ایران کے خلاف "ڈی ڈے” کا امریکی اعلان

تحریر: نصرت جاوید
بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت
تاریخ کا سنجیدہ طالب علم نہیں ہوں۔ دنیا کے طاقتور ملکوں کے فیصلہ کن رہ نمائوں کی جانب سے چند اصطلاحات کا استعمال مگر اس سے رجوع کرنے کو مجبور کردیتا ہے۔ دو روز قبل بھی ایسے ہی ہوا۔ اتوار کی رات پیر کی صبح کی جانب بڑھ ر ہی تھی تو آنکھ کھل گئی۔ وقت گزاری کے لئے موبائل دیکھا تو ایک مہربان دوست نے امریکی وزیر تجارت -سکاٹ بیسنٹ- کا دنیا بھر کے سرمایہ کاروں میں مقبول اخبار ’’فنانشل ٹائمز‘‘ کے لئے لکھا ایک مضمون واٹس ایپ کے ذریعے بھیج ر کھا تھا۔
مذکورہ مضمون تہران کانفرنس کے ذکر سے شروع ہوا۔ امریکی وزیر تجارت کے بقول اس میں اْن دنوں کے امریکی صدر روز ویلٹ اور برطانوی وزیر اعظم چرچل شریک ہوئے تھے۔ باہمی ملاقاتوں کے بعد دونوں نے فیصلہ کیا کہ ہٹلر کے جرمنی کو شکست دینے کے لئے فیصلہ کن پیش قدمی کی ضرورت ہے۔
جس ’’تہران کانفرنس‘‘ کا ذکر امریکی وزیر تجارت نے کیا وہ 1943ء میں ہوئی تھی۔ چرچل اور روز ویلٹ جرمنی کو فیصلہ کن شکست دینے کی حکمت عملی تیار کرنے کے لئے برطانیہ یا امریکہ کے کسی شہر میں بھی مل سکتے تھے۔ تہران کا انتخاب اس لئے ہوا کیونکہ وہاں ہوئی سربراہ کانفرنس میں کمیونسٹ روس کے سٹالن نے بھی شریک ہونے پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔ سرمایہ دارانہ کیمپ سے نفرت کے باوجود روسی وزیر اعظم اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ دنیا کو حقیقی خطرہ فی الوقت ہٹلر اور اس کے فسطائی نظام سے ہے اور انسانیت کی بقاء کے لئے اس کے تمام مخالفین کا یکجا ہونا ضروری ہے۔
سٹالن کی شمولیت کے بعد فیصلہ یہ ہوا کہ روسی افواج مشرقی جرمنی پر بھرپور جنگ مسلط کریں گی۔ دریں اثناء امریکہ اور برطانیہ ہٹلر کے قبضے میں گئے فرانس کے شمالی علاقوں میں پیراشوٹ کے ذریعے فرانسیسی فوجی اتاریں گے۔ امریکی اور برطانوی چھاتہ بردار دوستوں کے ساتھ مل کر وہ مغربی جرمنی کی جانب پیش قدمی کا آغاز کریں گے۔ چھاتہ بردار افواج کو جس دن شمالی فرانس اتارا گیا اسے ڈی -ڈے (D-Day)پکارا گیا۔ انگریزی میں یہ اصطلاح 1918ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران استعمال ہوئی تھی۔ یہ کسی بھی ملک کی جانب سے کسی جنگ کو فیصلہ کن مراحل میں داخلے کی پیش قدمی کے دن کے لئے استعمال ہوتی ہے۔
’’ڈی-ڈے‘‘ ہر حوالے سے ایک فوجی اصطلاح ہے۔ امریکی وزیر تجارت نے مگر اسے خالصتاََ معاشی تناظر میں استعمال کیا۔ نہایت رعونت سے یہ دعویٰ کیا کہ ایران فوجی اعتبار سے کھوکھلا ہوچکا ہے۔ اسے معاشی ا عتبار سے مفلوج کرنا درکار ہے۔ اسے یقینی بنانے کے لئے ایران کیخلاف عائد اقتصادی پابندیوں کو مزید سخت کیاجارہا ہے۔ ایران کو اقتصادی اعتبار سے کھوکھلا کردینے کے لئے اس امر کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بھی ملک اس کا تیل نہ خریدے۔ ایران کی روزمرہ زندگی کے لئے بنیادی ٹھہرائی اشیاء کی درآمد کے لئے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دے۔ اس کے علاوہ ان بینکوں پر بھی کڑی نگاہ رکھی جائے گی جو ایران کی دیگر ممالک کے ساتھ لین دین کو یقینی بنانے کے لئے رقوم فراہم کرنے کا وسیلہ بنتے ہیں۔ مختصر ترین الفاظ میں یہ یوں کہہ لیں کہ سکاٹ بیسنٹ کا لکھا مضمون ایران کی کامل اقتصادی تنہائی یقینی بنانے کا اعلان تھا۔
بطور پاکستانی مجھے اس کے مضمون سے پریشان ہونے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ قریب ترین ہمسائے ہوتے ہوئے بھی ایران اور پاکستان کے مابین اقتصادی روابط نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہم دونوں کی سرحد اگرچہ ایرانی ڈیزل اورتیل کی پاکستان آمد روک نہیں سکتی۔ ہزاروں افراد موٹرسائیکلوں کے ذریعے چور مگر دشوار راستوں سے رات کے اندھیرے میں گزرتے ہوئے ڈیزل اور پٹرول کو اپنی معاشی بقاء کے لئے پاکستان لانا یقینی بناتے ہیں۔ ہمارے ہاں سے کھانے پینے کی اشیاء بھی ایران چلی جاتی ہیں۔ اس غیر رسمی تجارت کا حجم وسیع تر تناظر میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ مکران کے شہروں کو بجلی کئی دہائیوں سے ایران فراہم کرتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے سبب ہم مگر ایرانی گیس کو پائپ لائن کے ذریعے پاکستان لانے میں ناکام رہے ہیں۔
1943ء میں ہوئی ’’تہران کانفرنس‘‘ کے ذکر نے مجھے چونکا دیا۔ اس کے حوالے سے امریکی وزیر تجارت یہ حقیقت بھول گیا کہ سوویت یونین کا وزیر اعظم سٹالن بھی اس میں شریک ہوا تھا۔ علاوہ ازیں اہم ترین حقیقت یہ بھی تھی کہ 1943میں ہوئی کانفرنس کے اختتام پر جن فیصلہ کن اقدامات پر اتفاق رائے ہوا وہ سب فوجی نوعیت کے تھے۔ سوویت یونین کے سٹالن کی 1943ء کی تہران کانفرنس میں شرکت فراموش کردینے کے علاوہ امریکی وزیر تجارت یہ حقیقت بھی نظر انداز کرگیا کہ 2026ء میں امریکہ اور برطانیہ ایران کے حوالے سے سیم پیج پر نہیں۔ حال ہی میں استعفیٰ دینے کو مجبور ہوئے برطانوی وزیر اعظم کیئرسٹارمر نے نیٹو فوجی اتحاد کا رکن ہونے کے باوجود کئی مراحل پر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جارحانہ حملوں میں حصہ دار بننے سے انکار کردیا تھا۔ امریکہ ایران کے جس مقاطعے کا اعلان کررہا ہے وہ دیگر ممالک کی مشاورت سے نہیں ہوا۔ واشنگٹن کی جانب سے ہوا یکطرفہ فیصلہ ہے۔ 1943ء کی تہران کانفرنس اور ’’ڈی-ڈے‘‘ کے ذکر کا مذکورہ تناظر میں کوئی جواز ڈھونڈنے میں کم از کم میری ناقص عقل ناکام رہی ہے۔
دنیا کے ہر ملک کو ایران کے ساتھ اقتصادی لین دین سے دور رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے امریکی وزیر تجارت اس حقیقت کو بھی نظرانداز کر گیا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار عوامی جمہوریہ چین ہے۔ ایرانی تیل کو 2025ء کے برس اس نے ریکارڈ بناتی تعداد میں خریدا۔ وہاں سے آئے خام تیل کے بھاری ذخیرے اپنی سرزمین پر قائم کئے۔ ان ذخیروں میں جمع ہوئے تیل کو اپنی ریفائنریوں میں صاف کرنے کے بعد دیگر ممالک کو پٹرول اور ڈیزل کی فروخت بھی شروع کردی۔ سوال اٹھتا ہے کہ بذاتِ خود ایک اہم فوجی اور اقتصادی قوت ہوتے ہوئے چین امریکہ کے حکم کی فدویانہ تعمیل کیوں کرے گا۔ ایران کے ساتھ چین کے اقتصادی روابط سے خفا ہوکر امریکہ اگر چین پر اقتصادی پابندیاں لگانے کا فیصلہ کرے تو چین اپنے ہاں سے نایاب معدنیات کی امریکہ تک رسائی ناممکن بناتے ہوئے امریکہ کی موبائل فونز، انٹرنیٹ اور صنعتی ذہانت سے جڑی اجارہ دار کمپنیوں کو دیوالیہ کرسکتا ہے۔ غالباََ یہ پہلو نگاہ میں رکھتے ہوئے امریکی وزیر تجارت پیر کے روز واشنگٹن میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے چند بنیادی سوالات کے جواب فراہم کرنے سے گریز کرتا دکھائی دیا۔
ایران کے خلاف ’’ڈی-ڈے‘‘ کے اعلان سے قبل بین الاقوامی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ غالباََ مذکورہ گفتگو کے بعد ہی پاکستانی سپہ سالار تہران جانے کو آمادہ ہوئے۔ یاد رہے کہ امریکی ایوانِ صدر نے یہ کالم لکھنے تک رائٹرز کی دی خبر کی تصدیق یا تردید سے اجتناب برتا ہے۔ ایران کے خلاف 1943ء کی ’’تہران کانفرنس‘‘ کے ذکر کے بعد ’’ڈی-ڈے‘‘ کا اعلان مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں لایعنی بڑھک بازی ہی محسوس ہورہی ہے۔
