ہرزہ سرائی، حکم ملا تو پاکستانی کشمیر کے حصول کیلئے کارروائی کرینگے

بھارتی آرمی چیف جنرل منوج موکنڈ نراوانے نے گیدڑ بھبکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ اگر چاہے تو آزاد کشمیر بھی ہمارا ہوسکتا ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے نئے بھارتی آرمی چیف جنرل منوج موکنڈ نراوانے نے آزاد کشمیر کے حوالے سے گیدڑبھبکی دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور پارلیمنٹ میں پہلے سے قرارداد موجود ہے اور اگر پارلیمنٹ چاہے اور ہمیں اس قسم کا کوئی حکم ملے توبھارتی فوج پاکستان کے کشمیر کے حصول کے لیے کارروائی کرے گی۔ا لیفٹننٹ جنرل منوج مکند نروانے نے دعویٰ کیا کہ ایک پارلیمانی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ’ پورا جموں اور کشمیر‘ (بشمول آزاد کشمیر) بھارت کا حصہ ہے۔بھارت کے نئے آرمی چیف نے مزید کہا کہ ’ اگر پارلیمنٹ کسی وقت یہ خواہش کرتی ہے کہ یہ حصہ بھی ہمارا ہوجائے اور اس حوالے سے ہمیں کوئی احکامات موصول ہوتے ہیں تو لازمی طور پر کارروائی کی جائے گی‘۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس 5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اور مقبوضہ وادی کی صورتحال پر پاکستان اور بھارت کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں۔ بھارت بھر میں متنازع شہریت ترمیمی قانون اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کے خلاف بڑے پیمانے پر جاری مظاہروں کی وجہ سے بھارتی جارحیت کی خدشات پھر سے پیدا ہوگئے ہیں۔
علاوہ ازیں یہ شبہ ہے کہ بھارتی حکومت اپنے ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی کرسکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بھی اس حوالے سے کئی بار خدشات کا اظہار کرچکے ہیں کہ بھارتی فوج پاکستان میں جارحیت کرسکتی ہے۔ ساتھ ہی بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر میزائل نصب کرنے اور بھارتی فوجیوں کی غیرمعمولی نقل و حرکت کی وجہ سے ان خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
بھارت کے موجودہ آرمی چیف گزشتہ ماہ بھارتی فوج کے 28ویں سربراہ کے عہدے پر تعینات ہوئے تھے اور میڈیا کو دیے گئے پہلے انٹرویو میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘نئی دہلی لائن آف کنٹرول کے پار حملوں کا اختیار رکھتا ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘سرحد پار دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے’۔
جس پر دفتر خارجہ نے بھارتی آرمی چیف کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘پاکستان کے عزم اور تیاری کے بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے، کسی بھی جارحانہ اقدام پر سخت جواب دیا جائے گا، کسی کو بھی بالاکوٹ میں بھارتی مس ایڈوینچر کے نتیجے میں پاکستان کے موثر ردعمل کو یاد رکھنا چاہیے’۔
