اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین بیک ڈور رابطوں کا آغاز

باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مریم نواز کی جانب سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں اپنے سخت موقف میں نرمی کی وجہ سیاسی منظر نامے میں تبدیلی کی باتیں اور اس حوالے سے اسٹیبلشمینٹ اور اپوزیشن کے مابین ہونے والے خفیہ رابطے ہیں۔
بی بی سی سے انٹرویو میں مریم نواز نے نہ صرف اداروں کے مابین مذاکرات کے حق میں اپنا موقف نرم کیا بلکہ یہ بھی اعتراف کیا کہ اسٹیبلشمنٹ نون لیگی رہنماؤں سے رابطے میں ہے۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پس پردہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کیا باتیں ہو رہی ہیں۔اس سے پہلے انکے والد نواز شریف نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کا نام لے کر اسٹیبلشمنٹ کو اپنی حکومت کے خاتمے، نا اہل قرار دیے جانے اور 2018ء کے انتخابات میں عمران کے حق میں دھاندلی کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ اسی لیے مریم نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کی پیشگی شرط یہ رکھی ہے کہ عمران خان کی حکومت کو ہٹانا ہوگا۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نون لیگ کے موقف میں تبدیلی پس پردہ حالیہ پیش رفت کا نتیجہ ہو سکتی ہے جس سے سیاسی منظرنامے میں ’’تبدیلی کی ہوائیں‘‘ چلنا شروع ہو گئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک چلنے اور اس میں اسٹیبلشمنٹ کا رگڑا نکالے جانے کے بعد پی ڈی ایم کا حصہ سمجھی جانے والی جماعتوں کے ساتھ رابطے کیے گئے ہیں تاکہ ’’تبدیلی‘‘ کا راستہ نکالنے کے لیے آپشنز پر غور کیا جا سکے۔ خیال رہے کہ مریم نواز کی طرف سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کی بات کیے جانے کے بعد نون لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ ووٹ کو عزت دو کے بیانیے پر عمل کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات ضروری ہیں کیونکہ اگر اپوزیشن کو مسئلہ سلیکٹڈ سے ہے تو پھر اسکا ازالہ بھی سلیکٹرز کو ہی کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے سیاسی منظر نامے پر تبدیلی لانا کوئی مشکل نہیں اور اسٹیبلشمنٹ اگر چاہے تو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو وزارت عظمی سے فوری طور پر فارغ کروا سکتی ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پس پردہ اہم ترین مذاکرات ہوئے ہیں جو اگرچہ براہِ راست نہیں ہیں لیکن ’’حوصلہ افزا‘‘ ضرور ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بالواسطہ مذاکرات پی ڈی ایم کی تین جماعتوں پیپلز پارٹی، نون لیگ اور جے یو آئی ف کے ساتھ کیے گئے جن میں پنجاب اور مرکز میں سیاسی تبدیلی پر بات ہوئی اور یہ طے پایا کہ وفاق میں تبدیلی سے پہلے پنجاب میں بزدار حکومت کے خاتمے کا منصوبہ تیار کیا جانا چاہئے۔ یاد رہے کہ بزدار حکومت سے نہ صرف اپوزیشن جان چھڑانا چاہتی ہے بلکہ اسٹیبلشمنٹ بھی لہذا ٹیسٹ کیس کے طور پر پہلے پنجاب میں تجربہ کیا جائے سکتا ہے اور اسکی کامیابی کے بعد وفاق پر ہاتھ ڈالا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم رہنمائوں کی اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ ملاقات میں تمام اہم رہنمائوں بشمول نواز شریف، آصف زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور پنجاب اور وفاق میں تبدیلی لانے کے امکانات پر گفتگو کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت عثمان بزدار کیخلاف تحریک عدم اعتماد کا لانے کے حق میں تھی اور ق لیگ والے بھی اس کی حمایت کریں گے۔ تاہم نواز لیگ والے کسی ایسی تبدیلی کی صورت میں پنجاب میں حکومت لینے کے حق میں نہیں جب تک کے وفاق میں تبدیلی لانے کا فول پروف منصوبہ تیار نہ ہو جائے۔ اگلے سینٹ الیکشن میں مولانا فضل الرحمٰن کیلئے چیئرمین سینیٹ کے عہدے پر بھی بات چیت ہوئی لیکن کہا جاتا ہے کہ مولانا ایسی کسی بھی ’’ہائبرڈ تبدیلی‘‘ کیلئے تیار نہیں۔
مولانا کا موقف ہے کہ تبدیلی اس وقت تک موئثر نہیں ہوتی جب تک نظام کو درست نہ کیا جائے لہذا ضروری ہے کہ وسیع تر اصلاحات کے ذریعے یقینی بنایا جائے کہ آئندہ کے الیکشنز میں فوج کا کردار نہیں ہوگا اور انتخابی عمل صاف اور شفاف ہو گا تاکہ عوام کے ووٹوں سے ہیں حکومتیں تبدیل ہو سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے بھی سیاسی تبدیلی کی ہوا کے تھپیڑے محسوس کرتے ہوئے اب دوبارہ سے اپنی اتحادی جماعتوں کو رام کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں اور ان کی جانب سے پچھلے ہفتے اسلام آباد میں دیا جانے والا ظہرانہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ تاہم اس عشائیہ میں قاف لیگ اور بی این پی پی کی قیادت شریک نہیں ہوئی جن دونوں کی وجہ سے عمران خان مرکز میں وزیراعظم ہیں اور عثمان بزدار پنجاب میں وزیراعلی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اتحادیوں کا اچانک عدم اطمینان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب تبدیلی کی ہوائیں چل رہی ہیں اور پی ڈی ایم جماعتیں انہیں محسوس بھی کر رہی ہیں۔ یاد رہے کہ نواب اختر مینگل کی بی این پی اور گجرات کے چوہدریوں کی ق لیگ وزیراعظم عمران خان کو برسراقتدار رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کر رہی تھیں جو کہ اب ناراض ہو چکی ہیں۔ لہٰذا اگر ان حالات میں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آتی ہے تو اس کی کامیابی کے امکانات اس لئے روشن ہیں کہ کپتان حکومت مرکز میں 10 سے بھی کم ووٹوں کی اکثریت سے قائم کی گئی تھی۔
