ایف آئی اے ڈالر کی اونچی اڑان روکنے میں مکمل ناکام

وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے غیر قانونی کرنسی کا کاروبار روکنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ڈالر کی اونچی اڑان روکنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ ایف آئی اے کی ناکامی کے نتیجے میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 181 روپے کی بلند ترین سطح بھی کراس کر چکی ہے جس کے باعث شرح تبادلہ پر دباؤ برقرار ہے۔
دوسری جانب ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ڈالر کی غیر قانونی فروخت روکنے کی بھرپور کوششں کر رہے ہیں۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ثنااللہ عباسی کے مطابق صرف دسمبر کے دوران ایف آئی اے نے ڈالر کا غیر قانونی کاروبار کرنے والے 158 افراد کو گرفتار کیا اور ملک بھر میں 30 کروڑ روپے کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی ضبط کی تاکہ روپے کو ڈالر کے مقابلے میں مستحکم کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ غیر قانونی کرنسی کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاؤن اس خدشے کے باعث کیا گیا کہ ڈالر کو ذخیرہ کر کے ملک سے باہر اسمگل کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے انٹیلی جنس ایجنسیوں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور اس کی اپنی ٹیموں کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات پر کارروائی کی۔ تاہم ابھی تک ان کی کارروائیوں کے اثرات ڈالر کی اوپن مارکیٹ میں قیمت پر پڑتے ہوئے نظر نہیں آتے۔
انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ دونوں میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قیمت میں اضافے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈی جی ایف آئی اے عباسی نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی صرف بلیک مارکیٹ سے نمٹتی ہے۔ انہوں نے محتاط انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’جزوی اور کُلی معاشیات اور دوسرے قومی اور بین الاقوامی متغیرات ہیں جن کے ذریعے کسی بھی کرنسی کی قدر میں اضافے اور کمی سے نمٹا جاتا ہے اور یہ کام حکومت اور خاص طور پر مرکزی بینک اور وزارت خزانہ کرتی ہے‘۔
ثنااللہ عباسی نے بتایا کہ ایف آئی اے کی مہم کو دو مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلا مرحلہ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے فوراً بعد 25 اگست سے شروع ہوا اور 30 نومبر تک جاری رہا۔انہوں نے بتایا کہ ’اس مرحلے میں ایف آئی اے نے 92 ایف آئی آر درج کیں، 40 انکوائریاں کی گئیں، 107 افراد کو گرفتار کیا گیا، 21 دکانیں سیل کی گئیں اور 36 کروڑ 50 لاکھ روپے برآمد کیے جن میں 15 کروڑ 60 لاکھ روپے کی غیر ملکی کرنسی بھی شامل ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں، جو یکم دسمبر کو شروع ہوا اور اب تک جاری ہے، ایف آئی اے نے 117 ایف آئی آر درج کیں، 32 انکوائریاں کی، 158 افراد کو گرفتار کیا، 9 دکانیں سیل کی گئیں اور 8 کروڑ 80 لاکھ روپے کی غیر ملکی کرنسی سمیت 30 کروڑ روپے ضبط کیے۔ ایف آئی اے کے سربراہ نے بتایا کہ رواں سال کے دوران ضبط کی گئی کُل رقم ایک ارب 30 کروڑ روپے رہی۔
ڈاکٹر ثنااللہ عباسی نے کہا کہ 10 ہزار سے زائد ٹرانزیکشنز کی جانچ پڑتال کی گئی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے ایف آئی اے سے کہا ہے کہ وہ فارن ایکسچینج کمپنیوں کے آپریشنز کو دیکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے ایکسچینج کمپنیوں کی خرید و فروخت کے ریکارڈ کا معائنہ کیا اور 5 ’اے‘ کیٹیگری اور 29 ’بی‘ کیٹیگری کی فاریکس کمپنیوں کی جانچ پڑتال کی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کمپنیوں کے ذریعے کرنسیوں کی خرید و فروخت کی 10 ہزار سے زائد ٹرانزیکشنز کی جانچ پڑتال کی گئی، جس میں کچھ بے ضابطگیوں سامنے آنے پر 7 مقدمات درج کیے گئے اور کیٹیگری ’بی‘ کی فاریکس فرمز کے خلاف 11 انکوائریاں کی گئیں۔ رواں سال کے دوران ایف آئی اے نے مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس کے ذریعے ان کمپنیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد بڑی تعداد میں ٹرانزیکشنز کی چھان بین کی۔ ان مالیاتی ٹرانزیکشنز کی انکوائریوں کے بعد 156 مقدمات درج کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کی کارروائی اب بھی جاری ہے کیونکہ روپے کے استحکام میں کردار ادا کرنا ادارے کی اولین ترجیح ہے۔
دوسری جانب ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ظفر پراچہ نے کہا ہے کہ ’معیشت کے تمام اشارے بتاتے ہیں کہ ڈالر کی قدر زیادہ ہے، اس کی شرح تبادلہ 160 سے 165 روپے کے درمیان ہونی چاہیے‘۔انہوں نے کہا کہ ’مجموعی طور پر اسٹیٹ بینک نے اچھے اقدامات کیے ہیں لیکن اس کے اثرات ڈالر کی قدر پر ظاہر نہیں ہو رہے ہیں‘۔ ظفر پراچہ نے کہا کہ مارکیٹ کا خیال ہے کہ حکومت روپے کی قدر میں کمی کو کنٹرول کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ہے، روپے کی قدر میں کمی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط میں سے ایک ہو سکتی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ یقیناً ڈالر کی قدر زیادہ ہے لیکن ہم نے اس طرح کا بیان کسی اور سے نہیں سنا‘۔
ایف آئی اے کی کارروائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’ایکسچینج کمپنیاں انٹر بینک ریٹ کا تعین نہیں کرتیں، انٹر بینک ریٹ میں اضافے کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں شرح بڑھ رہی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم لائسنس یافتہ ادارے ہیں جو مرکزی بینک کی جانب سے مقرر کردہ شرائط کی سختی سے تعمیل کرتے ہوئے کاروبار کر رہے ہیں اور یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے اراکین اور صارفین کو ایف آئی اے گرفتار کر رہی ہے’۔
