بائیڈن کے صدر بننے پر پاکستانی اپوزیشن خوش کیوں ہے؟


نومنتخب امریکی جو بائیڈن وہ شخصیت ہیں جنہوں نے 2007 میں سابق فوجی آمر جنرل مشرف کو وردی اتارنے اور اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بائیڈن کی جیت سے پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں پر امید ہیں کہ اب ملکی سیاست میں فوج کی بڑھتی ہوئی مداخلت کم ہو گی اور اصلی جمہوری قوتیں مضبوط ہوں گی۔
حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ 3 نومبر 2020 کو امریکی صدر منتخب ہونے والے سابق سینیٹر جو بائیڈن دراصل 2007 سے پاکستانی سیاست پر اثر انداز ہو رہے تھے۔ 2007 میں امریکی حکومت کی ایما پر مشرف کی وردی اتروانے میں بائیڈن کا اہم کردار تھا جس نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی میں اہم ترین کردار ادا کیا ورنہ مشرف حکومت چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے مشرف سے وردی اتروانا اور پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے غیر فوجی امداد حکومت پاکستان کے لیے منظور کروانے کی سفارش کرنا، وہ خدمات ہیں جس پر بائیڈن کو زرداری دور میں ہلال پاکستان سے نوازا گیا۔
عالمی و سفارتی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جارج ڈبیلو بش دور کے آخر میں ہی امریکی حکومت کا پاکستانی فوج سے اعتماد ختم ہو گیا تھا۔ انہیں یقین تھا کہ آئی ایس آئی یا کم از کم آئی ایس آئی کے کچھ عہدے دار افغان طالبان کی مدد کر رہے ہیں۔ اسی لیے کیری لوگر بل میں سول امداد کی سفارش کی گئی۔ اکتوبر 2008 میں سابق پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے دو امریکی سینیٹروں کو پاکستان کا دوسرا بڑا سول اعزاز ہلال پاکستان دینے کا اعلان کیا۔ ان میں سے ایک اس وقت کے ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جو بائیڈن تھے اور دوسرے رپبلکن سینیٹر رچرڈ لوگر تھے۔سوال یہ ہے کہ ان امریکی سینیٹروں کی پاکستان کے لیے کیا خدمات تھیں؟ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اس وقت کس کشمکش سے گزر رہے تھے؟ پاکستان کی حکومت کو امریکی سینیٹروں کو یہ اعزاز دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ان سوالات کے جواب حاصل کرنے کے لئے واٹر گیٹ سکینڈل کو بے نقاب کرنے والے امریکی صحافی باب ووڈ ورڈ کی کتاب اوباماز وارز، پاکستانی میڈیا اورعالمی خبر رساں ایجنسیوں کی رپورٹس کا مطالعہ کیا جائے تو سے پتہ چلتا ہے کہ تین نومبر 2007 کو جب اس وقت کے فوجی صدر جنرل مشرف نے ملک میں ہنگامی صورتِ حال کے نفاذ اور ملک میں انتخابات غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا تو چھ نومبر کو سینیٹر جو بائیڈن نے جنرل مشرف سے فون پر بات کی۔
امریکی میڈیا کے مطابق بائیڈن نے تب یہ کہا تھا کہ میں نے صدر مشرف کو بتایا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کے لیے کتنا ضروری ہے کہ الیکشن منصوبے کے مطابق آئندہ برس جنوری میں ہی منعقد ہوں اور وہ اپنی وردی اتارنے اور قانونی کی سربلندی کے لیے اپنا وعدہ پورا کریں۔مشرف پر جو بائیڈن کی اس فون کال کا اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے اس کے دو ہی دن بعد یعنی آٹھ نومبر کو اعلان کیا کہ آٹھ جنوری 2008 کو ملک بھر میں عام انتخابات کروائے جائیں گے۔ اس کے بعد 27 دسمبر 2007 کو بےنظیر بھٹو پنڈی میں شہید کر دی گئیں اور انتخابات ڈیڑھ ماہ کے لیے ملتوی ہو گئے۔ جب 18 فروری 2008 کو الیکشن ہوئے تو پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کر لی، اور یوسف رضا گیلانی ملک کے وزیر اعظم منتخب ہو گئے۔ خیال رہے کہ انتخابات کے دوران جو بائیڈن نے بطور امریکی مبصر پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ سینیٹر بائیڈن نے 18 فروری 2008 کے پاکستانی الیکشن میں ایک مبصر کی حیثیت سے دو اور سینیٹروں کے ساتھ پاکستان کا دورہ کیا۔ بعد ازاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ان تینوں سینیٹروں نے الیکشن کو منصفانہ اورشفاف قراردیا اور پاکستان کے لیے امریکی امداد کی توسیع کی حمایت کی۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک امریکی سینیٹرز کا پاکستانی الیکشن میں مبصر کی اہمیت سے جائزہ لینے پاکستان کا دورہ کرنا ایک غیر معمولی اہمیت کی بات ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں سول سپریمیسی کے قیام کے لیے کام کرنے والی قوتوں یا خود صدر زرداری نے بائیڈن کو الیکشن میں مبصر بننے کی دعوت دی ہو کہ کسی اور طاقت کو الیکشن سبوتاژ کرنے کا موقع نہ ملے۔ جو بائیڈن کا فروری 2008 کا دورہ یہ واضح کرتا ہے کہ اس وقت امریکہ میں پاکستان میں جمہوریت کے حوالے سے کتنی سنجیدگی پائی جاتی تھی۔ ان انتخابات میں پیپلز پارٹی 91 نشستیں حاصل کر کے اول آئی، جبکہ مسلم لیگ ن 69 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ پرویز مشرف کی پروردہ پارٹی مسلم لیگ ق صرف 38 نشستیں حاصل کر سکی۔ پیپلز پارٹی نے حکومت بنا لی اور مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر پرویز مشرف کے مواخذے کی مہم شروع کر دی، جس سے عاجز آ کر مشرف جولائی 2008 میں مستعفی ہو گئے۔
اس کے بعد نومبر میں امریکہ میں صدارتی انتخابات ہوئے جن میں براک اوباما صدر اور جو بائیڈن نائب صدر منتخب ہو گئے۔ اوباما اور بائیڈن کو اپنے اپنے عہدوں کا حلف 20 جنوری 2009 کو اٹھانا تھا، لیکن حیرت انگیز طور پر بائیڈن اس سے 11 روز قبل نو جنوری 2009 کو ایک اور رپبلکن سینیٹر لنزے گراہم کے ہمراہ پاکستان آ پہنچے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دورے میں بائیڈن آصف علی زرداری کے لیے نو منتخب صدر اوباما کا پیغام لے کر آئے تھے۔ حلف اٹھانے سے پہلے نائب صدر کا دورہ پاکستان اوباما انتظامیہ کی ترجیحات کی نشاندہی کرتا ہے۔اسی دورے کے دوران صدر آصف زرداری نے جو بائیڈن کو ہلالِ پاکستان کے اعزاز سے نوازا، جو نشانِ پاکستان کے بعد پاکستان کا دوسرا اعلیٰ ترین سول اعزاز ہے۔ صدر زرداری نے پاکستان کے لیے جو بائیڈن کی خدمات کا اعتراف کیا اور امریکی سینٹ میں پاکستان کی مسلسل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ جب صحافیوں نے پوچھا کہ بائیڈن نے ایسا کیا کیا ہے کہ انہیں ہلالِ پاکستان سے نوازا گیا ہے تو 12 جنوری 2009 کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے صحافیوں کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو بائیڈن پاکستان کے حمایتی ہیں اور انہوں نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی میں بہت موثر کردار ادا کیا ہے۔دوسری جانب بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی 12 جنوری 2009 کی اشاعت میں یوسف رضا گیلانی کے حوالے سے یہ خبر دی گئی کہ یہ سینیٹر جو بائیڈن ہی تھے جنہوں نے فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔
3 نومبر 2020 کو امریکہ کے صدارتی انتخاب میں تگڑے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار سے بیدخل کروانے والے جو بائیڈن کی جیت کے بعد پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ بائیڈن اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستانی سیاست میں فوج کا کردار کم کروانے اور جمہوری قوتوں کو مضبوط کرنے کے لیے کام کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button