اڑھائی سال میں نیب کی کارکردگی صفر، 90 % کیسز جھوٹے ثابت

سپریم کورٹ کی جانب سے سیاسی انجینئرنگ کا ایک ٹول قرار دیا جانے والا احتساب کا ادارہ نیب سالہا سال اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کے خلاف ہائی پروفائل کیسز چلانے کے باوجود 90 فیصد مقدمات میں ملزمان کو سزائیں دلوانے میں ناکام رہا ہے جس سے اس تائثر کو تقویت ملتی ہے کہ احتساب بیورو دراصل سیاسی انجنیئرنگ کا ادارہ ہے جو حکومتی ایما پر احتساب کے نام پر مخالفین کو دبانے کے مشن پر گامزن ہے۔ دوسری طرف نیب ایسے سیاسی رہنماؤں کے خلاف انکوائریاں اور کیسز بند کرنے میں مصروف ہے جو حکومت وقت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں تازہ ترین مثال کپتان حکومت کی سیاسی بیساکھیوں کی حیثیت رکھنے والے چوہدری برادران کے خلاف کرپشن کے کیسز بند کر کے انہیں کلین چٹ دینے کی ہے۔ تاہم اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ اپنے قیام سے لیکر ابتک نیب نے کسی ہائی پروفائل کیس میں طویل مقدمے بازی کے بعد بھی ہمیشہ کیسز بند ہی کئے ہیں کیونکہ یہ اکثر الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں جب نیب کی طویل انکوائری کے باوجود ملزموں کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ثابت نہیں ہوا کیونکہ اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما جہانگیر بدر، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور کچھ عرصہ پہلے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے خلاف بھی الزامات کے ثبوت نہ ملنے پرنیب کو کیس بند کرنے پڑے تھے۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا پر توشہ خانہ کیس جبکہ راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور سٹیشن کیس بنایا گیا تھا۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، حکومتی وزرا علیم خان اور سبطین خان کے خلاف کئی سال پرانے کیس کھولے گئے تھے البتہ انہیں گرفتاری کے بعد ضمانتیں مل چکی ہیں۔ سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنایا تھا کہ نیب قانون ملک میں بہتری کی بجائے مخالفین کا بازو مروڑنے کے لیے استعمال کیا گیا اور نیب آرڈیننس اپنے اجرا سے ہی انتہائی متنازع رہا ہے، نیب کے امتیازی رویے کے باعث اس کا اپنا تشخص متاثر ہوتا ہے اور اسکی غیرجانبداری پرعوام کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔
اعدادو شمار کے مطابق قومی احتساب بیورو کی جانب سے گزشتہ دو سال کے دوران جن 36؍ اعلیٰ شخصیات پر اختیارات کے ناجائز استعمال یا مبینہ کرپشن کے جو مقدمات قائم کیے گئے ہیں؛ انہوں نے اپنے جسمانی ریمانڈ کے ہفتوں یا مہینوں کے اندر ہی ضمانت پر رہائی حاصل کر لی، جس سے بیورو کی صلاحیت اور نیت پر شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ بیورو کی ناکامی کی وجہ سے ادارے پر اپوزیشن جماعتوں کے ان الزامات کو تقویت ملتی ہے کہ بیورو کو سیاست دانوں، سرکاری ملازمین اور کاروباری اشخاص کو حکومت کی ایما پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 36؍ بڑے کیسز میں تقریباً 90؍ فیصد ملزمان نے طویل جسمانی ریمانڈ کا عذاب برداشت کرنے کے بعد گزشتہ ڈھائی سال کے دوران عدالتوں سے ضمانت حاصل کر لی۔ ہر ملزم نے اوسطاً 41؍ دن نیب کی حراست میں جبکہ 146؍ دن جوڈیشل حراست میں گزارے۔ جن تمام ملزمان کو ضمانت پر رہائی ملی (حمزہ شہباز اور خورشید شاہ کے سوا کیونکہ دونوں ابھی جیل میں ہیں) مجموعی طور پر 5؍ ہزار دن تک نیب کی جیل میں رہے جبکہ نیب نے انہیں 1400؍ دن تک جسمانی ریمانڈ پر رکھا۔ دو کاروباری شخصیات ایسی تھیں جنہیں عدالت نے سات ماہ بعد بری کر دیا جبکہ ایک ملزم نیب کی حراست میں انتقال کر گیا جبکہ ایک نے خودکشی کرلی۔
ملزم احد چیمہ نے جیل میں 616؍ دن، شرجیل میمن 606 دن، ڈاکٹر عاصم 409 اور خواجہ سعد رفیق نے 404؍ دن جیل میں گزارے۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 79؍ دن نیب کی حراست میں گزارے، حمزہ شہباز نے 83؍، شاہد خاقان عباسی 68؍، احد چیمہ 90؍ اور فواد حسن فواد نے 90؍ دن یعنی اپنی حراست کا زیادہ حصہ نیب کی حراست میں گزارا۔ بیورو نے کسی بھی ملزم کو گرفتار کرنے میں کم از کم 3؍ جبکہ زیادہ سے زیادہ 11؍ سال لگائے جبکہ میر شکیل الرحمان کو شکایت کی تصدیق کے مرحلے پر ہی گرفتار کرکے بیورو نے نئی تاریخ رقم کی۔ آزاد وکلاء کا کہنا ہے کہ اعلیٰ شخصیات کو گرفتار کرکے نیب نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ اس کے پاس جسمانی ریمانڈ کا ایسا اختیار ہے جس کے ذریعے وہ ملزم کو کئی مہینوں تک قید تنہائی میں رکھ کر ثبوت تلاش کرتا ہے۔ نیب کی پراسیکوشن ٹیم اور وکلاء، جو ان کیسز میں شامل ہیں، نے بتایا کہ یہ بڑی شخصیات غلط کاریوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال جیسے الزامات کا سامنا کر رہی ہیں جن کی وجہ سے قومی خزانے کو 845؍ ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں نے 32؍ ہائی پروفائل کیسز میں ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے نیب کی پراسیکوشن ٹیموں کے موقف کو قبول نہیں کیا۔ ان افراد میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل، پی ٹی آئی کے سینئر رہنما علیم خان، پی ٹی آئی رکن صوبائی اسمبلی سطبین خان، سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، کاروباری شخصیات اقبال زیڈ احمد اور عثمان جاوید، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے سابق وزیر احسن اقبال، ریلویز کے سابق وزیر سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق، نون لیگ کے رہنما قمر الاسلام، سرکاری ملازمین فواد حسن فواد، احد چیمہ طیبہ فاروق اور ان کے شوہر محمد فاروق، سندھ کے سابق وزیر اطلاعات شرجیل میمن، سابق وزیر پٹرولیم عاصم حسین، اسپیکر سندھ اسمبلی سراج درانی، یوسف عباس شریف، سابق ایم ڈی پی ایس او عمران الحق، نون لیگ کی رہنما مریم نواز، بلوچستان کے سابق مشیر خزانہ خالد لانگروو اور کئی دیگر افراد ان میں شامل ہیں۔
ملزم کو حراست میں رکھنے کا اختیار نیب کو اپنے آرڈیننس کے سیکشن 24؍ سی سے ملتا ہے جس کے تحت کسی بھی شخص کو انکوائری یا انوسٹی گیشن کیلئے 90؍ روز تک حراست میں رکھ سکتا ہے جبکہ عدالت کے ذریعے 15؍ دن تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ اپنے معیاری طریقہ کار یعنی ایس او پیز کے مطابق نیب پہلے شکایت کی تصدیق کرتا ہے اس کے بعد انکوائری ہوتی ہے اور اس کے بعد انوسٹی گیشن کی باری آتی ہے۔ اس کے بعد ہی کسی بھی ملزم کیخلاف ریفرنس دائر کیا جاتا ہے۔ لیکن جنگ گروپ کے چیف ایگزیکٹو افسر میر شکیل الرحمان کو شکایت کی تصدیق کے مرحلے پر گرفتار کرکے نیب نے نئی تاریخ رقم کی۔
نیب نے سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کو اے ایچ ایس اسکینڈل میں 21؍ فروری 2018ء کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر 22؍ مئی 2018ء کو بھیجا۔ 28؍ جنوری 2020ء کو چیمہ نے لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہائی حاصل کی۔ ان پر 2؍ ارب روپے کے غبن کا الزام تھا۔ سابق صدر آصف علی زرداری کو 11؍ دسمبر 2019ء کو طبی وجوہات کی بنا پر ضمانت پر رہا کیا گیا۔ انہیں 9؍ جون 2019ء کو جعلی اکائونٹس کیس میں نیب نے گرفتار کیا تھا۔ وہ 68؍ دن تک نیب کی حراست اور اس کے بعد 17؍ اگست تک جوڈیشل ریمانڈ پر رہے۔ اسی طرح ان کی بہن ایم پی اے فریال ٹالپر کو 17؍ دسمبر 2019ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے طبی وجوہات کی بنا پر ضمانت پر رہا کیا۔ انہوں نے 56؍ دن نیب کی حراست جبکہ 113؍ دن جیل میں گزارے۔ انہیں بھی جعلی اکائونٹس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں بھائی بہن پر 54؍ ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔ حمزہ شہباز اور خورشید شاہ دو ایسے سیاستدان ہیں جو سپریم کورٹ میں اپنی ضمانت پر رہائی کا کیس لڑ رہے ہیں۔ ان دونوں کی درخواستیں ہائی کورٹ میں مسترد ہو چکی ہیں۔ حمزہ شہباز کو 11؍ جون 2019ء کو گرفتار کیا گیا تھا، انہوں نے 83؍ دن نیب کی حراست میں گزارے جس کے بعد انہیں 4؍ ستمبر 2019ء کو جیل بھیج دیا گیا۔
دوسری جانب نیب ترجمان نوازش علی کہتے ہیں کہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے، کسی کے خلاف کوئی شکایت آتی ہے تو ہم قانون کے مطابق تحقیقات کرتے ہیں۔ نوازش علی کے مطابق انکوائری میں تاخیر کئی وجوہات کی بنیاد پر ہوتی ہے، نیب قانون کے مطابق کسی پر لگنے والے الزامات کی تحقیق کرتا ہے اور اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کراتا ہے جس پر عدالت اپنا فیصلہ سناتی ہے۔ نوازش علی کے مطابق نیب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کسی سیاسی جماعت کے خلاف ہیں نہ حق میں، جو قانون کہتا ہے وہی کرتے ہیں۔
