ایلون مسک کو ٹوئیٹر سے چھاڑ چھیڑ مہنگی کیوں پڑ گئی؟

دنیا کی امیر ترین شخصیت ایلن مسک کی جانب سے ’’ٹوئیٹر‘‘ کی خریداری اور اس سے چھیڑ چھاڑ کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی مقبولیت میں نہ صرف کمی آئی ہے بلکہ اس کی مالیت 44 ارب ڈالر سے کم ہو کر 20 ارب ڈالر پر آ گئی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ٹوئٹر کی مالیت اب 20 ارب ڈالر تک رہ گئی ہے تاہم ایلون مسک نے کہا ہے کہ وہ نقصان پر قابو پا لیں گے، چیف ٹوئیٹ کی جانب سے ٹوئٹر کے ملازمین کو ایک ای میل کے ذریعے آگاہ کیا کہ مالی مراعات کو کمپنی کے ساتھ منسلک کر دیا جائے گا اور ملازمین کو 20 ارب ڈالر کی مالیت کے مطابق سٹاک گرانٹس دینے کی پیشکش کی ہے۔
ایلون مسک کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر اپنے ملازمین کو ہر چھ ماہ میں اپنے حصص کے بدلے رقم لینے کی اجازت دے گا، ٹوئٹر کی مالیت میں بے رحمانہ بے قدری کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹوئٹر کو ایسی شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کہ ایک موقع پر یہ دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔
سنیچر کو ایلون مسک نے ٹویٹ کیا تھا کہ ٹوئٹر کو سالانہ تین ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، سالانہ ایک ارب 50 کروڑ ڈالر آمدنی میں کمی اور اتنی ہی رقم کی قرضوں کی ادائیگی کا ذکر بھی کیا، اُن کا کہنا تھا کہ ان کے پاس صرف چار ماہ کی رقم رہ گئی ہے۔
مسک جو ٹوئٹر کے سب سے زیادہ شیئر ہولڈر رکھتے ہیں، نے کہا کہ یہ انتہائی سنگین صورتحال ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ سال کی دوسری سہ ماہی میں اس پر قابو پا لیں گے، اکتوبر میں ٹوئٹر خریدنے کے بعد مسک نے ہزاروں ملازمین کو فارغ کر دیا تھا۔
چیف ٹوئیٹ نے ای میل میں ملازمین سے کہا ہے کہ وہ ٹوئٹر کی مالیت کو 250 ارب ڈالر تک پہنچانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ مشکل تاہم واضح راستے پر گامزن ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ اس میں کتنا وقت لگ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ایلون مسک کی جانب سے ٹوئیٹر کی خریداری کے معاملہ بھی تنازع کا شکار رہا، ایلون مسک نے ٹوئیٹر انتظامیہ سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی خریداری پر پہلے سودے بازی کی اور اس کے بعد خریداری سے مکر گئے جس پر عدالت نے انہیں جرمانہ کیا تو دوبارہ خریداری پر رضا مند ہوگئے تھے۔

Back to top button