اہم ترین جہانگیر ترین سیاسی یتیمی کا شکار ہو گئے


عمران خان کے سابقہ دست راست جہانگیر خان ترین باغی اراکین اسمبلی پر مشتمل ایک پریشر گروپ کے ذریعے شوگر سکینڈل میں احتساب سے تو بچ نکلے لیکن انہوں نے اپنی سیاست کا بیڑا غرق کردیا۔ لہذا کل تک اہم ترین خیال کئے جانے والے جہانگیر ترین اب سیاسی یتیمی کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔ یہ سمجھ لینے کے بعد کہ ترین نے صرف کرپشن کیسز سے بچنے کے لئے انہیں استعمال کیا، جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اکثر باغی ممبران قومی اور پنجاب اسمبلی ایک ایک کر کے جہانگیر ترین کا ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں اور واپس کپتان کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔
یوں جہانگیر ترین جوکہ چند ماہ قبل اہم ترین بن گئے تھے اب اپنی سیاسی ساکھ کھونے کے بعد اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں فارغ ہوتے نظر آرہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شوگر انکوائری کیس میں جنوبہ پنجاب پریشر گروپ کا دباؤ ڈال کر جہانگیر ترین نے اپنے خلاف ایف آئی اے کی تحقیقات تو سرد خانے میں ڈلوا دیں لیکن اس کے بعد اپنے ساتھیوں کو کسی قسم کا کوئی سیاسی ایجنڈا دینے میں ناکام رہے۔ اب جبکہ اگلے الیکشن قریب آرہے ہیں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے باغی گروپ کے ممبران اسمبلی کو اپنے سیاسی مستقبل کی فکر ہے لیکن جہانگیر ترین اس حوالے سے گومگو کا شکار ہیں کہ اگلے الیکشن میں کس جماعت کے ساتھ جانا ہے۔ جہانگیر ترین نے اس حوالے سے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اپنا رکھی ہے جس کے منفی اثرات اب سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ حال ہی میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے جہانگیر ترین گروپ کے کئی اور اراکین پنجاب اسمبلی نے ملاقات کر کے ان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔
ظاہر ہے کہ وہ جہانگیر ترین کا ساتھ دینے پر عمران خان سے معافی مانگنا چاہتے ہیں اور اسی لیے عثمان بزدار سے رابطہ کیا ہے۔ عثمان بزدار سے پچھلے ہفتے ترین گروپ کے نعمان لنگڑیال، خواجہ داؤد سلمانی اور عبد الحئی دستی نے ملاقات کی اور آپس کی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کرنے والے رہنماؤں نے ترین گروپ کو چھوڑ کر عثمان بزادر کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی اور اسکے لیڈر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یاد رہے کہ ایک باغی رکن پنجاب اسمبلی نذیر چوہان پہلے ہی جہانگیر ترین گروپ سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں جبکہ سردار خرم لغاری نے بھی اپنے خلاف ایک لڑکی کی جانب سے جنسی ہراسانی کا کیس درج ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کر کے معاملات طے کر لیے ہیں۔ ذرائع ایوان وزیر اعلیٰ نے ترین گروپ کے مزید باغی اراکین کی جانب سے بھی رابطوں کا دعویٰ کیا ہے جو جلد وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کریں گے۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ خود جہانگیر ترین بھی ہر طرف سے فارغ ہو جانے کے بعد اپنے محبوب قائد عمران خان سے ناراضی ختم کر کے معافی تلافی کی کوشش کر رہے ہیں، اس حوالے سے ایک خاص دوست کے ذریعے ترین نے عمران خان تک پیغام بھی پہنچا دیا ہے لیکن ابھی دوسری جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔ ظاہر ہے عمران خان بغض اور کینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے لہذا وہ اپنے خلاف سازش کرنے والے ترین کو اتنی آسانی سے معاف نہیں کریں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جہانگیر ترین نے چند مہینوں کی قید سے بچنے کے لئے اپنی سیاست کا قلع قمع کر دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اگر ترین گرفتار ہو جاتے تو انہیں سیاسی طور پر اسکا فائدہ ہوتا، وہ نہ صرف مظلوم بن جاتے بلکہ ان پر لگے کرپشن کے الزامات بھی دھل جاتے اور انکے سیاسی قد کاٹھ میں بھی اضافہ ہو جاتا۔ تاہم انہوں نے چند مہینے کی قید کی تکلیف سے بچنے کے لیے اپنی سالوں کی سیاست غرق کر دی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترین نے اپنی سیاست دفن کرنے کے لیے رہی سہی کسر ایف آئی اے کیسز میں ریلیف حاصل کرنے کے بعد یوں پوری کی کہ وہ سیاسی طور پر بالکل ہی غیر متحرک ہو گئے اور یہ تاثر دیا کہ ان کے پاس باغی گروپ کی مستقبل کی سیاست کے لیے کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ یاد رہے کہ باغی گروپ کی جانب سے عمران خان پر پریشر بڑھانے کے بعد جہانگیر ترین کے خلاف شوگر سکینڈل کیس کی بھرپور پیروی کرنے والی ایف آئی اے نے اچانک ایک روز متعلقہ عدالت کو بتایا کہ اسے اب ترین کو گرفتار کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہ یقین دہانی بظاہر عمران اور ترین کے مابین طے پانے والے معاہدے کا ایک حصہ تھی۔ چنانچہ اب ترین کا باغی گروپ مفاہمت اور مصلحت کے ہاتھوں اپنی سیاسی موت کا شکار ہوتا نظر آتا ہے۔

Back to top button