کیا پولیس فوجی افسر کے خلاف قتل کیس درج کر سکتی ہے؟

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ایک سینئر فوجی افسر پر وزیر آباد حملے کی ایف آئی آر درج کرنے پر اصرار کے بعد پنجاب پولیس اس مخمصے میں مبتلا ہے کہ آیا اسکے پاس کسی حاضر سروس فوجی افسر کے خلاف اقدام قتل کی ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار ہے یا پھر ایسا کیس آرمی ایکٹ کے تحت آتا ہے؟ تاہم پچھلے پچھتر برس میں پاکستانی تاریخ میں کسی حاضر سروس فوجی جرنیل کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج نہیں ہوا جیسا کہ عمران خان مطالبہ کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ عمران خان وزیر آباد قاتلانہ حملے میں شہباز شریف اور رانا ثناءاللہ کے علاوہ میجر جنرل فیصل نصیر کو بھی بطور ملزم نامزد کرنا چاہتے ہیں۔ فوجی ترجمان نے عمران کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جھوٹا الزام لگانے پر تحریک انصاف کے سربراہ کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے وزارت قانون سے رائے مانگ لی ہے کہ سینئیر فوجی افسر کیخلاف جھوٹے الزامات لگانے پر ایک سویلین کے خلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس سے پہلے فوجی ترجمان نے کہا کہ عمران کے فوج اور اسکے سینئیر افسر کے خلاف بے بنیاد الزامات ناقابل قبول ہیں۔ وردی پوش اہلکاروں کے ذریعے غیر قانونی کارروائیوں کے لیے احتسابی نظام موجود ہے۔

ادھر عمران خان نے ہسپتال سے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’شہباز، رانا ثنااللہ اور فیصل نصیر کے استعفوں تک احتجاج جاری رہے گا۔ انھوں نے جنرل قمر جاوید باوجوہ سے مطالبہ کیا کہ فوج میں کالی بھیڑوں کی خلاف ایکشن لیا جائے۔ تاہم جواب میں فوجی ترجمان نے عمران خان کی مذمت کر کے اپنے ادارے کی جانب سے واضح انکار کر دیا۔ یاد رہے کہ اس واقعے کی ایف آئی آر ابھی تک درج نہیں ہو پائی۔ کیس کے اندراج میں ہونے والی تاخیر پر عمران کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ ’ہم نے ایف آئی آر رجسٹر کرنے کی کوشش کی ہے لیکن سب ڈرتے ہیں۔ میں جنرل باجوہ سے پوچھتا ہوں کیا آپ میجر جنرل فیصل کی تفتیش ہونے دیں گے؟‘ انھوں نے اس حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی انصاف یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایسے میں بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کسی حاضر سروس فوجی افسر کے خلاف سنگین نوعیت کے کیس میں قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے پاس کیا اختیارات ہوتے ہیں اور آرمی ایکٹ کیا کہتا ہے؟یاد رہے کہ پاکستان کی فوج آرمی ایکٹ 1952 کے تحت کام کرتی ہے جو دوران ڈیوٹی فوجی اہلکاروں کو تحفظ دیتا ہے۔ تاہم اگر کسی فوجی اہلکار یا افسر سے ذاتی حیثیت میں کوئی جرم سرزد ہوتا ہے، جس کا ان کی ڈیوٹی سے کوئی تعلق نہیں، تو پولیس ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر سکتی ہے۔

کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم پاکستان فوج کی لیگل برانچ، یا ’جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ‘ یا جیگ برانچ، سے منسلک رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’قانون کے مطابق کسی فوجی افسر کے خلاف اسی طرح مقدمہ درج ہو سکتا ہے جیسے کسی عام شہری کے خلاف ہوتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی فوجی افسر کے خلاف مقدمہ درج ہوتا ہے تو پھر آرمی ایکٹ کے تحت فوجی افسران کیس کی تفتیش میں پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔‘ تاہم، ان کے مطابق، کسی فوجی افسر کے خلاف پولیس کی تفتیش مکمل ہو جانے پر فوج کا ادارہ ضلعی پولیس افسر سے کہہ سکتا ہے کہ وہ خود اس افسر کا ٹرائل کریں گے، ایسی صورت میں فوج کی جانب سے اس کیس کا ریکارڈ اپنی تحویل میں لے لیا جاتا ہے اور اپنے قوائد و ضوابط کے مطابق اس افسر کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ آرمی رولز کے مطابق پولیس کی جانب سے کسی مقدمے کی تفتیش میں کسی فوجی افسر کے پاس یہ اختیار نہیں کہ کسی ملزم کو حراست میں لینے میں رکاوٹ ڈالے۔

اس کے مطابق اقدامِ قتل کے مقدمے میں کسی فوجی کو حراست میں لیے جانے کے 24 گھنٹے کے اندر اندر پولیس کے لیے اس اہلکار کے کمانڈنگ افسر کو مطلع کرنا ضروری ہے۔ تاہم اگر مقدمہ کسی اور نوعیت کا ہو، تو حراست میں لینے سے قبل اطلاع دینے کی کوشش کرنے چاہیے۔ ان قوانین میں یہ بھی درج ہے کہ مقدمے کا تفتیشی افسر اپنے علاقے کی حدود میں کسی فوجی کو طلب کر سکتا ہے لیکن اسے کسی دور دراز علاقے سے فوجی کو تفتیش کے لیے طلب کرنے کی اجازت نہیں۔ ایسے کیس میں تفتیشی پولیس افسر کو خود اس فوجی کے پاس جانا ہو گا یا پھر متعلقہ علاقے کی پولیس کے ذریعے رابطہ کرنا ہوگا تاہم پچھلے پچھتر برس میں پاکستانی تاریخ میں کسی حاضر سروس فوجی جرنیل کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج نہیں ہوا جیسا کہ عمران خان مطالبہ کر رہے ہیں۔

Back to top button