باجوہ کی عمران کے الزامات کا منہ توڑ جواب دینے کی دھمکی

سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے عمران خان کے الزامات کے جواب میں کہا ہے کہ ان کا منہ توڑ جواب دیا جا سکتا ہے لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال خاموش رہنے کی قانونی پابندی آڑے آ جاتی ہے۔ عمران خان کی جانب سے مسلسل جنرل باجوہ کے خلاف الزامات پر تبصرہ کرتے ہوئے جنرل باجوہ کے قریبی ذرائع نے سینئر صحافی انصار عباسی کو بتایا ہے سابق آرمی چیف کے پاس عمران کے سیاسی عروج کی داستان کے علاوہ ان کی حکومت کے قصوں سمیت سنانے کو بہت کچھ ہے۔ لیکن وہ قانونی ضابطہ اخلاق کی وجہ سے عمران کے جھوٹے الزامات کا عوام میں جواب نہیں دے سکتے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ وقت آنے پر سب کچھ کھول کر رکھ دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ جنرل باجوہ اب عمران خان کا مرکزی ٹارگٹ ہیں۔ خان اب نہ صرف باجوہ کو اپنی حکومت کی تمام ناکامیوں کی واحد وجہ قرار دیتے ہیں بلکہ یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ انہوں نے امریکی سازش کے تحت انکی ‘اچھی بھلی چلتی ہوئے حکومت کو گرانے دیا۔ اگرچہ عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ جنرل باجوہ ہی تھے جو نیب کو کنٹرول کر رہے تھے اور سیاستدانوں کی گرفتاری اور رہائی کا فیصلہ کر رہے تھے، لیکن دوسرے فریق کا اصرار ہے کہ عمران خان وزارت عظمیٰ کے دوران تمام اپوزیشن مخالفین کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ جنرل باجوہ جب بولیں گے تو ان کے پاس بتانے کے لیے اس سے مختلف الزامات نہیں ہوں گے جو سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے تب کے وزیر اعظم عمران خان پر لگائے تھے۔ یاد رہے کہ بشیر میمن نے الزام لگایا تھا وزیر اعظم نے اپنے مخالفین کو گرفتار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا، ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم بھی جنرل باجوہ سے اپوزیشن کے متعدد سیاستدانوں کو گرفتار کرنے کا کہہ رہے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ جب باجوہ نے کہا کہ وہ یہ کیسے کر سکتے ہیں تو خان نے جنرل مشرف اور ان کے دور حکومت میں ان کے سیاسی مخالفین سے نمٹنے کے مشرف دور کا حوالہ دیا تھا۔ اس پر باجوہ نے عمران کو بتایا تھا کہ مشرف ایک ڈکٹیٹر تھے جب کہ وہ ایک سویلین حکومت کی سربراہی کر رہی ہے۔ اس پر جنرل باجوہ نے خان سے کہا کہ وہ جو بھی کرنا چاہیں اس کا تحریری طور پر حکم دیں۔ تاہم خان نے ایسا نہیں کیا۔
جنرل باجوہ کے قریبی ذرائع کا الزام ہے کہ نیب کو تب کے وزیراعظم نے بیرسٹر شہزاد اکبر اور ایک خفیہ ادارے کے سربراہ کے ذریعے کنٹرول کیا تھا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ جب نئے ڈی جی آئی ایس آئی نے وزیر اعظم عمران خان سے پہلی ملاقات کی تو انہوں نے ان سے پاکستان کے سب سے بڑے مسئلے کے بارے میں پوچھا تھا۔ ندیم انجم نے خان کو بتایا کہ ’معیشت سب سے بڑا مسئلہ ہے‘۔ لیکن خان نے جواب دیا ’نہیں، اپوزیشن سب سے بڑا مسئلہ ہے‘۔ریٹائرڈ جنرل کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ایک موقع پر پی ٹی آئی کے کئی وزراء کی موجودگی میں باجوہ نے عمران خان کو ان کے تمام مخالفین کو مزہ چکھانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ باجوہ سابق وزیر اعظم کو مشورہ دیتے رہے ہیں کہ وہ سیاسی انتقام کی بجائے معیشت بہتر کرنے پر توجہ دیں۔
جنرل باجوہ کو پروجیکٹ عمران کا خالق قرار دیے جانے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے سابق آرمی چیف کے قریبی ذرائع نے کہا کہ یہ پروجیکٹ‘ انہوں نے نہیں بلکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے تقریباً ایک دہائی قبل شروع کیا تھا۔ ان کا کہنا یے کہ پی ٹی آئی کا 2014 کا اسلام آباد دھرنا بھی پراجیکٹ عمران کا حصہ تھا جس کا بنیادی مقصد خان کو اقتدار میں لانا تھا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ عمران خان کے دور میں باجوہ کی اسٹیبلشمنٹ نے خان کا ایسا ساتھ دیا جیسا پہلے کبھی نہیں ہوا اور وزیر اعظم ہوتے ہوئے، خان نے بار بار اس کا اعتراف کیا۔ اپنے خالق کی خدمات کے اعتراف میں عمران نے جنرل باجوہ کو اب تک کا بہترین آرمی چیف قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی تھی۔ اس دوران عمران خان نے جنرل باجوہ کو تین سال کی توسیع دی اور آئین میں ترمیم کی، اپنی حکومت کو بچانے کے لیے اس سال مارچ میں عمران نے جنرل باجوہ کو ایک اور توسیع کی آفر کی تھی۔ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم ایک پریس کانفرنس میں بتا چکے ہیں کہ عمران خان نے جنرل باجوہ کو تاحیات آرمی چیف رہنے کی آفر کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل باجوہ کو غدار اور جانور قرار دینے کے باوجود اسی سال اکتوبر میں عمران خان نے ایک مرتبہ پھر یہ تجویز پیش کی کہ باجوہ کو اگلے الیکشن کے بعد نئی حکومت کے قیام تک آرمی چیف کے عہدے پر برقرار رہنے دیا جائے۔ تاہم حکومت نے اس تجویز کو سختی سے رد کر دیا تھا۔
دوسری جانب جنرل باجوہ نے اپنی ریٹائرمنٹ سے کچھ روز قبل اعتراف کیا تھا کہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ نے سنگین غلطیاں کیں جن میں سب سے بڑی غلطی سیاست میں مداخلت کرنا تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ ایک ادارے کے طور پر فوج نے فروری 2021 میں غیر سیاسی ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ جنرک باجوہ اس کے بعد بھی دو برس تک مسلسل سیاست کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج انہیں ہر جانب سے لعن طعن کا سامنا ہے۔
