بالآخر پرویز خٹک کا بھی PTIچھوڑنے کا فیصلہ؟

تحریک انصاف کی صفوں میں انتشار کھل کر سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔ عمران خان نے اب اپنے ماضی کے قریبی ساتھیوں پر بھی وار کرنا شروع کر دئیے ہیں جبکہ سابق رازداروں نے بھی مقابلے کیلئے کمر کس لی ہے۔ مستقبل قریب میں اس صورتحال میں شدت آنے کا امکان ہے۔عمران خان کی تازہ محسن کشی کا نشانہ سابق وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک بنے ہیں۔ تاہم شوکاز نوٹس کے اجراء اور عمرانڈو رہنماوں کی تنقید کے بعد پرویز خٹک نے نہ صرف تحریک انصاف سے فوری علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے بلکہ ناقدین کو منہ توڑ جواب دینے کی بھی وارننگ دے دی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما پرویز خٹک نے یکم جون کو پارٹی کی صوبائی صدارت سے استعفٰی دیا تو ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کرنے لگیں، اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ اپنی جماعت بنانے کی کوشش میں ہیں جبکہ اسی سلسلے میں خیبر پختونخوا کے مختلف رہنماؤں سے رابطے بھی کیے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے سابق صوبائی وزیر نے بھی تصدیق کی کہ پرویز خٹک نے پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں سے رابطے کر کے انہیں پارٹی چھوڑنے کی ترغیب دی ہے۔

 اس کے بعد مرکزی سیکریٹری جنرل عمر ایوب کی جانب سے پرویز خٹک کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری ہوا جس میں ان پر پی ٹی آئی رہنماؤں کو جماعت سے الگ ہونے کی ترغیب دینے کا الزام لگایا گیا، اور ان سے سات روز میں جواب طلب کیا گیا ہے جبکہ ایسا نہ ہونے پر کارروائی بارے خبردار کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئےسابق وزیراعلٰی کے معاون خصوصی عبدالکریم نے موقف اپنایا کہ ’میرے بارے میں سب کو علم ہے اسی لیے مجھ سے رابطہ نہیں ہوا اور نہ کریں گے۔‘انہوں کے مطابق ’پرویز خٹک کو شوکاز نوٹس ملا ہے بہتر ہے وہ اس کا جواب دیں۔‘

ڈی آئی خان سے سابق صوبائی وزیر فیصل امین گنڈا پور نے کہا کہ ان کی فیملی کے بارے میں سب جانتے ہیں اسی لیے کوئی رابطہ کرنے کی زحمت نہیں کرتا۔’ہم عمران خان کے نظریے پر قائم ہیں اور رہیں گے۔‘

تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شوکت یوسفزئی نے بھی اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے پرانے کارکن ہیں اور کوئی انہیں پارٹی چھوڑنے کا نہیں کہہ سکتا۔ان کے مطابق ’رہنماؤں کے آپس میں رابطے ہیں مگر اس حوالے سے کسی نے رابطہ نہیں کیا۔‘

خیبرپختونخوا کے ایک اور سابق وزیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ ’پرویز خٹک نے پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں سے رابطہ کر کے انہیں اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی ہے مگر بیشتر رہنماؤں نے رضامندی ظاہر نہیں کی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ڈی آئی خان سے سابق ایم پی اے احتشام جاوید اور ایک سابق ایم پی کو اسلام آباد بلا کر ان کو اپنے ساتھ ملانے کی دعوت دی گئی تاہم انہوں نے بھی ہامی نہیں بھری۔‘سابق صوبائی وزیر کے مطابق پرویز خٹک پی ٹی آئی کے ضلعی رہنماؤں اور یوتھ ونگ کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر کے انہیں بھی پارٹی چھوڑنے کی ترغیب دے چکے ہیں۔

 پی ٹی آئی کے ایک اور عہدیدار نے انکشاف کیا کہ پرویز خٹک کی شکایت پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما نے ہی آگے پہنچائی ہے، شاید ان کو بھی پارٹی سے علیحدگی کا مشورہ دیا گیا تھا۔

دوسری جانب جانب پی ٹی آئی کے وائس چیرمین شاہ محمود قریشی نے پشاور ہائیکورٹ میں 22 جون کو میڈیا سے گفتگو کرتے کوئے کہا کہ پرویز خٹک ہمارے ساتھی ہیں اور ان کا اپنا قد کاٹھ ہے۔ پارٹی نے ان کو نوٹس دیا ہے امید اس کا جواب دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ’پرویز خٹک کے جواب سے ان کے ذہن کی عکاسی ہو جائے گی۔‘

دوسری جانب سنئیر صحافی شمیم شاہد نے اس حوالے سے  بات کرتے ہوئے کہا کہ پرویز خٹک ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں وہ حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ’پرویز خٹک اپنا گروپ مضبوط بنا کر جہانگیر ترین سے اتحاد کی کوشش کریں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے بعض رہنما پرویز خٹک کے ہم خیال ہیں جو عین ممکن ہے کہ ان کے ساتھ چلے جائیں۔

دوسری جانب تحریک انصاف کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد اگرچہ پرویز خٹک کی جانب سے کوئی باقاعدہ رد عمل تو سامنے نہیں آیا تاہم سوشل میڈیا پر ان کے نام سے منسوب ایک بیان ضرور زیر گردش ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل اپنے بیان میں پرویز خٹک کا عمران خان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہنا ہے کہ عمران خان مجھے شوکاز نوٹس کا شوق پورا کرلیں ، لیکن مجھے آنکھیں دکھانے والے عمران نیازی کی اتنی حیثیت نہیں .. میں جب سیاست میں آیا عمران نیازی کرکٹ کھیلتا تھا۔ پرویز خٹک کا مزید کہنا تھا کہ عمران نیازی کو بچانے کے وعدے کرنے والے اب اسکا فون بھی اٹینڈ نہیں کرتے۔ اب بھی وقت ہے عمران خان سیاست سے ریٹائر منٹ لیں اور خود کو قانون کے حوالے کرکے کیسز کا سامنا کریں تو پارٹی بچ سکتی ہے۔ پرویز خٹک کا مزید کہنا ہے کہ سیاست بچوں کا کھیل نہیں، خیبر پختونخواہ میں 2013 کو حکومت میں نے بنائی تھی ، اب دیکھتا ہوں عمران نیازی خیبر پختونخواہ سے کتنی سیٹیں نکالتا ہے، عمران نیازی کو کھل کر بولا تمہارا کام تمام ہوگیا ہے۔ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ عمران نیازی کی سیاست پاکستان میں مزید دو مہینے تک کی مہمان ہے ، دو مہینے بعد تحریک انصاف کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان جتنا جھوٹا آدمی پاکستان میں نہیں دیکھا میرے پاس وزارت دفاع تھا نہ کہ وزارت جھوٹ کا دفاع۔۔۔کارکن بھی عمران خان کے جھوٹ سے تنگ آگئے ہیں جھوٹ کا دفاع نہیں کرسکتے نہ ہی ملک میں انار کی وشرپسندی پھیلا سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ یکم جون کو پرویز خٹک نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں تحریک انصاف کی صوبائی صدارت سے استعفٰی دیا تھا، تاہم پارٹی سے علیحدگی کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا۔

Back to top button