بجلی سپلائی کمپنیوں کا 54 فیصد تک بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ

گھبرانا نہیں..مہنگائی کی چکی میں پسی عوام پر بجلی بم گرنے کو تیار ہے، ملک بھر میں بجلی سپلائی کی ذمہ دار کمپنیوں یعنی ڈسکوز نے نیپرا سے 54 فیصد تک بجلی کی قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے درخواستیں دائر کرنا شروع کردی ہیں.
نیپرا ترمیمی ایکٹ ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹربیوشن آف الیکٹرک پاور ایکٹ کے تحت بجلی کی کمپنیوں کو بجلی کی فراہمی اور ترسیل کے لیے علیحدہ درخواستیں دائر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے.ذرائع کے مطابق نیپرا میں جمع کرائی گئی درخواستوں میں مختلف ڈسکوز کی طرف سے ٹیرف میں 10 سے 54 فیصد تک کا اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے. سکھر الیکٹرک پاور کمپنی نے 10 فیصد، کوئٹہ الیکٹرک پاور کمپنی نے 26 فیصد، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 24 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کے کُل نقصانات 37 فیصد ہیں۔ سب سے زیادہ اضافہ ملتان الیکٹرک پاور کمپنی نے طلب کیا ہے اور ٹیرف میں 54 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 29 ارب روپے اضافی ٹیرف منظوکرنے کی درخواست کی ہے۔ گوجرانوالہ، فیصل آباد اور لاہور سمیت متعدد کمپنیوں کی جانب سے ٹیرف درخواستیں ابھی موصول ہونی باقی ہیں جن پر سماعت دیگر موصول شدہ درخواستوں پر سماعتوں کے بعد ہوگی۔
یاد رہے کہ نیپرا ایکٹ کی دفعہ 23 ای کے تحت ‘پاور سپلائی’ کے لائسنس رکھنے والے بجلی کی فروخت کا کام انجام دیں گے اور سیکشن 20 کے تحت ‘ڈسٹربیوشن’ کے لائسنس کی ملکیت رکھنے والے آپریشن، منیجمنٹ اور صارفین کو ترسیل کے حوالے سے سہولیات پر کنٹرول رکھیں گے۔ واضح رہے کہ ڈسکوز کے پاس اس وقت سیکشن 23 (ای) کے تحت پاور لائسنس موجود ہیں۔ علاوہ ازیں بجلی کی فروخت کے علاوہ اب تنصیب، سرمایہ کاری، آپریشن کی بحالی اور تقسیم کے نیٹ ورک کو کنٹرول کرنے کی تمام سرگرمیاں ڈسٹربیوشن لائسنس کا ایک حصہ بنتی ہیں۔
دوسری جانب فروخت سے متعلق تمام سرگرمیاں یعنی میٹرنگ، بلنگ اور جمع کرنا وغیرہ جو پہلے ڈسٹربیوشن لائسنس کے ذریعہ کی جاتی تھیں اب سپلائی لائسنس کا حصہ ہیں۔ تاہم ڈسکوز کو تقسیم اور فراہمی کی سرگرمیوں کو علیحدہ علیحدہ کرتے ہوئے درخواستیں دائر کرنا پڑیں گی۔
جہاں حکومت نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یعنی آئی ایم ایف سے ٹیرف ایڈجسمنٹ میں تاخیر نہ کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے وہیں زیادہ تر ڈسکوز اب علیحدہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی درخواستیں دائر کر رہی ہیں جس پر ریگولیٹری اتھارٹی فروری 2020 کے دوسرے ہفتے سے سماعت کا آغاز کرے گی.
