ایف آئی آر میں تاخیر عمران کا کیس کیسے خراب کرے گی؟

وزیرآباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزم نوید کی گرفتاری اور اسلحے کی برآمدگی کے باوجود کیس کی ایف آئی آر درج نہیں ہو پا رہی جس سے مقدمے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عام حالات میں اس نوعیت کے واقعات میں پولیس کے پاس ایف آئی آر درج نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں بچتا تاہم وزیر آباد واقعے میں 48 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر جانے کے بعد بھی ایف آئی آر درج نہیں کی جا سکی جس کی بنیادی وجہ عمران خان کی ضد ہے جو ایک سینئر فوجی افسر کو ملزمان میں شامل کروانا چاہتے ہیں، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں ہر گھنٹے کی تاخیر متاثرہ فریقین کے کیس کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

عمران خان نے اگلے روز ہسپتال سے ایک ویڈیو پیغام میں الزام عائد کیا کہ ’میرے خلاف قتل کی سازش میں تین افراد، وزیرِاعظم شہباز شریف، وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ اور انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے کاؤنٹر انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ میجر جنرل فیصل شامل ہیں۔‘ عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کروا رہی ہے تاہم ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی۔ ’آپ کو پتا ہی ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے، یاد رہے کہ پنجاب میں حکومت پی ٹی آئی کی ہے تاہم پنجاب کے وزیرِاعلٰی پرویز الہٰی کو ایف آئی آر میں فوجی افسر کا نام شامل کرنے پر اعتراض ہے لہٰذا ایف آئی آر کا اندراج نہیں ہو پا رہا۔

ڈی پی او گجرات غضنفر علی شاہ کے مطابق گجرات پولیس کو تاحال پی ٹی آئی یا متاثرہ افراد کی طرف سے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے درخواست موصول نہیں ہوئی، اب معاملہ سی ٹی ڈی پنجاب کے پاس چلا گیا ہے تو ان کے اپنے بھی تھانہ جات ہیں، وہاں بھی مقدمہ درج ہو سکتا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب بھی صوبائی حکومت فیصلہ کر لے گی اور پولیس کو درخواست موصول ہو جائے گی تو فوری طور پر ایف آئی آر کا اندراج کر دیا جائے گا۔ خیال رہے کہ پولیس کے پاس فرسٹ انفارمیشن رپورٹ یا ایف آئی آر کسی بھی واقعے کی تحقیقات میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
اسی کی روشنی میں پولیس تحقیقات کو آگے بڑھاتی ہے اور حقائق تک پہنچنے کے لیے شواہد اکٹھے کرتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایف آئی آر کے اندراج میں ایک گھنٹے کی تاخیر بھی متاثرہ فریق کے لیے عدالتی کارروائی کے دوران انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ قانونی ماہر اسد جمال کا کہنا ہے کہ فوجداری نوعیت کے واقعات میں فوری طور پر ایف آئی آر کا اندراج ضروری ہوتا ہے ورنہ عدالت میں ملزم کا وکیل اس بات سے فائدہ اٹھاتا ہے اور عام طور پر اگر ایف آئی آر درج کروانے میں چوبیس گھنٹے سے زیادہ کی تاخیر ہو تو ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔اسد جمال کا کہنا تھا کہ ملزمان کا وکیل یہ موقف اپناتا ہے کہ ایف آئی آر اس لیے تاخیر سے کٹی کہ متاثرہ فریق نے دانستاً ملزمان کو محض پھنسانے کے لیے جھوٹے الزامات گھڑنے پر وقت لگایا۔

گجرات پولیس کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر غضنفر علی شاہ کے مطابق پولیس نے واقعے کے مقام سے گولیوں کے گیارہ خول جمع کیے ہیں۔ ان میں نو خول پستول کے جبکہ دو خول اسالٹ رائفل کے ہیں۔ پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی کے اہلکاروں نے وہاں سے باقی شواہد جمع کیے ہیں جن میں خون کے نشانات کے نمونے، کنٹینر میں گولیوں کے سوراخوں کے حوالے سے معلومات اور دیگر ثبوت شامل ہیں۔ ڈی پی او گجرات کے مطابق ’ملزم کا موبائل فون بھی فرانزک سائنس اتھارٹی کے حوالے کیا گیا ہے جس کے معائنے کے بعد یہ پتا لگانے میں مدد ملے گی کہ ملزم کے رابطے کس سے تھے۔
وزیرآباد پولیس کے مطابق ملزم کی طرف سے ملنے والی معلومات کی مدد سے مزید دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان افراد پر پولیس کو شبہ ہے کہ انھوں نے مرکزی ملزم، جس کا نام پولیس نے نوید بتایا ہے، کو پستول اور گولیاں حاصل کرنے میں معاونت فراہم کی۔ ڈی پی او گجرات کے مطابق ملزم نوید کو مزید تفتیش کے لیے کاونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ’پنجاب حکومت کے احکامات کے مطابق اب اس معاملے کی مزید تفتیش سی ٹی ڈی پنجاب کرے گا۔‘ پنجاب حکومت نے سی ٹی ڈی کے افسران پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دینے کا عندیہ دیا ہے تاہم اس کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔

ملزم نوید کو حراست میں لینے کے کچھ ہی دیر بعد مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر ملزم نوید کی پولیس کی حراست سے ایک اقبالی بیان کی ویڈیو سامنے آئی۔ اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پولیس اہلکار ان سے سوال کر رہا ہے اور وہ جواب دے رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں وہ پولیس کو بتاتے ہیں کہ انھوں نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران کو قتل کرنے کی نیت سے ان پر فائرنگ کی، اس عمل میں مبینہ طور پر وہ اکیلا تھا اور اسے کسی نے ایسا کرنے کے لیے نہیں بھیجا۔ اس نے بتایا کہ عمران خان تقاریر میں اپنا موازنہ نبی پاک کے ساتھ کرتا تھا جس وجہ سے اس نے انہیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد وزیرِاعلٰی پنجاب پرویز الٰہی نے متعلقہ تھانے کا تمام عملہ معطل کر دیا اور ویڈیو لیک ہونے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ ڈی پی او گجرات غضنفر علی شاہ نے اعتراف کیا کہ ’یہ ویڈیو مقامی تھانے میں ریکارڈ کی گئی تاہم اس بات کی تحقیقات ہو رہی ہیں کہ یہ کس نے بنائی اور کس نے لیک کی۔
وکیل اور قانونی ماہر اسد جمال کے مطابق ’پولیس کی یہ ایک غلطی عدالت میں ملزم کے خلاف پورے مقدمے کو اڑا کر رکھ سکتی ہے۔ قانونی طور پر پولیس اس قسم کا اقبالی بیان ریکارڈ کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں قانونی طور پر اس نوعیت کے اقبالی بیان کی زیادہ وقعت نہیں ہے تاہم پولیس کے اس غیر قانونی عمل کا فائدہ ملزم کو پہنچتا ہے۔ وزیرِاعلٰی کی طرف سے پورے تھانے کو معطل کرنے کے باوجود اگلے ہی دن ملزم نوید کی پولیس حراست سے مزید ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں۔ یہ دوسری ویڈیو کہاں اور کس نے ریکارڈ کی، گجرات پولیس کے مطابق انھیں اس کا علم نہیں ہے۔

گجرات پولیس کے مطابق مرکزی ملزم کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ اس کو مزید تفتیش اور تحقیقات کے لیے سی ٹی ڈی پنجاب کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ واقعے میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی پولیس برآمد کر چکی ہے لہذا اب اگر وزیراعظم، وزیرداخلہ اور سینئر فوجی افسر کو ایف آئی آر میں بطور ملزم نامزد کرنے کی ضد کی جائے تو معاملہ خراب ہی ہو گا۔ قانونی ماہر اسد جمال کے مطابق ابھی پولیس کو یہ پتا لگانا ہے کہ آیا یہ ملزم کا انفرادی فعل تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور بھی اس میں ملوث ہے لیکن بظاہر وہ ایک مذہبی جنونی ہے جس نے یہ حرکت انفرادی طور پر کی۔

Back to top button