’’بچپن سے جوانی تک مدمقابل رہنے والے دو بھارتی ڈانسر‘‘

دو فلمی گھرانوں کے چشم و چراغ بچپن اورنوجوانی کی عمر سے ہی ایک دوسرے کے مدمقابل تھے، ہمیشہ فیملی تقریبات کے دوران دونوں میں ڈانس کا مقابلہ ہوتا تھا جس کو فیملی ممبرز کو انتظار رہتا، جی ہاں یہ دو چشم و چراغ بھارتی معروف ادادکار ہریتک روشن اور ادیتہ چوپڑہ تھے۔
ہر برتھ ڈے پارٹی کے بعد سب کو انتظار ہوتا تقریب کے اس حصے کا جس میں دو رقاص ہمیشہ کی طرح ایک دوسرے کے مقابل ہوتے۔ان میں ایک رقاص تو ایسا ماہر تھا کہ گزشتہ کئی برسوں سے ایک ہی مقابل کو مسلسل شکست دیتا چلا آ رہا تھا، اب یہ فاتح رقاص، جھومتا تو جیسے چھوٹے بڑے سبھی مہمان بس دم بخود اسے دیکھتے رہتے۔
تھرکتے ہوئے اس کے قدم، ہاتھ اور جسم موسیقی کی ایک ایک لے کا ساتھ دیتے اور پھر دونوں رقاصوں کے درمیان مقابلہ اختتام کو پہنچتا توسبھی مہمانوں کی رائے میں یہی ماہر کم سن لڑکا مقابلے کا فاتح قرار دیا جاتا۔
اس رقاص کم عمر لڑکے کا ابتدائی تعارف یہ تھا کہ وہ رومانی فلموں کے ہدایت کار یش چوپڑہ کا سب سے بڑا بیٹا ادتیہ چوپڑہ تھا، عمر کوئی 12، 14 سال ہوگی۔ گھریلو فلمی ماحول ہونے کی وجہ سے شوبزنس کی دنیا سے لگاؤ تو فطری عمل تھا۔ دوسری جانب ہر بار ہار کا داغ سہنے والا بھی کوئی معمولی لڑکا نہیں تھا۔ یہ اداکار اور ہدایت کار راکیش روشن کا بیٹا اور موسیقار روشن کا پوتا ہریتک روشن تھا۔
یہ 80 کی دہائی کا فسانہ ہے جب سالگرہ کی تقریبات میں فلمی ستاروں کے ننھے منے تارے بھی پوری آب و تاب سے چمکتے۔ ریتیک سے ادتیہ چوپڑہ دو تین سال ہی بڑے تھے اور رقص میں ایسے ماہر اور مشاق کہ امیتابھ بچن کے بیٹے ابھیشک بچن ہوں یا پھر دھرمیندر کے سنی دیول یا پھر کسی اور اداکار کا بیٹا، جب بھی تقریب میں ان سب کا رقص کا مقابلہ کروایا جاتا تو جیت ادتیہ چوپرہ کے نام کے ساتھ سج رہی ہوتی۔
ایک کے بعد ایک کو ہرانے کے بعد آخر میں صرف ریتیک روشن اور ادتیہ چوپڑہ کے درمیان ہی گرینڈ فائنل ہوتا جس میں ناکامی ریتیک روشن کے حصے میں ہی آتی۔کم سن ریتیک روشن کی خواہش ہوتی کہ کسی طرح وہ ادتیہ چوپڑہ کو شکست دیں لیکن ان کی خواہش بس خواہش ہی رہی۔
کرن جوہر جو اس وقت ریتیک روشن اور ادتیہ چوپڑہ کی ہی عمر کے تھے، کا کہنا ہے کہ والد یش جوہر اور والدہ کے ساتھ فلمی تقریبات سے تو وہ دور رہتے لیکن یہ ضرور ہے کہ اگر کسی کی برتھ ڈے پارٹی یا کوئی اور نجی تقریب ہوتی تو وہ ہنسی خوشی اس میں شرکت کرتے کیونکہ وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح ان لمحات کا انتظار کرتے جب ریتیک روشن اور ادتیہ چوپڑہ کا رقص میں ٹکراؤ ہوتا۔
ابھیشک بچپن کی یادوں کو کریدتے ہوئے بتاتے ہیں کہ رقص کے مقابلے کے صرف دو ہی حریف تھے جن کے رقص کا انداز بھی مختلف تھا۔ ایک طرف ادتیہ چوپڑہ تو دوسری طرف ریتیک روشن جو لمبے عرصے تک رقص کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر ہی رہے۔وقت تیزی سے گزرا تو دونوں کی زندگیوں نے بھی پلٹا کھایا۔ رقص میں ہر کسی کو پیچھے چھوڑنے والے ادتیہ چوپڑہ نے پردہ کے بجائے پس پردہ اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا فیصلہ کیا اور آنجہانی والد یش چوپڑہ کے اسٹنٹ بنے اور کچھ ایسا ہی ارادہ ریتیک روشن نے بھی کیا۔
بچپن میں کچھ فلموں میں کام کیا اور پھر والد راکیش روشن کے اسسٹنٹ کی ذمے داری نبھائی، مگر پھر اداکاری کے جنون نے جوش مارا تو راکیش روشن کی ہی فلم ’کہو نا پیار ہے‘ کے ذریعے 1998میں بطور ہیرو آئے تو کامیابی اور کامرانی کا نیا سفر شروع کیا۔
ریتیک روشن کی خصوصیت ان کا رقص ہی رہا کیونکہ کم از کم فلم میں تو انہیں کوئی ہرانے والا نہیں تھا، دلچسپ بات یہ ہے کہ ینگ روشن کی اس پہلی فلم کے تقسیم کار ادتیہ چوپڑہ تھے۔ یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ریتیک روشن نے آج تک خود کو اپنے رقص کے ذریعے ہم عصر ہیروز سے ممتاز بنائے رکھا ہے۔بہرحال بچپن سے جوانی اور اب ڈھلتی ہوئی عمر کو پہنچنے والے ریتیک روشن اور ادتیہ چوپڑہ دونوں اپنے اپنے شعبوں میں اس وقت کامیابی کی شاہراہ پر گامزن ہیں۔

Back to top button