ترمیمی بل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعاون تعویزوں کا نتیجہ ہے

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ تعاون کو تعویزوں کا کام کرنا قرار دے دیا۔پشاور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سوا لاکھ تعویز داتا دربار میں استعمال ہوئے ہیں اور سارا کام ٹھیک ہوگیا ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے نیب کی بعض دفعات کو غیر اسلامی قرار دینے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی چیز شریعت سے متصادم نہیں آسکتی۔ پریس کانفرنس میں شیخ رشید نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ لوگ دم، درود اور تعویزوں کے بغیر مانتے نہیں ہیں جبھی ہم نے تعویزوں سے کام کیا اور ان تعویزوں نے اثر کیا اور کام ہوگیا۔صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ یہ تعویز کس نے کروائے تھے تو انہوں نے کہا کہ یہ خاندانی تعویز تھے۔ دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ میں پہلے ہی کہتا تھا کہ آپ نے اس پوائنٹ پر آنا ہے اور ‘باجوہ ڈن ہے، ڈن ہے’، یہ لوگ ایسے ہی بات کرتے تھے۔
نیب آرڈیننس میں ترمیم اور احتساب سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ احتساب ہونا ہے اور عمران خان کا ایجنڈا احتساب ہے لیکن اگر کچھ لوگوں کو اس کا فائدہ پہنچ رہا ہے تو مجھے یقین ہے کہ مارچ کے بعد احتساب اپنی اصل شکل میں آجائے گا اور اس میں جان آجائے گی۔انہوں نے ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کو ختم ہونے میں 3 سال لگیں گے۔ آخر میں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہماری مشکلات میں اضافہ نہیں ہوتا، پاک فوج جیسے ادارے جمہوریت اور عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، شہباز شریف سمجھدار آدمی ہیں پہلے بھی نواز شریف کو وہی لائے تھے اور ابھی بھی جو تھوڑا بہت ‘کشن’ مل رہا ہے وہ اس لیے کہ وہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلتے ہیں۔
خیال رہے کہ شیخ رشید کی جانب سے یہ تمام بات حکومت اور اپوزیشن کے مابین حالیہ تعاون کے ذریعے ہونے والی قانون سازی کے تناظر میں کی گئی۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں حکومت نے پاکستان آرمی، نیوی، ایئرفورس ایکٹس ترامیمی بلز کو پہلے قومی اسمبلی اور بعد ازاں سینیٹ سے کثرت رائے سے منظور کروایا تھا۔اس منظوری کے عمل کے دوران ملک کی 2 بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے ساتھ دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button