این آر او کے مخالف کپتان نے خود کون کون سا این آر او لیا


الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پیچھے چھ برسوں سے تحریک انصاف کے خلاف دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس میں وزیراعظم عمران خان کو مسلسل این آر او دیا جا رہا یے لیکن اگر الیکشن کمیشن چاہتا ہے کہ وہ اگلے الیکشن سے پہلے متنازع نہ ہو تو ضروری ہے کہ وہ میرٹ اور قانون کے مطابق جلد از جلد اس کیس کا فیصلہ کرے تاکہ اس کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال ہو سکے۔
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی نے اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں کیا یے۔ انکا کہنا ہے کہ اب این آر او کا۔لفظ ہماری سیاست اور صحافت میں باقاعدہ اصطلاح کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ مقتدر اداروں کی طرف سے کسی فرد یا جماعت کی غلط کاریوں اور جرائم کو نظر انداز کر دیا جائے اور ملزم ہونے کے باوجود ریاستی ادارے اُن کو سیاست میں آگے بڑھنے کا موقع دیں۔
صافی کے مطابق عجیب تماشہ یہ ہے کہ عمران خان اور اُن کے ترجمان تکرار کے ساتھ این آر او کا ذکر کرتے ہیں اور یہ الزام لگاتئ ہیں کہ اپوزیشن اُن سے این آر او حاصل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اتنی بےوقوف نہیں کہ وہ اُس شخص سے این آر او مانگے جس کے پاس اُسے کچھ دینے کی نہ تو صلاحیت ہے اور نہ ہی اختیار ہے۔ سوال یہ بھی یے کہ عمران خان کس قانون کے تحت کسی کے خلاف کیسز ختم کر سکتے ہیں؟ پھر خود عمران خان کو بھی معلوم ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو این آر او مل جانے کی صورت میں اُن کی چھٹی ہو جائے گی، اس لئے جب کبھی مقتدر اداروں اور اپوزیشن کے رابطے شروع ہوتے ہیں تو وہ این آر او، این آر او کا ورد شروع کر دیتے ہیں اور ان رابطوں کو توڑنے کے لئے کوئی واردات ڈال دیتے ہیں۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں نئے این آر او کے عمل سے اگر کوئی شخص سب سے زیادہ خوفزدہ ہے تو وہ خود عمران خان ہیں۔ تاہم عمران خان کے پروپیگنڈے کی صلاحیت پر ان کو داد دینی چاہئے کہ وہ پروپیگنڈہ کرکے اپوزیشن کو ایسی دفاعی پوزیشن پر لائے ہیں کہ جیسے وہ ان سے این آر او مانگ رہی ہے حالانکہ خود ان کا اقتدار ان کو ملنے والے مختلف النوع درجنوں این آر اوز کا مرہون منت ہے۔ صافی کہتے ہیں کہ اِس ملک میں اگر کوئی ٹریفک کا اشارہ توڑ دیتا ہے تو اُس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے لیکن لاڈلہ ہونے کے ناطے عمران خان نے سول نافرمانی کا اعلان کیا، بجلی کے بل جلائے، کارکنوں سے پولیس کو پٹوایا، پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملے کروائے لیکن ان کے خلاف کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں ہوئی کیونکہ اُن کو این آر او ملا ہوا تھا۔
انکے مطابق الیکشن سے قبل نیب اور دیگر اداروں کی طاقت کو استعمال کرکے الیکٹ ایبلز کو پی ٹی آئی میں شامل کروانا ایک اور این آر او تھا۔ الیکشن سے قبل اُنکے سیاسی مخالفین کی گرفتاریاں بھی اُن کو ملنے والے این آر او کی ایک قسم تھیں۔ جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے صادق اور امین کا خطاب عنایت کیا جانا بھی این آر او تھا۔ زلفی بخاری جیسے دستِ راست کے خلاف کیسز کو ختم کروانا اور ای سی ایل سے اسکا نام نکلوانا بھی این آر او کی ایک قسم ہے۔ افتخار محمد چوہدری کے بیٹے کی طرف سے عائد کردہ کیس کا سرد خانے کی نذر ہو جانا ایک اور این آر او ہے جو عمران خان کو ملا۔ بی آر ٹی اور بلین ٹری جیسے اسکینڈلز کا فیصلہ نہ ہونا بھی این آر او ہے۔ فوج اور ایگر اداروں کے خلاف بدترین زبان کے استعمال کے سب سے زیادہ کلپس اور تحریریں عمران خان کی موجود ہیں اور اگر این آر او نہ ہو تو اُن کے خلاف مفتی کفایت اللہ سے سخت کیسز بن سکتے ہیں لیکن اِس معاملے میں بھی ان کو این آر او ملا ہوا ہے۔
لیکن سلیم صافی کے مطابق این آر اوز کی ماں کی حیثیت پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس ہے جو طاقتور حلقوں کے ایما پر الیکشن کمیشن نے عمران خان کو دے رکھا ہے۔ پارٹی فنڈنگ کیس پی ٹی آئی کے کسی مخالف کی طرف سے نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی طرف سے 2014 میں دائر کیا گیا لیکن چھ سال گزرنے کے باوجود اسکا فیصلہ نہیں ہونے دیا جا رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ اکبر ایس بابر نے ہر طرح کے شواہد سامنے رکھ دیے ہیں لیکن گزشتہ الیکشن کمیشن نے این آر او دے کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ الیکشن تک کسی صورت اس کیس کا فیصلہ نہیں کرنا ۔
اس میں بنیادی کردار سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب کا تھا، جنہیں اس خدمت کے صلے میں پہلے سرکاری اعزاز سے نوازا گیا، پھر انہیں چیف الیکشن کمشنر بنانے کی کوشش کی گئی۔ صورت حال یہ ہے کہ اس کیس میں اب تک ستر سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں۔ برسوں سے وہ تمام دستاویزی اور وڈیو ثبوت الیکشن کمیشن کے پاس موجود ہیں جو اکبر ایس بابر نے یا پھر قومی اداروں نے فراہم کیے ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ جو مواد موجود ہے اُس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کے لئے عمران خان کو کلین چت دینا ممکن نہیں کیونکہ معاملہ پھر اعلیٰ عدالتوں میں جائے گا اور میرٹ پر فیصلہ ہو جانے کی صورت میں عمران خان اور مالیات کے ذمہ دار افراد کے بچنے کا امکان کم نظر آتا ہے۔ اس لئے سرے سے اس کیس کا فیصلہ ہی نہیں کیا جارہا۔
صافی کہتے ہیں میری معلومات کے مطابق پی ٹی آئی کے فنڈز خرچ کرنے میں بھی بڑی گڑبڑ ہوئی ہے کیونکہ اکبر ایس بابر جس دور کا ذکر کررہے ہیں، اس دور میں پی ٹی آئی کے کئی رہنمائوں نے بنی گالہ کے ارد گرد جائیدادیں خریدی ہیں اور زیادہ تر وہی تھے جن کا مالیات سے کوئی واسطہ تھا۔ میری معلومات کے مطابق حکومت کی طرف سے موجودہ الیکشن کمیشن پر بھرپور کام ہورہا ہے اور یہ کوشش کی جارہی ہے کہ نئے چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان بھی جسٹس سردار رضا کی طرح مٹی کے مادھو بنے رہیں اور اس کیس کا فیصلہ نی دیں۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن عمران خان کو ملنے والا این آر او برقرار رکھتا ہے یا پھر میرٹ اور قانون کے مطابق جلد فیصلہ کرکے حقیقی معنوں میں آزاد الیکشن کمیشن ہونے کا ثبوت دیتا ہے؟ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن عمران خان کے فارن فنڈنگ کیس میں انصاف نہیں کرتا تو پھر اگلے الیکشن میں اس کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان اٹھیں گے لہذا ضروری ہے کہ انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق اس کیس کا فوری فیصلہ کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button