کیا افغان طالبان کے پاس بدخشان میں پاکستان کی مداخلت کا کوئی ثبوت ہے؟

پاکستان نے افغانستان کی طالبان حکومت کے اس دعوے کو بے بنیاد الزام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ پاکستانی فورسز افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کو مدد فراہم کر رہی ہیں۔
پاکستان کی وفاقی وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ وہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے ’اس بے بنیاد الزام کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہیں کہ اس کی فورسز نے بدخشان میں مسلح اپوزیشن گروہوں کی حمایت کی یا ان کے ساتھ کارروائیوں میں شریک رہیں۔‘
وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے ترجمان نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا۔
یاد رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے افغانستان کے صوبے بدخشاں سے طالبان مخالف مسلح گروہوں کی کارروائیوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
گذشتہ ماہ ایک مسلح گروہ کے اراکین نے دعوی کیا تھا کہ وہ چند گھنٹوں کے لیے پاکستان سے ملحقہ صوبے بدخشاں میں ضلع یفتل پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
پنجشیر صوبے میں ’قومی مزاحمتی محاذ‘ کی شکست کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ طالبان کے مسلح مخالفین نے کوئی ضلع فتح کیا ہو۔ تاہم افغان طالبان نے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔
20 جولائی کو بی بی سی اردو پر شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق بدخشاں میں طالبان حکومت کی پولیس کمانڈ کے ترجمان نے بی بی سی کو تصدیق کی تھی کہ ’جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب چونکہ ضلع کے اعلیٰ ذمہ داران رخصت پر تھے، اس لیے چند غیر ذمہ دار افراد نے ضلعی مرکز پر حملہ کیا، جنہھں سکیورٹی فورسز نے چند گھنٹوں کے اندر ہی پسپا کر دیا۔‘
اس کارروائی کے پیچھے ’قیوم خان ملنگ‘ اور ان کے گروہ ’سپاہیانِ میہن‘ کا ہاتھ تھا۔
اس کے بعد رواں ماہ افغانستان کی طالبان کے زیر انتظام وزارت دفاع نے کہا تھا کہ اس کا ایک ہیلی کاپٹر شمال مشرقی صوبہ بدخشان میں بجلی کے پائلون سے ٹکرا کر حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا۔
لیکن اسی حوالے سے برطانیہ میں قائم افغانستان انٹرنیشنل نے 13 اگست کو رپورٹ کیا تھا کہ مقامی ذرائع کے مطابق باغی طالبان کمانڈر جمعہ خان فتح کی وفادار فورسز نے ضلع نصی میں طالبان فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔
اسی طرح، نجی ہشت صباح نے اسی دن رپورٹ کیا کہ یہ حادثہ جمعہ خان فتح کے جنگجوؤں اور طالبان حکام کے درمیان جاری جھڑپوں کے دوران ہوا۔ افغانستان کی وزارت دفاع نے 13 اگست کو کہا، ’وزارت دفاع کے ایک ہیلی کاپٹر کو اس وقت نقصان پہنچا جب اس کے بلیڈ بجلی کے پائلون سے ٹکرائے، لیکن واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔‘
تاہم بعد ازاں 17 اگست کو شائع ہونے والی بی بی سی اردو کی ایک خبر کے مطابق افغانستان میں طالبان کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ بدخشاں میں حالیہ ہفتوں میں طالبان کے خلاف لڑنے والے مقامی کمانڈر جمعہ خان فتح نے ’بغیر کسی معاہدے کے فورسز کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے۔‘
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا کہ جمعہ خان فتح کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد منتقل کیا گیا ہے۔
بی بی سی نے ان خبروں کی تصدیق کے لیے جمعہ خان فتح اور ان کے ساتھیوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
سوموار کی شب دیر گئے افغان خبر رساں ادارے آماج نیوز نے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا ایک ویڈیو انٹرویو اپنے ایکس اکاؤنٹ سے شیئر کیا جو انھوں نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی ڈبلیو کو دیا تھا۔
اس ویڈیو کے ہمراہ اپنی پوسٹ میں آماج نے دری میں دیے گئے اس انٹرویو کا انگریزی ترجمہ بھی لکھا تھا۔
آماج نیوز کی پوسٹ کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان نے دعویٰ پاکستانی فورسز بدخشان میں مسلح مخالف گروہوں کا ساتھ دے رہی ہیں۔
پوسٹ کے مطابق ڈی ڈبلیو کو دیے گئے انٹرویو میں ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ طالبان مخالف مسلح گروہوں کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔
مجاہد نے مزید دعویٰ کیا کہ کچھ عرصہ قبل بدخشان میں مسلح اپوزیشن کے ارکان نے پاکستانی فورسز کے ساتھ بھی کام کیا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ طالبان پاکستان کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
پاکستان کی وفاقی وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ سے آماج نیوز کی پوسٹ کی ٹسویر شیئر کی گئی ہے اور ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کو حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
وزارت کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک انٹرویو میں افغان طالبان کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی فوج بدخشاں میں ہونے والی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہے تاہم ’حقیقت اس دعوے سے یکسر مختلف ہے۔‘
’پاکستان اس بے بنیاد الزام کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے کہ اس کی فورسز نے بدخشاں میں مسلح اپوزیشن گروہوں کی حمایت کی یا ان کے ساتھ کارروائیوں میں شریک رہیں۔‘
پاکستان وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے ترجمان کی جانب سے اس دعوے کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’بدخشاں میں جاری بدامنی افغانستان کے معاملات میں پاکستانی مداخلت کی نہیں بلکہ افغانستان کے اپنے داخلی سلامتی اور طرزِ حکمرانی سے متعلق چیلنجوں کی عکاسی کرتا ہے۔‘
وزارتِ اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ ’دستیاب آزادانہ رپورٹنگ کے مطابق یہ جھڑپیں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کا حصہ ہیں اور ان میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔‘
’پاکستان مسلسل ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کی حمایت کرتا آیا ہے اور اسے اپنے ہمسایہ ملک کو غیر مستحکم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’طالبان حکومت کو افغانستان کے اندرونی مسائل کا الزام پاکستان پر دھرنے کے بجائے اپنی حکمرانی میں پائی جانے والی ناکامیوں سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنا چاہیے۔ بغیر ثبوت کے دعوے حقائق کا متبادل نہیں ہو سکتے۔‘
بشکریہ : بی بی سی اردو
