بالآخر عمران خان نے سوشل میڈیا مخالف قوانین کا نفاذ روک دیا

بین الاقوامی سوشل میڈیا کمپنیوں کی طرف سے پاکستان میں اپنی سروسز بند کرنے کی دھمکی ملنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں نافذ کردہ سوشل میڈیا قوانین کے نفاذ پر عملدرآمد روکنے کا حکم دے دیا ہے۔
یاد رہے کہ اظہار رائے کی آزادی کے بلند و بانگ دعوے کرنے والی کپتان حکومت نے مین سٹریم میڈیا کے بعد سوشل میڈیا کی آواز دبانے کے لئے نئے سوشل میڈیا قوانین نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد اندرون اور بیرون ملک سے اس فیصلے کی شدید مخالفت سامنے آئی تھی اور اسے ایک آمرانہ اقدام قرار دیا گیا تھا۔
اب یہ حکومتی اعلان سامنے آیا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کی آزادی اظہار کے حق کو یقینی بنائے جانے کے نام پر متعارف کروائے جانے والے اینٹی سوشل میڈیا قانون کا نفاذ وزیر اعظم نے وقتی طور پر ملتوی کر دیا ہے۔ حکومت کا موقف تھا کہ وزارت انسانی حقوق کی طرف سے تیار کردہ بل کا مقصد ’صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے آزادی اظہار، تحفظ، آزادی، غیر جانبداری کو فروغ دینا اور موثر طریقے سے یقینی بنانا ہے‘۔
اب کابینہ نے اس قانون کو وزارت اطلاعات کے تیار کردہ پہلے بل کے ساتھ یکجا کرنے اور ضروری تبدیلیوں اور ایک بل کی شکل میں ڈھالنے کے لیے وزارت قانون کو بھجوانے کی منظوری دے دی ہے۔ یاد رہے کہ سوشل میڈیا کو نکیل ڈالنے اور ریاستی پالیسی کا تابع بنانے کے لئے حکومت نے حال ہی میں متنازع ترین سوشل میڈیا قوانین متعارف کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وفاقی کابینہ نے سوشل میڈیا سے متعلق نئے قواعد کی منظوری دی تھی جن کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو کہا گیا تھا کہ وہ تین ماہ کے اندر پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کریں اور سوشل میڈیا صارفین کی سرگرمیوں کے حوالے سے حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائیں۔
تاہم دوسری جانب سوشل میڈیا کمپنیاں بھی اس نا انصافی کے خلاف ڈٹ گئیں اور پاکستان میں اپنی سروسز بند کرنے کی دھمکی دے دی۔ اس کے بعد فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل سمیت سوشل میڈیا انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم ’ایشیا انٹرنیٹ کولیشن‘ نے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک خط میں نئے سوشل میڈیا قواعد پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ خط میں کہا گیا تھا کہ ان قواعد کی روشنی میں سوشل میڈیا کمپنیوں کےلیے مشکل ہوگا کہ وہ اپنی خدمات پاکستانی صارفین اور کاروبار کو مہیا کر سکیں۔ وزیراعظم عمران خان کے نام خط میں تنظیم کے مینجنگ ڈائریکٹر جیف پین نے لکھا کہ دنیا کے کسی اور ملک نے اس طرح کے وسیع البنیاد قواعد نہیں بنائے، اس لیے خدشہ ہے کہ کہیں اس سے پاکستان دنیا بھر میں تنہا نہ ہو جائے اور پاکستانی صارفین اور کاروباری حضرات خواہ مخواہ انٹرنیٹ کی معیشت کے فوائد سے محروم نہ رہ جائیں۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ان قواعد کو ختم نہ کیا گیا تو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔ دوسری طرف امریکی محکمہ خارجہ کے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایلس ویلز سے منسوب ایک جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نئی پابندیاں اظہار رائے اور ڈیجیٹل اکانومی کےلیے ایک دھچکہ ہو سکتی ہیں۔ اگر پاکستان اتنے ابھرتے ہوئے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاروں اور نجی تخلیق کی حوصلہ شکنی کرے گا تو یہ بدقسمتی ہوگی۔‘ بیان میں تجویز کیا گیا ہے کہ پاکستان کو اس حوالے سے متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورت کرنی چاہیے۔
ان حالات میں خدشہ ہے کہ اگر حکومت اپنی ضد پر قائم رہی تو نہ صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ملنے والا کروڑ ڈالر کا خطیر زرِمبادلہ چھن جائے گا اور نوجوان نسل میں بیروزگاری بڑھے گی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بھی بری طرح متاثر ہوگا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق انہی خدشات اور تحفظات کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا قوانین کا نفاذ ملتوی کردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button