اپوزیشن کی تجویز پر حکومت نیب ترمیمی آرڈیننسز واپس لینے کیلئے تیار

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نیب قوانین آرڈیننسز کے معاملے پر اہم پیشرفت ہوئی ہے اور حکومت اپوزیشن کے مطالبے پر نیب سے متعلق پہلا ترمیمی آرڈیننس واپس لینے پر تیار ہو گئی ہے۔
آرمی ایکٹ ترمیمی بل پاس ہوتے ہی نئی قانون سازی پر حکومت اور اپوزیشن میں معاملات طے پانے لگے ہیں۔ قومی نوعیت کی قانون سازی میں اپوزیشن کی تجاویز بھی شامل کی جائیں گی۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان قانون سازی پر مذاکرات سپیکر چیمبر میں ہوئے۔ وزیر قانون فروغ نسیم، وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی، رانا ثنا اللہ، رانا تنویر، خواجہ سعد رفیق، پرویز اشرف اور سید نوید قمر شریک ہوئے۔ذرائع کے مطابق حکومت قومی اسمبلی سے ایک ہی دن درجن سے زائد پاس کردہ بلز، آرڈیننس واپس لینے اور قانون سازی کے مراحل مکمل کرنے پر رضامند ہو گئی ہے۔حکومت نے نیب آرڈیننس میں بھی اپوزیشن کی تجاویز شامل کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی کا سینیٹ میں متعارف کردہ بل اور ن لیگ دور کے مسودے پر بھی مشاورت کی جائے گی۔رہنما مسلم لیگ ن رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ نیب بارے حکومت اور اپوزیشن کے مجوزہ نکات سامنے رکھ کر متفقہ نکات کو نئے قانون میں شامل کیا جائے گا۔ حکومت اور اپوزیشن میں طے پانے والے فارمولا کے مطابق 9 میں سے 3 آرڈیننس منظور تصور ہونگے جبکہ 6 پاس کردہ بلوں میں سے 4 بلز اتفاق رائے سے منظور کروائے جائیں گے۔ دو بلوں کو قائمہ کمیٹی سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق پہلے آرڈیننس میں 5 کروڑ سے زائد کرپشن کے ملزمان کے لیے جیل میں بی کے بجائے سی کلاس کر دی گئی تھی جبکہ دوسرے ترمیمی آرڈیننس میں تاجروں اور سرکاری افسران کو چھوٹ دی گئی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے حکومت نیب کے دوسرے ترمیمی آرڈیننس میں اپوزیشن کی تجاویز کو بھی شامل کرنے پر رضامند ہو گئی ہے۔
خیال رہے کہ وفاقی کابینہ نے نیب ترمیمی آرڈیننس 2019 کی بذریعہ سرکولیشن منظوری دی تھی جس کے بعدصدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے دستخط کے بعد یہ ترمیمی آرڈیننس نافذ ہوگیا ہے۔ نیب ترمیمی آرڈیننس کے نفاذ سے نیب کے وسیع اختیارات میں کمی آئی ہے جس پر اپوزیشن کی جانب سے اعتراضات کیے جارہے ہیں جب کہ سپریم کورٹ میں اسے چیلنج بھی کردیا گیا ہے۔ ترمیمی آرڈیننس کے نفاذ کے بعد محکمانہ نقائص پر سرکاری ملازمین کے خلاف نیب کارروائی نہیں کرے گا جب کہ ترمیمی آرڈیننس سے ٹیکس اور اسٹاک ایکسچینج سے متعلق معاملات میں بھی نیب کا دائرہ اختیار ختم ہوگیا ہے۔ نیب حکومتی منصوبوں اور اسکیموں میں بے ضابطگی پر پبلک آفس ہولڈر کے خلاف کارروائی نہیں کر سکے گا، تاہم کسی پبلک آفس ہولڈر نے بے ضابطگی کےنتیجے میں مالی فائدہ اٹھایا تو نیب کارروائی کر سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button