اپنی بیوی بچے کھونے والے متوقع امریکی صدر بائیڈن کون ہیں؟

تین نومبر کی ووٹنگ کے بعد 77 سالہ جو بائیڈن امریکہ کے بزرگ ترین صدر منتخب ہونے کی جانب گامزن ہیں لیکن یہاں پہنچنا اتنا آسان نہیں تھا اس کیلئےبائیڈن کو مشکلات سے بھرپور سفر طے کرنا پڑا۔
اکثر سیاسی رہنماؤں کو سیاست وراثت میں ملتی ہے یا ان کی کامیابی مکمل طور پر ان کی اپنی محنت کا نتیجہ ہوتی ہے یا ان کے ارد گرد کے حالات انہیں حادثاتی لیڈر بنا دیتے ہے۔ امریکہ میں حزب اختلاف کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن کو تیسری فہرست یعنی حادثاتی لیڈر میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ایک امریکی جریدے نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ’امریکی سیاست میں آج کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کی شخصیت بائیڈن سے زیادہ المناک واقعات سے تشکیل پائی ہو۔ بائیڈن کا طویل سیاسی سفر مسلسل المیوں کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا رہا ہے‘۔ 1972 میں جب وہ سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تو ان کی بیوی اور ننھی سے بیٹی ایک کار حادثے میں ہلاک ہوگئیں۔ بعد ازاں 2015 میں اُسی حادثے میں بچ جانے والے اُن کے ایک بیٹے کی دماغ کے کینسر کی وجہ سے موت ہوگئی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق، ان کی زندگی کے ان ہی المناک پہلوؤں نے انہیں ایک عام امریکی کی نظر میں ‘زیادہ اپنے جیسا، زیادہ حقیقی اور زیادہ ہمدرد بنا دیا ہے۔’
جو بائیڈن کی سیاست کا آغاز امریکی ریاست ڈلاوئیر سے 1972 میں سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی کے ساتھ ہوا تھا۔ انہوں نے اس وقت ری پبلکن پارٹی کے امیدوار کو غیر متوقع طور پر تھوڑے سے فرق کے ساتھ شکست دی تھی۔ 1988 میں انہوں نے صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں بھی حصہ لیا لیکن ایک برطانوی سیاستدان کی تقریر کا ایک اقتباس چرانے کے انکشاف کی وجہ سے وہ اس دوڑ سے الگ ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔
جو بائیڈن نے اپنے کیریئر کے آغاز میں سیاست میں آنے سے پہلے ایک مختصر عرصے کےلیے ڈلاوئیر میں ایک وکیل کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ امریکی تاریخ میں پانچویں کم سن ترین سینیٹر اور ڈلاوئیر کے طویل ترین عرصے تک سینیٹر رہنے والے شخص ہیں۔ انہوں نے 2007 میں ایک مرتبہ پھر صدارت کے امیدوار کی دوڑ میں حصہ لیا لیکن کم حمایت کی وجہ سے جلد ہی دستبردار ہوگئے۔ لیکن اسی دوڑ میں کامیاب ہونے والے امیدوار براک اوباما نے انہیں اپنا نائب صدر نامزد کیا۔ اور اس طرح وہ امریکہ کے صدر اوباما کے ساتھ نائب صدر منتخب ہوئے۔ بائیڈن اوباما کے ساتھ دو مرتبہ نائب صدر منتخب ہوئے۔ 2017 میں جب ان کا دورِ اقتدار ختم ہوا تو اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما نے انہیں صدارتی میڈل آف فریڈم سے نوازا۔ یہ امریکہ کے اعلیٰ ترین اعزازات میں سے ایک ہے۔ اور اس کے دو برس بعد بائیڈن نے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔
جو بائیڈن 20 نومبر 1942 میں ریاست پینسلوینیا کے قصبے سکرینٹن میں عام محنت کش والدین کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد جوزف بائیڈن بھٹیوں کی چمنیوں کو صاف کرنے کا کام کرتے تھے اور ان کی والدہ کیتھرین یوجینیا ایک روایتی کیتھولک مسیحی خاتون تھیں۔ بائیڈن 13 برس کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ پینسلیوینیا سے ڈلاوئیر ریاست منتقل ہوگئے، جو بائیڈن بچپن میں ہکلاتے تھے، بائیڈن ایک اچھے طالب علم تھے، دراز قد نہ ہونے کے باوجود وہ اسکول کی فٹ بال ٹیم میں شامل ہوئے تھے۔ جو بائیڈن نے اس اسکول سے سنہ 1961 میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ بائیڈن نے اپنے گھر کے قریب ہی ایک یونیورسٹی میں داخلہ لیا جس کا نام یونیورسٹی آف ڈِلاوئیر ہے، وہاں انہوں نے تاریخ اور سیاسیات میں بی اے کیا۔ لیکن فٹ بال کھیلنا جاری رکھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب امریکہ میں اس وقت کے ایک ‘جوان’ صدر جان ایف کینیڈی نے نئی نسل کو بہت زیادہ متاثر کیا تھا۔ جو بھی اسی نسل کا حصہ تھے۔اپنی تعلیم کے دوران وہ بہاما کے جزائر پر سیر کرنے گئے تھے جہاں سرے کیوز یونیورسٹی کی طالبہ نیلیہ ہنٹر سے ان کی ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات پہلی نظر کی محبت میں تبدیل ہوگئی۔ اس لڑکی سے ملنے کےلیے انہوں نے محنت کی اور سرےکیوز میں قانون کے شعبہ میں داخلہ حاصل کرلیا۔
انہوں نے 1965 میں قانون کی تعلیم شروع کی اور ایک برس بعد نیلیہ سے شادی کرلی۔ کہا جاتا ہے کہ شادی سے پہلے جب وہ نیلیہ کے والدین سے ملنے گئے تو انہوں نے پوچھا کہ وہ کس طرح کمائیں گے، مستقبل میں کیا کریں گے۔ کہتے ہیں کہ جو نے جواب دیا کہ میں امریکہ کا صدر بنوں گا۔ حالانکہ اس وقت جو بائیڈن ایک اوسط درجے کے قانون کے طالب علم تھے۔ 1968 میں قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جو بائیڈن ڈیلاوئیر کے ایک اور شہر وِلمنگٹن منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے ایک کمپنی میں وکالت کا آغاز کیا۔ یہیں وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک متحرک رکن بن گئے۔ 1970 میں وہ مقامی حکومت نیو کاسل کاؤنٹی کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ کونسلر ہوتے ہوئے بھی انہوں نے وکالت جاری رکھی۔ اسی دور میں ان کے ہاں تین بچے، دو بیٹے اور ایک بیٹی، جوزف بائیڈن تھرڈ، ہنٹر بائیڈن اور نومی بائیڈن پیدا ہوئے۔ 1972 میں ڈیموکریٹک پارٹی نے انہیں ری پبلکن پارٹی کے ایک مضبوط امیدوار جے کیلِب بوگس کے خلاف امریکی سینیٹ کا انتخاب لڑنے کےلیے آمادہ کیا۔ اگرچہ ان کا اپنے مضبوط حریف کے خلاف جیتنے کا کم امکان تھا لیکن انہوں نے ڈٹ کا مقابلہ کیا جس میں ان کی بہن اور بیوی نے ان کا خوب ساتھ دیا۔ ان کے والدین نے بھی گھر گھر جاکر ان کےلیے انتخابی مہم چلائی۔
اس برس نومبر میں مقابلہ بہت کانٹے دار ہوا اور ووٹر بھی زیادہ تعداد میں پولنگ سٹیشنوں پر آئے۔ نتیجہ جب نکلا تو بہت سارے لوگوں کو بائیڈن کی کامیابی پر حیرت ہوئی۔ اس طرح وہ ملک کی تاریخ کے پانچویں کم سن ترین سینیٹر منتخب ہوئے۔
عین ان دنوں میں جب وہ سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھانے والے تھے، ان کی بیوی اور تین بچے کار کے ایک حادثے کا شکار ہوئے۔ ان کی بیوی بچوں کے ہمراہ کرسمس کے موقعے پر کچھ شاپنگ کرنے گئی تھیں کہ راستے میں ایک ٹریکٹر ان کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ اس حادثے میں اُن کی بیوی نیلیہ اور بیٹی نومی موقعے پر ہی ہلاک ہوگئيں جب کہ دونوں بیٹے شدید زخمی حالت میں اسپتال لائے گئے۔ جو بائیڈن حلف اٹھائے بغیر اسپتال روانہ ہوئے اور اپنے بچوں کے ساتھ اسپتال میں رہے اور بعد میں وہیں بچوں کے بیڈ کے ساتھ کھڑے ہو کر سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھایا۔ اس کے بعد انہوں نے سینیٹ کے جتنے بھی انتحابات لڑے ان سب میں کامیاب ہوئے۔ ان کے حلقے کے لوگوں نے انہیں اس المیے کے بعد غیر رسمی طور پر اپنا نمائیندہ قرار دے دیا۔
تاہم بائیڈن نے اپنی پہلی بیوی اور دو بچوں کی ہلاکت کے پانچ برس بعد 1977 میں جِل نامی خاتون سے دوسری شادی کی۔ ان دونوں کی بیٹی، ایشلی، 1981 میں پیدا ہوئیں۔ 2015 میں بائیڈبن کے پہلی بیوی سے ہونے والے بیٹے بیؤ بائیڈن کی دماغ میں کینسر کی وجہ سے موت ہوگئی۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر بائیڈن کا غم ان کے سیاسی کیریئر میں اضافے کا اہم سبب بنا۔ بائیڈن کی نائب صدارت کے بعد جب ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے ان پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ٹرمپ کو حکمرانی کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ پر سفید فام انتہا پسندوں کا دفاع کرنے پر سخت تنقید بھی کی۔
کچھ عرصے کی غیر واضح پوزیشن کے بعد بائیڈن نے 2019 میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنے اس اعلان کے وقت کہا تھا کہ انہیں اندازہ تھا کہ صدر ٹرمپ کی نسل پسندی والی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو ایسا خطرہ ہے جو شاید ان کی زندگی میں کبھی دوبارہ پیدا نہ ہو۔ تاہم بائیڈن کو آغاز ہی سے ڈیموکریٹس کے بائیں بازو اور عورتوں کے حامی طبقوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔ انہوں نے اسقاطِ حمل سے متعلقہ فنڈنگ بند کرانے کے ایک بل کی حمایت کی تھی لیکن سخت تنقید کے بعد اپنا موقف بدل لیا۔ بائیڈن نے عراق جنگ کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن بعد میں اسے اپنی غلطی سے تعبیر کیا۔
کملا ہیرِس نے، جو اب ان کے ساتھ نائب صدر کی امیدوار ہیں، جو بائیڈن پر کڑی تنقید کی تھی۔ انہوں نے بہرحال اگلے مرحلے میں ہونے والے صدارتی مباحثوں میں ایک ‘ماڈریٹ’ سیاستدان کے طور پر صدر اوباما کی خارجہ پالیسیوں کو اپنی کامیابیاں بتا کر اپنی پوزیشن بہتر بنائی۔ 2019 میں وائٹ ہاؤس سے کچھ ایسی معلومات کا انکشاف ہوا جن سے یہ پتا چلا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین کی حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ جو بائیڈن کے خلاف کرپشن کی انکوائری کرائے۔ جو بائیڈن نے نائب صدر ہوتے ہوئے یوکرین کی ایک تیل کمپنی ‘بوریزما’ میں اپنے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو ڈائریکٹر بنوایا تھا۔
اسی برس یعنی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے بعد یوکرین کی حکومت نے بوریزما کے معاملے کی انکوائری کرائی۔ جس میں یہ پتا چلا کہ پچاس لاکھ ڈالر کی رشوت دی گئی تھی، لیکن یوکرین کی حکومت نے کہا کہ رشوت کے لینے والوں میں بائیڈن کا نام نہیں تھا۔بائیڈن کا یوکرین اسکینڈل میں کیا کردار تھا اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس بات کے بھی کوئی بظاہر شواہد نہیں ہیں کہ انہوں اس کام کےلیے کوئی بد عنوانی کی تھی۔ تاہم ایک امریکی جریدے ‘پولیٹکو’ کے رائے عامہ کے جائزے کے مطابق، امریکیوں کی اکثریت اپنے بیٹے کو ڈائریکٹر بنوانے کی وجہ سے جو بائیڈن کے کردار کو غیر مناسب سمجھتی ہے۔
بائیڈن کو فی الوقت ایک طاقتور شخصیت کے بجائے ایک معتدل نظریات والی شخصیت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو ڈیموکریٹس کے مختلف حلقوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینے کےلیے ایک جگہ جمع کر سکتے ہیں۔ رائے عامہ کے مختلف جائزوں میں بھی بائیڈن اپنے حریف ٹرمپ کی نسبت زیادہ ووٹ حاصل کرتے نظر آرہے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزے تیار کرنے والے اکثر ادارے کورونا وائرس کے بارے میں صدر ٹرمپ کے اقدامت کو بنیاد بنا کر یہ کہہ رہے ہیں کہ اس کی وجہ سے لوگ ان کے خلاف ہو رہے ہیں۔ اب جبکہ کہ کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے، اور ٹرمپ گالف کھیلتے ہوئے نظر آرہے ہیں تو ‘نان کمیٹڈ’ ووٹروں کے ان کے خلاف جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔
لیکن امریکہ کے الیکٹورل کالجز کے منفرد طریقے کی وجہ سے زیادہ ووٹوں کی تعداد صدارتی انتخابات میں کامیابی کی یقینی ضمانت نہیں ہوتی ہے۔ پچھلے 20 برسوں میں ڈیموکریٹ کے دو صدارتی امیدوار، ایلگور اور ہلری کلنٹن نے اپنے اپنے حریفوں کے مقابلے میں بالترتیب پانچ لاکھ اور تیس لاکھ ووٹ زیادہ حاصل کیے تھے، لیلن پھر بھی وہ صدارتی کرسی پر نہ بیٹھ سکے۔
