کیا مریم کا فوج سے مذاکرات کا بیان کوئی یو ٹرن ہے؟


مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز فوج سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرنے کے بیان کے بعد مخالفین کی جانب سے تنقید کی زد میں آ گئی ہیں اور یہ سوال کیا جارہا ہے کہ انہوں نے نواز شریف کے بیانیے کے خلاف جاتے ہوئے یو ٹرن کیسے لے لیا۔
یاد رہے کہ بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے مریم نے کہا ہے کہ ان کی جماعت فوج سے بات کرنے کے لیے تیار ہے اور اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بات چیت پر بھی غور کیا جا سکتا ہے لیکن شرط یہی ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔ انٹرویو میں مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ان کے قریبی ساتھیوں سے بات چیت کے لیے رابطے کیے گئے ہیں. انھوں نے کہا: ‘اسٹیبلشمنٹ نے میرے ارد گرد موجود بہت سے لوگوں سے رابطے کیے ہیں مگر میرے ساتھ براہِ راست کسی نے رابطہ نہیں کیا’۔ اس سوال پر کہ کیا وہ پاکستانی فوج کی موجودہ قیادت سے مذاکرات کرنے کو تیار ہیں مریم نواز شریف نے کہا کہ ‘پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مذاکرات کے آغاز پر غور کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ جعلی حکومت کو گھر بھیجا جائے’۔
تاہم مریم نواز کے اس بیان کے بعد حکومتی وزراء نے ان پر تنقید شروع کر دی ہے اور یہ سوال پوچھا ہے کہ کیا وہ نواز شریف کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ بھلا بیٹھی ہیں اور یہ بھی کہ وہ کس آئین اور قانون کے تحت فوج سے یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ منتخب حکومت کو گھر بھجوا دیا جائے۔ مریم کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نواز شریف اور مریم کا فوج مخالف بیانیہ اب کہاں گیا۔ شاید انہیں سمجھ آگئی ہے کہ اپنے قد سے سے بڑی بات نہیں کرنی چاہیے۔ یاد رہے کے پچھلے ماہ نواز شریف نے آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کو پاکستان کی تمام خرابیوں کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے مسلم لیگ نون کے رہنماؤں پر یہ پابندی عائد کر دی تھی کہ وہ کسی بھی صورت کسی بھی فوجی یا عسکری شخصیت سے ملاقات نہیں کریں گے۔
تاہم مریم نواز کا تازہ ترین بیان حکومت اور اپوزیشن جماعتوں دونوں کے لیے حیران کن ہے کیوں کہ انہوں نے نہ صرف صرف فوج اور نون لیگ کے مابین مذاکرات کے امکان کی بات کی ہے بلکہ پی ڈی ایم سے بھی مذاکرات کے امکان کو رد نہیں کیا۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے مریم نواز کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ان کا جمہوریت نواز بیانیہ کدھر گیا اور وہ کس قانون کے تحت فوج سے یہ مطالبہ کر سکتی ہیں کہ وہ ایک منتخب حکومت کو گھر بھجوا دے۔ شیخ رشید کے بیان پر ایک دل جلے مسلم لیگی رہنما نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر یہ تبصرہ کیا کہ شیخ چلی یہ بیان دیتے وقت شاید بھول گئے کہ مریم فوج سے اسی حکومت کو گھر واپس بھجوانے کا کہہ رہی ہیں جسے کہ جرنیل اقتدار میں لے کر آئے تھے۔
تاہم مریم نواز کے ناقدین ان کے بیان کو ایک بڑا یوٹرن قرار دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ فوج کی موجود قیادت پر مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے الزام لگایا تھا کہ آرمی چیف ان کو وزارتِ عظمی سے ہٹانے کے لیے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ انھوں نے اسے ‘سازش’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل فیض بھی شامل تھے۔ مگر اب ان کی بیٹی اور مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نے کہا ہے کہ ’فوج میرا ادارہ ہے، ہم ضرور بات کریں گے، لیکن آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے۔ اگر کوئی کریز سے نکل کر کھیلنے کی کوشش کرے گا، جو دائرہ کار آئین نے وضع کر دیا ہے اس میں رہ کر بات ہو گی، اور وہ بات اب عوام کے سامنے ہو گی، چھپ چھپا کر نہیں ہو گی۔’ انھوں نے کہا کہ ’میں ادارے کے مخالف نہیں ہوں مگر سمجھتی ہوں کہ اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تو اس حکومت کو گھر جانا ہو گا۔‘
مریم نواز نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام ‘سٹیک ہولڈرز’ سے بات کر سکتی ہیں تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ حکومت کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ‘ڈائیلاگ تو اب پاکستان کے عوام کے ساتھ ہو گا، اور ہو رہا ہے، اور اتنا اچھا ہو رہا ہے کہ جو بھی فورسز ہیں اور جعلی حکومت وہ گھبرائے ہوئے ہیں۔ اور اتنا گھبرائے ہوئے ہیں کہ ان کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کیسے ردعمل دینا ہے اور گھبراہٹ میں وہ اس قسم کی غلطیاں کر رہے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ اس ملک کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈر عوام ہیں۔’ مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی سیاست بند گلی کی جانب نہیں جا رہی۔ ‘میرا خیال ہے کہ بند گلی کی طرف وہ لوگ جا رہے ہیں جنھوں نے یہ مصنوعی چیز بنانے کی کوشش کی، ہم تو جہاں جا رہے ہیں، چاہے وہ گوجرانوالہ ہے، کراچی ہے، کوئٹہ ہے یا گلگت بلتستان ہر جگہ ایک ہی بیانیہ گونج رہا ہے اور وہ ہے ووٹ کو عزت دو اور ریاست کے اوپر ریاست مت بناؤ۔’ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘عوام نے اس کا ثبوت جگہ جگہ دیکھ لیا، اب یہ بند گلی نہیں ہے، اب یہی راستہ ہے، اور یہ راستہ آئین و قانون کی بالادستی کی جانب جا رہا ہے۔’
اس بات پر کہ بلاول بھٹو کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ نواز شریف کی جانب سے انتخابات میں فوج کی مداخلت کے ثبوت سامنے لانے کے منتظر ہیں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ‘میاں صاحب نے بات بعد میں کی ہے اور ثبوت خود عوام کے سامنے آئے ہیں، شوکت عزیز صدیقی، جج ارشد ملک اور ڈان لیکس کی حقیقت آپ کے سامنے ہے جب آپ ایک چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں کرتے تو وہ ڈان لیکس جیسی ایک جھوٹ پر مبنی چیز کھڑی کر دیتے ہیں۔’ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک اپنا مؤقف ہے، پاکستان مسلم لیگ ن کا اپنا موقف ہے جو میاں صاحب نے واضح کر دیا ہے۔‘ کراچی میں اپنے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے لیے آئی جی سندھ پر عسکری حکام کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ اور اس کی تحقیقات کے بعد فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز پر ردِ عمل دیتے ہوئے مریم نے کہا کہ ‘اس پریس ریلیز سے عوام کو جواب نہیں ملے، مزید سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔ آپ قوم کو یہ کہہ رہے ہیں کہ کچھ جذباتی افسران نے عوامی دباؤ کا ردِعمل دیتے ہوئے یہ کیا۔ کون سا عوامی ردِ عمل تھا، وہ جعلی لوگ جنھوں نے مقدمہ درج کروایا اور پھر مدعی ہی بھاگ گیا، ان تین چار لوگوں کے دباؤ کو آپ عوامی دباؤ کہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ عوامی ردِ عمل کا جواب دینا آئین کے مطابق اداروں کا کام نہیں منتخب حکومت کا کام ہے۔ اداروں کا کام اپنی پروفیشنل ذمہ داریاں نبھانا ہے ناکہ جذبات دکھانا۔ ’اداروں کا کام جذبات کے ساتھ نہیں ہے، اور ان کا کام ہے اپنی آئینی اور پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانا ہے اس میں جذبات کا کوئی عمل دخل نہیں اور اگر واقعی کسی نے یہ جذبات میں آ کر کیا ہے تو یہ تو ادارے کے لیے اور پاکستان کے لیے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ایسا نہیں ہوا، چند جونیئر افسران کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا، یہ غلط بات ہے۔’ ان ہاؤس تبدیلی یا مائنس عمران خان فارمولے کی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘مائنس عمران خان دیکھا جائے گا میں اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہوں گی لیکن جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا۔ اس حکومت کے ساتھ بات کرنا گناہ ہے۔ اس ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے عمران خان اور حکومت کو گھر جانا ہو گا اور نئے شفاف انتخابات کروائے جائیں اور عوام کی نمائندہ حکومت آئے۔’پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مفاہمت کا راستہ کھلا رکھنے پر بات کرتے ہوئے انھوں کہا کہ ‘میری نظر میں عمران خان اور پی ٹی آئی کوئی بڑا مسئلہ اس لیے نہیں ہیں کیونکہ میں انھیں سیاسی لوگ نہیں سمجھتی۔ میرا اور میری جماعت کا مقابلہ اس سوچ کے ساتھ ہے جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں، وہ ہر اس چیز کی نمائندگی کرتے ہیں جس کا پاکستان سے خاتمہ ہونا بہت ضروری ہے۔ اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ تحریک انصاف کے ساتھ کسی بھی قسم کا اتحاد انھیں معافی دینے کے مترادف ہو گا جو میری نظر میں جائز بات نہیں ہے۔ میری نظر میں اب ان کے احتساب کا وقت ہے، ان کے ساتھ الحاق کا وقت نہیں ہے۔ یہ ان کے ساتھ انتخابی اتحاد کا وقت نہیں۔ اب جب کہ وہ کمزور ہو گئے ہیں۔ تاہم باقی جماعتوں کے ساتھ بات کی جا سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button