اکلاپا اور تنہائی عمران کا مستقبل کیوں ہے؟

تحریک انصاف کے دیرینہ رہنماؤں کی پارٹی یا سیاست سے علیحدگیوں کا سلسلہ ابھی رُکا نہیں ہے لیکن اب تک جن افراد نے پارٹی چھوڑنے کے لیے پریس کانفرسیں کی ہیں ان کے موقف میں کچھ نہ کچھ فرق ضروردکھائی دیتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق پی ٹی آئی سے علیحدگی اختیار کرنے والے رہنماؤں کی تعداد سینچری عبور کر چکی ہے۔

تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جنہوں نے صرف پارٹی نہیں چھوڑی بلکہ سیاست ہی چھوڑ دینے کا اعلان کیا۔ان میں سے کچھ افراد نے ’موجود حالات میں سیاست سے وقفہ لینے‘ کا اعلان کیا۔پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری، فواد چوہدری، عامر محمود کیانی، عمران اسماعیل اور علی زیدی کا شمار تحریک انصاف کے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جو پارٹی اور سابق حکومت میں اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان سب نے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کیا ہے۔اس کے علاوہ سابق ایم این اے راجہ خرم نواز، ملیکہ بخاری،  جمشید چیمہ اور ان کی اہلیہ مسرت چیمہ، تحریک انصاف کی سینئر نائب صدر ویمن ونگ پنجاب کنیز فاطمہ، گلوکار ابرارالحق نے بھی پارٹی کے ساتھ ساتھ سیاست بھی چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔

پریس کانفرنس کرنے والے کچھ رہنما ایسے بھی تھے جنہوں نے صرف پارٹی عہدوں اور عمران خان سے علیحدگی کا اعلان کیا لیکن سیاست جاری رکھنے، چھوڑنے یا کسی اور پارٹی میں شمولیت کے بارے میں کوئی واضح اعلان نہیں کیا۔اسد عمر تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل تھے۔ انہوں نے اڈیالہ جیل سے پریس کلب اسلام آباد پہنچ کر پریس کانفرس کی اور لگ بھگ وہی باتیں دہرائیں جو دیگر رہنما ان سے قبل کر کے گئے تھے۔لیکن اسد عمر نے ایک سوال کے جواب میں واضح طور پر کہا تھا کہ میں نے صرف پارٹی عہدے چھوڑنے کی بات کی ہے جس سے تأثر مل رہا تھا کہ وہ ابھی تک اپنی جماعت ہی کے ساتھ ہیں۔

فیاض الحسن چوہان جو پی ٹی آئی کے دور حکومت میں پنجاب کے وزیراطلاعات بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے صرف پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا۔ فردوس عاشق اعوان نے 26 مئی کی پریس کانفرنس میں واضح لفظوں میں سیاسی سفر جاری رکھنے کی بات کی تھی۔

اس کے علاوہ سینیٹر سیف اللہ نیازی، مراد راس، خیبرپختونخواہ سے سابق صوبائی مشیر ملک قاسم خان، احسن انصر بھٹی، کراچی سے عباس جعفری نے بھی صرف پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ایک اور اہم بات یہ سامنے آئی کہ اب تک پی ٹی آئی کے جن صف اول کے رہنماؤں نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کیا ہے، ان میں سے بہت کم نے عمران خان پر تنقید کی ہے تاہم فیاض الحسن چوہان اور فردوس عاشق اعوان ان نمایاں چہروں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی پریس کانفرنسوں میں نسبتاً کھلے الفاظ میں عمران خان کے رویے اور ان کے اردگرد موجود ’مشیروں‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اب ایک سوال یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی اور عمران خان سے علیحدگی کا اعلان کرنے والوں میں کتنے ایسے افراد ہیں جن کا شمار الیکٹیبلز میں ہوتا ہے۔پاکستانی سیاست کے تناظر میں الیکٹیبلز ان سیاسی رہنماؤں کو کہا جاتا ہے جن کی جیت کسی سیاسی پارٹی کے ٹکٹ کی مرہونِ منت نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے حلقہ انتخاب میں برادری، سماجی رسوخ، مالی حیثیت یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر اکثر جیتنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔یہ الیکٹیبلز عموماً ہر الیکشن سے قبل سیاسی لہر کو بھانپتے ہوئے کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کا اعلان کرتے ہیں یا پھر وہ آزاد حیثیت میں الیکشن جیتنے کے بعد اس پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں جو اقتدار حاصل کرتی ہے۔سنہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل اور بعد میں جن الیکٹیبلز نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی، ان میں سے اکثر کو پی ٹی آئی میں لانے میں جہانگیر خان ترین نے کردار ادا کیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر دباؤ تو ہے لیکن ابھی تک سوائے خسرو بختیار کے کسی بھی ایسے شخص نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا جو الیکٹیبلز میں شمار ہوتا ہو۔ ہاں اس سے قبل جب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی گئی تھی تو اسی وقت کچھ الیکٹیبلز چلے گئے تھے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آئندہ دنوں میں الیکٹیبلز کے حوالے سے جہانگیر خان ترین کا کردار اہم ہو گا۔ وہ ان دنوں ایک بار پھر متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔

تحریک انصاف کے کچھ نمایاں رہنما ایسے بھی ہیں جو ابھی تک پارٹی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ان رہنماؤں میں سے کچھ گرفتار ہیں جبکہ دیگر روپوش ہیں۔شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین ہیں۔ وہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں لیکن ابھی تک ان کی جانب سے پارٹی چھوڑنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔اس کے علاوہ ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چوہدری، رکن پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید وہ رہنما ہیں جنہوں نے صاف الفاظ میں یہ کہا ہے کہ وہ عمران خان اور پی ٹی آئی کو نہیں چھوڑ رہے۔

Back to top button