جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ہاتھوں جسٹس بندیال کی ٹھکائی

نامزد چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایک بار پھر جسٹس بندیال کو چارج شیٹ کرتے ہوئے ان کی بینڈ بجا دی۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے نہ صرف جسٹس بندیال کی طرف سے کی جانے والی آئین شکنیوں کو کھل کر بیان کر دیا بلکہ جسٹس بندیال کی آمرانہ ذہنیت اور اپنے خلاف کی جانے والی زیادتیوں اور ہتک آمیز سلوک کو بھی سامنے لے آئے۔ تاہم جسٹس عمر عطا بندیال نے چھوٹے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر 9 رکنی لارجر بنچ کے معاملے پر سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نوٹ عدالت کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کے کچھ دیر بعد ہی ہٹوا دیا۔30 صفحات پر مشتمل اپنے نوٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نو رکنی بنچ پر اعتراضات اٹھائے تھے۔

سپریم کورٹ کے نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے نوٹ میں لکھا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کے دیگر ججوں کو غیر ضروری کشمکش میں الجھا دیا ہے حالانکہ سپریم کورٹ کے سربراہ ہونے کے ناطے انہیں ایسا کرنے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے پاس اس بات پر زور دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ سپریم کورٹ جیسے آئینی اداروں کو کسی فرد کی خواہشات پر چھوڑ کر اسے ’ون مین شو‘ نہیں بننے دیا جانا چاہیے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اس بیان کے ساتھ اس سے پہلے کے نوٹس اور احکامات بھی منسلک کیے گئے ہیں، یہ وہی بیان ہے جو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جمعرات (22 جون) کو عدالت میں اُس 9 ججوں پر مشتمل بینچ پر اعتراضات کا اعلان کرنے سے پہلے پڑھ کر سنایا تھا جس کا وہ خود حصہ تھے۔جمعرات کو یہ بیان پڑھنے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنی نشست سے کھڑے ہو گئے تھے اور کہا تھا کہ وہ بینچ سے دستبردار نہیں ہو رہے لیکن وہ بینچ میں بیٹھیں گے بھی نہیں۔

ویب سائٹ سے ہٹائے گئے نوٹ میں کہا گیا کہ یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ جب سے 14 اپریل کو سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کا نفاذ معطل کیا ہے، میں نے بینچ میں نہ بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے اور خود کو چیمبر کے کام میں مصروف کرلیا۔جسٹس فائز عیسیٰ نے مشاہدہ کیا کہ چونکہ میں قانون کی معطلی کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتا، اس لیے جب تک عدالت قانون کی خلاف ورزیوں کے بارے میں فیصلہ نہیں کرتی، میں بینچوں پر نہیں بیٹھوں گا۔

انہوں نے کہا کہ کہ اگر میں 9 ججوں پر مشتمل بینچ کا حصہ ہونے کے ناطے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف موجودہ کیس سنتا ہوں تو میں خود اس قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہوں گا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کا سیکشن 2 صرف چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے 2 سینیئر ترین ججوں پر لاگو ہوتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ جسٹس سردار طارق مسعود نے بھی شروع میں بنچوں پر بیٹھنے سے گریز کیا تھا جب یہ قانون بنایا گیا تھا لیکن بعد میں جسٹس سردار طارق مسعود نے مقدمات کی سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا کیونکہ مقدمات کا بیک لاگ بڑھ رہا تھا تاہم انہوں نے ایسے مقدمات کی سماعت نہ کرنے کا فیصلہ کیا جو آئین کے آرٹیکل 184(3) کو استعمال کرتے ہوئے دائر کیے گئے تھے جوکہ بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق ہے۔جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا ہم دونوں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کا احترام کرتے ہیں، سپریم کورٹ کے سب سے سینیئر جج ہونے کے ناطے سمت درست رکھنا میرا فرض ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج تک چیف جسٹس نے میرے مؤقف کی تردید نہیں کی بلکہ انہوں نے تو میری رائے کا جواب دینا بھی گوارہ نہ کیا۔

بیان میں آڈیو لیکس کی انکوائری کے لیے 19 مئی کو جسٹس فائز عیسیٰ کی تین رکنی عدالتی کمیشن کے سربراہ کے طور پر تعیناتی کا بھی حوالہ دیا گیا تھا لیکن چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے اس کی کارروائی روک دی تھی، جبکہ اس حقیقت کے باوجود کہ ایک آڈیو لیک کا تعلق چیف جسٹس کی ساس سے بھی ہے، اس کیس کی دوبارہ سماعت 31 مئی کو ہوئی لیکن بعدازاں سماعت کی نئی تاریخ مقرر کیے بغیر ملتوی کر دی گئی۔چونکہ کمیشن کو نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا، اس لیے اس کے سیکریٹری کے ذریعے بینچ کے سامنے ایک جامع بیان پیش کیا گیا جس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے سیکشن 2 پر روشنی ڈالی گئی، اس میں بینچوں کی تشکیل کا معاملہ چیف جسٹس کی صوابدید پر چھوڑنے کے بجائے اس مقصد کے لیے 3 سینیئر ججز پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔جسٹس فائز عیسیٰ نے وضاحت کی کہ چیف جسٹس نے مجھے ایک مخمصے میں ڈال دیا ہے اس مخمصے سے تب ہی نکلا جاسکتا جب پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ ہو جائے یا کم از کم اس قانون کے نفاذ کے خلاف حکم امتناع واپس لے لیا جائے۔ سینیئر جج کا یہ بھی کہنا تھا کہ تین تین خصوصی بینچ بلاشبہ ایک خاص فیصلہ حاصل کرنے کے لیے بنایا گیا

جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے نوٹ میں مقدمات کی سماعت، مخصوص فیصلوں کیلئے من پسند ججز پر مشتمل بنچوں کی تشکیل اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے آمرانہ رویے کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے۔

تاہم نامزد چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فوجی عدالتوں کے حوالے سے بننے والے 9 رکنی بینچ پر اعتراض پر مبنی 30 صفحات پر مشتمل نوٹ اپ لوڈ ہونے کے کچھ ہی دیر بعد سپریم کورٹ کی ویب سائٹ سے ہٹادیا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں عام شہریوں کے خلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جانے کے خلاف دائر درخواستوں پر 9 رکنی لارجر بینچ نے کارروائی شروع کی تو سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بینچ ن کھڑے ہوکر کہا کہ وہ اس بینچ کو تسلیم کرتے۔ اس بنچ کی تشکیل غیر قانونی ہے۔ بعد ازاں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے 7 رکنی بینچ تشکیل دے کر سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

Back to top button