ای وی ایم قانون سازی کیلئے 3 کمیٹیاں تشکیل

ای سی پی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) سے متعلق قانون سازی اور سمندر پار پاکستانیوں کے لیے ووٹنگ سہولت کے لیے 3 کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔

یہ پیش رفت اپوزیشن کے اس شور شرابے اور الزامات کے دوران کہ حکومت 2023 کے عام انتخابات کو الیکٹرانک طریقے سے چوری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابات سے متعلق متنازع بلز سمیت ریکارڈ تعداد میں بلز کو بلڈوز کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرونا کے 315 نئے کیس رپورٹ ، 5 مریض جاں بحق

ای سی پی کے مطابق پہلی کمیٹی تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لے گی، دوسری اس عمل کی مالی لاگت اور تیسری مشکلات کی نشاندہی کرے گی اور موجودہ قوانین اور قواعد میں ترامیم تجویز کرے گی۔

ای سی پی کے سیکریٹری کی سربراہی میں تکنیکی کمیٹی کو انتخابی ٹیکنالوجی کا جائزہ لینے، عالمی معیار اور بہترین بین الاقوامی طریقوں کی نشاندہی کرنے کا مینڈیٹ حاصل ہے جبکہ کام کے دائرہ کار، پالیسی، مشین کی تیاری کی حکمت عملی، اس کے تکنیکی اور فنکشنل امتحان اور حتمی تصوراتی پیپر تیار کرنے کی ذمہ داری بھی تکنیکی کمیٹی پر عائد ہوتی ہے ۔

یہ کمیٹی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تجویز کی درخواست (آر ایف پی) بھی تیار کرے گی اور اس سلسلے میں مستقبل کی ضروریات کی نشاندہی کرے گی، ساتھ ہی یہ مطلوبہ عمل اور عملدرآمد کا طریقہ بھی تجویز کرے گی۔ایڈیشنل سیکریٹری (ایڈمن) کی سربراہی میں دوسری کمیٹی ای وی ایم متعارف کرانے اور بیرون ملک ووٹنگ کے مالی اثرات کا جائزہ لے گی۔

یہ کمیٹی پائلٹ ٹیسٹنگ اور ان کے استعمال کے طریقہ کار سے متعلق تجاویز پیش کرے گی، اور ای سی پی کی بجٹ کی ضرورت بشمول مختصر اور طویل مدتی بنیادوں پر ای وی ایم کے ذخیرے اور دیگر متعلقہ امور پر بھی سفارشات پیش کرے گی۔الیکشن کمیشن نے پہلے ہی منصوبہ بندی کمیشن کو ایچ 11/4، اسلام آباد میں اسٹوریج کی سہولت کے لیے ایک پروجیکٹ کی تجویز دی ہے اور ایک سرکاری عمارت کو اسٹاپ گیپ کے انتظام کے طور پر مختص کیا ہے۔

Back to top button