ایوب خان نے فوج کو کاروبار کی بھٹی میں کیسے جھونکا؟

حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم کو بتایا جائے کہ فوجی افسران غیر قانونی طور پر پراپرٹی کے کاروبار میں لگے ہوئے ہیں۔ تاریخی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات غلط نہیں کیونکہ فوجی افسران کی جانب سے نوکری کے ساتھ کاروبار کرنے کی روایت ایوب خان کے دور آمریت میں شروع ہوئی۔
سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کے بھائی شجاع نواز کی کتاب کراس سوارڈز کے مطابق کنٹونمینٹ ایریازمیں زمینوں کی خرید و فروخت کا آغاز جنرل ایوب خان کے دور میں ہوا، یعنی فوجی افسروں کی توجہ پیشہ ورانہ امور سے ہٹا کر انہیں پراپرٹی ڈیلر بنانے کی روایت ڈال دی گئی۔ معروف برطانوی مورخ ایان ٹالبوٹ اپنی کتاب پاکستان اے نیو ہسٹری میں لکھتے ہیں کہ فوج کو کمرشلائز کرنے اور کاروبار میں گھسیٹنے کا سہرا بھی ایوب خان کے سر جاتا ہے۔ مجموعی طور پر پاکستان کے تیسرے مگر پہلے مقامی سپہ سالار جنرل ایوب خان نے 17جنوری1951ء کو افواج پاکستان کی کمان سنبھالی اور پھر 26 اکتوبر 1958 ء تک کمانڈر انچیف کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے۔ ایوب خان کے بارے میں مشہور ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے حکام کو ہدایت کی تھی کہ اسکو پروموٹ نہ کیا جائے۔ لیکن قائد کی رحلت کے بعد ایوب خان نے اپنی پروموشن کا راستہ خود بنا لیا۔ تاجِ برطانیہ نے تقسیم ہند کے وقت فسادات کی روک تھام کے لیئے پنجاب باؤنڈری فورس تشکیل دی جس کا ہیڈ آفس لاہور میں تھا۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان کرنل کو بھی اس باؤنڈری فورس میں اہم عہدہ دیا گیا۔
ایک روز خبر ملی کہ بھارت سے پاکستان کی طرف آنے والے مہاجرین کی ٹرین کو مشرقی پنجاب میں روک کر تمام مسافروں کو قتل کر دیا گیا ہے اور اس ٹرین کی حفاظت پر مامور پاکستانی کرنل خاموش تماشائی بنے رہے۔ یہ خبر سنتے ہی لوگ مشتعل ہوگئے اور امکان پیدا ہوگیا کہ غصے میں بپھرے ہوئے لوگ راولپنڈی میں اس کرنل کے گھر کو نذرآتش نہ کردیں ،حالات اس قدر سنگین ہوئے کہ ممکنہ خدشات کے پیش نظر گھر میں موجود اس کرنل کی اہلیہ اور بچوں کو ایک اور فوجی افسر کی رہائش گاہ پر منتقل کرنا پڑا۔ اس کرنل کا نام ایوب خان تھا جو بعد میں بد قسمتی سے نہ صرف پاک فوج کا کمانڈر انچیف بننے میں کامیاب ہوا بلکہ ڈنڈے کے زور پر ملک کی باگ ڈورسنبھال کر خودساختہ صدر بھی بن گیا۔
برٹش کامن ویلتھ آفس کی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات کے مطابق عسکری حکمت عملی کے اعتبار سے کرنل ایوب خان اوسط درجے کا افسر تھا۔دوسری جنگ عظیم کے دوران برما میں تعینات آسام رجمنٹ کے کمانڈنٹ کرنل ڈبلیو ایف براؤن کی ہلاکت کے بعد رجمنٹ کی کمان کرنل ایوب خان کو سونپی گئی مگر جنگی حکمت عملی میں بزدلانہ ناکامی کے بعد اس سے کمان واپس لیکر نہ صرف بھارت بھیج دیا گیا بلکہ اسے فوجی ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔ ایک ایسا فوجی افسر جسے نااہلی کے باعث فوج سے نکالنے کا فیصلہ ہو چکا تھا ،قیام پاکستان کے بعد اس کی صلاحیتیں ایسی نکھر کر سامنے آئیں کہ اس نے 4 سال کے مختصر عرصہ میں نہ صرف کرنل سے جنرل تک ترقی کا سفر با آسانی طے کرلیا بلکہ سنیئر فوجی افسروں کو مات دیکر سپہ سالار بننے میں کامیاب ہوگیا۔
کہتے ہیں کہ جنرل گریسی کی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے ہی ان کے جانشین کے طور پر میجر جنرل افتخار خان کا انتخاب ہو چکا تھا ،کمانڈر انچیف نامزد ہونے پر جنرل افتخار کو امپیریل ڈیفنس کورس کے لیئے برطانیہ بھیجا گیا ، بریگیڈیئر شیر خان جو ڈی ڈی ایم او تھے اور میجر جنرل کے عہدے پر ترقی کے انتظار میں تھے ،وہ بھی کورس کے لیئے برطانیہ جا رہے تھے۔13دسمبر 1949ء کو جنرل افتخار اوریئنٹ ایئرویز کی لاہور سے کراچی جانے والی فلائٹ پر سوار ہوئے تو ان کے اہلخانہ کے علاوہ بریگیڈئر شیر خان بھی اسی جہاز میں سوا رتھے۔ لیکن یہ جہاز اپنی منزل کے قریب پہنچ کر کراچی کے نواحی علاقے جنگ شاہی میں گر کر تباہ ہوگیا اور تمام مسافر لقمہ اجل بن گئے۔ پاکستان کی عسکری وسیاسی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ یہ حادثہ پیش نہ آتا اور جنرل افتخار کمانڈر انچیف بننے سے پہلے شہید نہ ہوتے تو آج پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی کیونکہ ایوب خان کے برعکس جنرل افتخار اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والے غیر سیاسی جرنیل تھے۔
بہرحال اس طیارہ حادثے کے بعد جنرل گریسی کی مدت ملازمت میں ایک سال کے لیئے توسیع کرنا پڑی اور جب دوبارہ ان کا جانشین ڈھونڈنے کی بات شروع ہوئی تو لیفٹیننٹ جنرل ناصر علی خان ، جنرل رضا اور جنرل ایوب خان کے نام تجویز کیئے گئے، لیاقت علی خان نے تمام فوجی افسروں کو بلاکر قومی معاملات پر گفتگو کرنے کی اجازت دی تو ایوب خان چرب زبانی کے باعث جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے البتہ جنرل گریسی نے لیاقت علی خان کو متنبہ کیا کہ ایوب خان کے سیاسی عزائم ہیں ،اس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ لیاقت علی خان یہ بھی جانتے تھے کہ قائداعظم ماضی میں ایوب کی پرموشن نہ کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے پھر بھی ایوب کو ترقی دے دی۔ ایوب خان نے افواجِ پاکستان کی کمان سنبھلاتے ہی جو پہلا حکم جاری کیا اس میں فوجی افسروں کو سیاست سے دور رہنے کی تلقین کی گئی مگر 3 سال بعد جب ایوب برطانیہ کے سرکاری دورے پر تھے تو مہنگے ترین ہوٹل کے لگژری اپارٹمنٹ میں قیام کے دوران انہوں نے پاکستان کے سیاسی نظام کو تبدیل کرنے کا ایک منصوبہ تیار کیا جس میں مشرقی اور مغربی پاکستان میں الگ الگ سنگل یونٹ بنانے کی تجویز دی گئی۔ اس منصوبے میں اس خواہش کا اظہار بھی کیا گیا بری ،بحری اور فضائی افواج کے مشترکہ کمان کے لیئے سپریم کمانڈر کا عہدہ تخلیق کیا جائے اور یہ فرمائش بھی کی گئی کہ وزیردفاع کا قلم دان بھی اسے سونپ دیا جائے۔سویلین حکام کی حیثیت تو کٹھ پتلیوں کی سی تھی ،اُدھر فرمائش آئی اور اِدھر کمانڈر انچیف کو وزیر دفاع تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
یہ سوال اکثر زیر بحث آتا ہے کہ ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کب کیا؟امریکی سفارتخانے کے ڈی کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹس کے مطابق ایوب خان نے آرمی چیف بننے کے بعد پہلے سال ہی مارشل لا لگانے کا فیصلہ کرلیا تھا مگر وہ حالات کے موافق ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ میجر جنرل وجاہت حسین جو جنرل گریسی کے اے ڈی سی رہے ،وہ 1956ء میں لندن گئے اور جنرل گریسی سے ملاقات ہوئی تو گریسی نے چھوٹتے ہی ان سے پوچھا کہ ایوب کب تختہ اُلٹ رہا ہے؟جنرل وجاہت حسین نے لاعلمی کا اظہارکیا تو گریسی نے کہا ،لکھ لو میری بات، یہ آج نہیں تو کل ضرور مارشل لا لگائے گا۔ ایوب خان نے سپہ سالار بننے کے بعد ان فوجی افسروں کو کھڈے لائن لگانا شروع کر دیا تھا جو فوج کی سیاست میں مداخلت پر خفگی کا اظہار کیا کرتے تھے۔ جنرل شیر علی خان پٹودی سمیت کئی فرض شناس افسروں کو سپر سیڈ کر کے گھر بھیج دیا گیا جبکہ یحیٰ خان اور موسیٰ خان جیسے چہیتوں کو آگے لایا گیا۔ اس ضمن میں میجر جنرل حبیب اللہ خٹک کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکنے کی روداد بہت دلچسپ ہے۔جنرل خٹک کا نام راولپنڈی سازش کیس میں سامنے آیا ۔اگرچہ بعدازاں سلطانی گواہ بنا کر جنرل خٹک کو کلین چٹ دیدی گئی مگر ایوب خان کا دل صاف نہ ہوا۔ اس نے پہلے تو اپنے بیٹے کیپٹن گوہر ایوب کے لیئے رشتہ لیکر جنرل خٹک کو سمدھی بنایا اور پھر چیف آف جنرل سٹاف لگانے کا جھانسہ دیکر امپریل ڈیفنس کورس کے لیئے لندن بھیج دیا۔ مگر کورس مکمل ہونے پر جنرل خٹک کو پروموٹ کرنے کے بجائے فوج سے ریٹائر کردیا۔
ایوب نے جن فوجی افسروں کو ترقی دی ان میں ذیادہ تر اسکی طرح پشتون تھے بلکہ مذہبی اعتبار سے بھی ان کا تعلق ایک مخصوص مسلک سے تھا جس پر فوج کے اندر ہی نہیں باہر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ مگر ایوب خان اس تنقید کو خاطر میں نہ لائے۔ بطور سپہ سالار ایوب خان کی سب سے بڑی کامیابی تو یہ تھی کہ وہ امریکہ سے فوجی امداد لینے میں کامیاب ہوگئے مگر ان کی ناکامیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ انہوں نے نہ صرف فوج کو سیاست میں دھکیلا بلکہ ان کے دور میں اس ادارے کو کئی ایسے امراض لاحق ہوئے جو بعد ازاں کینسر کی مانند پھیلتے چلے گئے۔ اسی دور آمریت میں میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو دھاندلی کے ذریعے نہ صرف صدارتی انتخابات میں شکست سے دوچار کیا گیا بلکہ انہیں غدار بھی قرار دلوایا۔
سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کے بھائی شجاع نواز کی کتاب کراس سوارڈز کے مطابق کنٹونمنٹ ایریاز میں زمینوں کی خرید و فروخت کا آغاز جنرل ایوب خان کے دور میں ہوا،یعنی فوجی افسروں کی توجہ پیشہ ورانہ امور سے ہٹا کر انہیں پراپرٹی ڈیلر بنانے کی روایت ڈال دی گئی جبکہ معروف برطانوی مورخ ایان ٹالبوٹ اپنی کتاب پاکستان اے نیو ہسٹری میں اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ فوج کو کمرشلائز کرنے اور کاروبارمیں گھسیٹنے کا سہرا بھی ایوب خان کے سر ہے جن کے دور میں فوجی فاؤنڈیشن نے صنعتی ترقی کا فائدہ اٹھایا اور خوب پھلی پھولی۔ فوجی فاؤنڈیشن نے ایوب کے دور میں جہلم کے قریب ایک ٹیکسٹائل فیکٹری لگائی، سندھ کے علاقے ٹنڈو محمد خان میں شوگر مل لگائی جبکہ مردان میں خیبر تمباکو کمپنی کا سیٹ اپ لگایا۔ ایوب کے دور میں کرپشن کے قصے بھی زبان زدِعام رہے، نہ صرف ایوب خان کے سمدھی میجر جنرل حبیب اللہ خٹک بہت بڑے صنعتکار بن گئے بلکہ ان کے فرزند گوہر ایوب بھی بطور کیپٹن فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد گندھارا انڈسٹریز کے مالک بن گئے۔ لہذا ایوب دور میں فوجیوں کو کاروبار میں گھسانے کی غلط روایت پر آج میجر سے لیکر آرمی چیف کے رینک تک کا ہر افسر چل رہا یے اور اس نان پروفیشنلزم کا خمیازہ پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔
