آصف زرداری کی درخواستیں واپس کرنے کا اقدام چیلنج

سابق صدرآصف علی زرداری نے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں اپنے خلاف زیرالتوا 4 ریفرنسز کو کراچی منتقل کرنے کے لیے دائر درخواستوں کو سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کی جانب سے واپس کیے جانے کے اقدام کو چیلنج کردیا۔
4 علیحدہ درخواستوں کو واپس کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے اسسٹنٹ رجسٹرار نے آبزرو کیا تھا کہ درخواستوں کو سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کے دوسرے جائزے کی ضرورت تھی لہٰذا ان درخواستوں کو نہیں سنا جاسکتا۔ اس کے بعد گزشتہ روز سینئر وکیل سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے سابق صدر کی جانب سے رجسٹرار آفس کے فیصلے کے خلاف چیمبر اپیلیں دائر کیں اور یہ اعتراض اٹھایا کہ یہ قانون کے زمرے میں نہیں آتا ساتھ ہی یہ سپریم کورٹ کی جانب سے بیان کردہ قانون سے مطابقت نہیں رکھتا۔ نئی درخواستوں میں کہا گیا کہ یہ درخواست گزار کا آئینی حق ہے کہ وہ انصاف کے محفوظ انتظام کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے لیکن رجسٹرار کے حکم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اپیل کرنے والے کے حق کو ادارہ جاتی سطح پر سلب کیا جارہا ہے۔ درخواستوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ درخواست کو ناقابل سماعت کہہ کر واپس کردینے کا عمل عدالتی کام سے متعلق ہے اور جسے مقننہ کی طرف سے یا پھر عدالتی طاقت کے کام کے استعمال کے لیے اختیار تفویض کرنے کرکے نہیں کیا جاسکتا۔ وکیل نے بتایا کہ رجسٹرار کے لیے اسسٹنٹ رجسٹرار (سول 2) کی جانب سے 10 نومبر کے حکم نامے پر دستخط کیے گئے جو سپریم کورٹ کے قوانین کے آرڈر 5 رول ون کی خلاف ورزی ہے۔ مذکورہ وکیل نے کہا کہ اسسٹنٹ رجسٹرار کی جانب سے رجسٹرار کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنی من مانی کرکے اپیل کو واپس کرنا قانون کے مطابق نہیں ہے۔ رخواست میں ان کا مزید کہنا تھا کہ اسٹنٹ رجسٹرار نے عدالت عظمیٰ کی جانب سے 7 جنوری 2019 کو جاری کی جانے والی ہدایات کے پیراگراف 38 پر غور نہیں کیا جس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کو ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ اسلام آباد میں جعلی اکاؤنٹس پر کرپشن ریفرنسز کو شروع کیا جائے مگر اس میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ کسی بھی وقت کسی بھی فریقن کی جانب سے درخواست پر معاملے کو دوبارہ شروع کیا جاستکا ہے۔ اسی طرح وکیل نے استدعا کی کہ نتیجتاً اپیل کرنے والے کے پاس درخواستیں دائر کرنے کا قانونی حق موجود تھا جسے عدالتی دفتر نے دوسرا جائزہ قرار دے کر واپس کیاجو 7 جنوری 2019 کے حکم کے ’غلط پڑھنے اور نہ پڑھنے‘ کی بنیاد پر تھا۔ آصف زرداری جعلی بینک اکاؤنٹس ریفرنس، پارک لین ای اسٹیٹ پرائیویٹ لمیٹڈ ریفرنس، ٹھٹہ واٹر سپلائی ریفرنس اور توشہ خانہ کرپشن ریفرنسز کا سامنا کر رہے ہیں۔ احتساب عدالت کی جانب سے 9 ستمبر کو توشہ خارنہ ریفرنس، 10 اگست کو پارک لین ای اسٹیٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے مبینہ طور پر بے نامی جائیدادیں بنانے کے لیے منی لانڈرنگ کے الزامات جبکہ 5 اکتوبر کو ٹھٹہ واٹر سپلائی ریفرنس میں فرد جرم عائد کی گئی تھی تاہم جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں فرد جرم کی کارروائی مؤخر کردی گئی تھی۔
