی نہ چلا یہی وجہ ہے کہ ڈرامہ ساز روایت سے ہٹ کر کچھ نیا بنانے سے ڈرتے ہیں۔ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پہلے تو بہروز سبزواری نے اس بات کا اعتراف کیا کہ آج کل ریٹنگ پر ڈرامے چلتے ہیں اور بنتے بھی ہیں تاہم اداکار نے ڈراموں پر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ڈرامے اتنے آسانی سے نہیں بنتے کہ کوئی بھی تنقید شروع کر دے۔
