ایران کا یوکرینی مسافر طیارہ مار گرانے کا اعتراف

ایران نے یوکرین کا طیارہ مار گرانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ارادی طور پر انسانی غلطی کی وجہ سے طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں تصدیق کی کہ ’مسلح افواج کی اندرونی تحقیقات سے نتیجہ نکلا ہے کہ افسوسناک طور پر انسانی غلطی وجہ سے داغے گئے میزائلز کے نتیجے میں یوکرین کا طیارہ تباہ ہوا اور 176 معصوم افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ حسن روحانی نے کہا کہ اس المیے اور ناقابل معافی غلطی کی نشاندہی اور قانونی چارہ جوئی کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
The Islamic Republic of Iran deeply regrets this disastrous mistake.
My thoughts and prayers go to all the mourning families. I offer my sincerest condolences. https://t.co/4dkePxupzm
— Hassan Rouhani (@HassanRouhani) January 11, 2020
ایرانی صدر نے علیحدہ ٹوئٹ میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو اس تباہ کن غلطی پر شدید افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے احساسات تمام غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں، انہوں نے حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔
A sad day. Preliminary conclusions of internal investigation by Armed Forces:
Human error at time of crisis caused by US adventurism led to disaster
Our profound regrets, apologies and condolences to our people, to the families of all victims, and to other affected nations.
💔— Javad Zarif (@JZarif) January 11, 2020
دوسری جانب اس حوالے سے کیے گئے ٹوئٹ میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ ایک افسوسناک دن ہے، مسلح افواج کی اندرونی تحقیقات کے ابتدائی نتائج کے مطابق امریکی کشیدگی کی وجہ سے بحران کے وقت انسانی غلطی اس حادثے کا باعث بنی۔
ذرائع کے مطابق ایرانی فوجی حکام نے بتایا ہے کہ امریکا کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں فوج انتہائی الرٹ تھی اور طیارے کو پاسداران انقلاب کے حساس عسکری سینٹر کی طرف بڑھتے ہوئے ہدفِ مخالف سمجھ کر غلطی سے نشانہ بنایا گیا۔
یاد رہے کہ 3 جنوری کو امریکا نے بغداد میں میزائل حملہ کرکے ایرانی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کردیا تھاجس کے بعد ایران کی جانب سے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بدلہ لینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ 8 جنوری کی علی الصبح ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے عراق میں موجود امریکی فوج کے دو ہوائی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا جس میں 80 ہلاکتوں کا بھی دعویٰ کیا گیا تاہم امریکا نے اس حملے میں کسی بھی امریکی فوجی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تردید کی ہے۔
جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایران امریکا کشیدگی کے دوران 8 جنوری کو یوکرین کا مسافر طیارہ ایران میں گر کر تباہ ہوا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوئے۔ طیارہ تہران سے یوکرین کے دارالحکومت کفا جا رہا تھا جس میں 82 ایرانی اور 63 کینیڈین شہری بھی سوار تھے۔
امریکا، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا تھا کہ طیارے کو ایران نے میزائل سے نشانہ بنایا تاہم ایران نے کئی مرتبہ طیارے کو نشانہ بنائے جانے کے بیانات کی تردید کی۔ ایران نے واقعے کی تحقیقات میں تعاون کا بھی اعلان کیا اور امریکا کو تحقیقات کے لیے دعوت دی۔
اس حوالے سے کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ خفیہ معلومات اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ بدھ کو تہران کے ہوائی اڈے سے پرواز کرنے کے تھوڑی دیر بعد گر کر تباہ ہونے والا یوکرین کا مسافر بردار طیارہ ایران کے زمین سے فضا تک مار کرنے والے میزائل لگنے سے تباہ ہوا ہے۔
